کیا آپ باضابطہ مارشل لاء لگوانا چاہتے ہیں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 11 / مارچ / 2022
- 4600
خان عبدالولی خان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ دنیا میں حکومتیں آتی اور جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں عجب دستور ہے جو کرسی پر براجمان ہو جاتا ہے پھر وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ وہ اس کے ساتھ ایسے چپک جاتا ہے جیسے یہ اس کے وجود کا حصہ ہو۔
ولی خاں صاحب کا اشارہ ایک نام نہاد جمہوری لیڈر کی طرف تھا جو یہ کہتا تھا کہ وہ بے شک کمزور ہے مگر اس کی کرسی بڑی مضبوط ہے۔ اپنی اپوزیشن کے متعلق وہ نازیبا زبان استعمال کرتا۔ حتیٰ کہ وہ ان کے نام بھی بگاڑ بگاڑ کر لیتا مگر جب طاقت کے تیور بدلے تو جبر نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ اگر چہ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں اور کچھ نہ اس ’’تبدیلی لبادہ‘‘ نے کام کیا۔ وہ جو ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتا تھا، اندر کی چھپی کہانی یہ ہے کہ وہ بالآخر خود امنتُ بِرَبِ موسیٰ و ہارون کی تمثیل بن گیا مگر نئے جبر نے ایک نہ سنی اور اسے نشان عبرت بنا کر چھوڑا۔
آج پارلیمنٹ لاجز میں پکڑ دھکڑ کرنے والے کاش اس انجام سے عبرت پکڑیں۔ جبر کے متعلق یار لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ کسی مخصوص طبقے یا یونیفارم میں آتا ہے ہٹلر اور مسولینی جیسے بدترین آمر بظاہر جمہوری ڈرامے سے ہی سنگھاسن اقتدار پر براجمان ہوئے تھے۔ ایک بندہ اگر بظاہر الیکشن کے ذریعے برسراقتدار آئے تو اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوتا ہے کہ وہ جمہوری الذہن ہے یا آمریت کا پروردہ نہیں ہے۔ اس کے لچھن یہ بتاتے ہیں کہ اس کی مغرور ذہنیت میں آمریت کا کتنا بڑا کیڑا موجود ہے۔ کچھ افراد تو اندر کے اس کیڑے کو بہت جلد بھانپ لیتے ہیں لیکن چکنی چپڑی باتوں سے محظوظ ہونے والے عوام کو اس کی سمجھ بالعموم تب آتی ہے جب پانی گلے تک پہنچ جاتا ہے اور کئی ایسے بھی ہوتے ہیں پانی جن کے سروں سے گزر جاتا ہے۔
بلاشبہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر اس سے سبق سیکھنے والے لوگ ہمیشہ کم ہی رہے ہیں۔ ہمارے بدنصیب ملک پر ان دنوں جو جبر مسلط ہے درویش پر اس کی ذہنیت ربع صدی قبل ہی آشکار ہوگئی تھی اس کے بعد بہت سے خوش گمان احباب پر اس کی اصلیت واضح کرنی چاہی مگر جو عشق کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہوتے ہیں وہ شعور کی کب سنتے ہیں۔ اب اتنی ٹھوکریں کھانے کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھلی ہیں اور بہت سے لوگ قریب آ کر معذرت خواہانہ لہجے میں کہتے ہیں کہ افسوس ہم نے آپ کی باتوں پر بروقت دھیان نہ دیا۔ آج پھر درویش یہ لکھے دے رہا ہے کہ جبر کی ذہنیت ذلت کے ٹوکرے اٹھائے بغیر رخصت نہیں ہوگی اور نہ نارمل انسانوں کی طرح اس ملک میں رہ پائے گی۔ آج جبر کی یہ کنفیوز ذہنیت غالب کا جو شعر پڑھ رہی ہے، کبھی ایسی ہی شخصیت کو ہم نے یہ شعر پڑھتے عدالت عظمیٰ میں سنا تھا۔ بالکل ویسی ہی تضاد بیانی اور دوغلی اپروچ، ایک طرف خود کو عالمی مدبر ثابت کرنے کی کاوش میں اپنے زوال کی کڑیاں امریکا اور یورپی یونین سے ملائی جا رہی ہیں، جس طرح تب کہاگیا تھا کہ یہ سب کچھ سفید ہاتھی کروا رہا ہے۔ اسی طرح آج کی اندھیر نگری میں دور کی یہ سوجھ رہی ہے کہ میرے خلاف تو عالمی سازش ہو رہی ہے کیونکہ میں غلط موقع پر فلاں طاقت کے چرنوں میں گیا۔ ہوں تو فلاں طاقت جس کی ایک فون کال کے لئے میں منتیں کر رہا تھا اب وہ میرے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔
اس پر یہاں بہت سے ایسے اردو دان بھی ہیں جو اس نوع کے محاورے بولنا نہیں بھولتے کہ ’’کیا پدی اور کیا پدی کاشوربہ‘‘۔ ہماری اردو بھی کیا غضب کی زبان ہے جس نے کبھی ہندوستان کو توڑا پھر پاکستان کوتوڑا اور اب نہ جانے کس کس کو توڑنے جوڑنے جا رہی ہے۔ ایک شخص جو اس کی محبت میں گرفتاری کا دعویدار ہے حالانکہ اسے خود اس کی ادبی چاشنی چھوڑ ابجد کا بھی علم نہیں۔ دن رات دوسری جماعت کی اسلامیات کا ورد کرنے والا اس زبان میں ’’خاتم النبین‘‘ اور ’’روحانیت‘‘ جیسے مبارک الفاظ پڑھنے سے قاصر ہے ’’نشانے‘‘ کو نشت اور ’’کہاوت‘‘ کو کہات بولتا ہے۔ لیکن اپنے مخالف سیاستدان کو خدا کے واسطے ڈالتا ہے کہ اپنے بیٹے کو اردو بولنی تو سکھا دو۔ بارش آتا ہے اور لڑکی جاتا ہے کی نقلیں اتارتا ہے۔ دوسروں کے بچوں کی اردو دانی پر معترض شخص سے کوئی یہ پوچھے کہ خود آپ نے اپنے بچوں کو اپنی یہ محبوب زبان کتنی سکھائی ہے؟
سچائی تو یہ ہے کہ اردو دانی کا طعنہ دینا بنتا ہی نہیں ہے۔ محترمہ کتنی بڑی لیڈر تھیں حالانکہ خامیاں تو ان کی اردو میں بھی تھیں۔ آپ بتایئے جناح صاحب کو کتنی اردو آتی تھی؟ چند الفاظ بھی نہ بول سکتے تھے۔ کسی بھی شخص کے پاس جب صلاحیت اور کارکردگی زیرو ہو تو پھر وہ ایسے ہی نان ایشوز میں الجھتا اور الجھاتا ہے۔ بلکہ اس سےدس ہاتھ آگے بدزبانی پر اتر آتا ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کے متعلق جو زبان ہم دو دہائیوں سے سن رہے ہیں اب اس کا کلائمیکس قابل ملاحظہ ہے جو اندر کی بدصورتی و بدتہذیبی کو آشکار کر رہا ہے۔ حضرت مولانافضل الرحمٰن جیسی قابل صد احترام شخصیت کے متعلق گورنر ہاؤس کراچی کے جلسے میں بولے گئے الفاظ کو کیا کہا جائے؟ جن کے متعلق اب مفادات کے پجاری بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن، مفتی محمود کے آنگن کا وہ پھول ہے جس کی پورے ملک میں مہک ہے۔
لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کوئی شخص جس کی کل جمع پونجی ہی مالشیے پن کی مرہون منت ہو وہ کسی دوسرے کو اس نوع کا طعنہ کیسے دے سکتا ہے؟ اپنی اپوزیشن کے متعلق یہ کیسی زبان استعمال کی جا رہی ہے کہ ’’میرا پہلا نشانہ مسٹر ٹین پرسنٹ ہے، بوٹ پالشیے، شوباز اور فضلو ڈیزل کو بھی نہیں چھوڑوں گا، ان کی گردنیں میرے ہاتھوں میں آگئی ہیں۔ ان کی شکلیں دیکھیں یہ ملک بچانے نہیں خود کو مجھ سے بچانے نکلے ہیں۔ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے، تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کی سیاسی موت ہوگی، میں اس کے لئے خدا سے دعائیں مانگتا رہا، میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اب زنجیر کھل جائے گی۔ یہ گیم وہاں جا رہی ہے جس کا میں ایکسپرٹ ہوں‘‘۔ بھائی اگر آپ اتنے ایکسپرٹ ہیں تو پھر اتنی گھبراہٹ بلکہ بوکھلاہٹ کاہے کی ہے؟
اگر خدا سے اس کی دعائیں مانگتے تھے تو پھر دوسرے منہ سے عالمی سازشیں کیوں کہہ رہے ہو؟ ذرا واضح کرو وہ کونسی زنجیرتھی جس نے آپ کی زبان تو نہیں البتہ ہاتھ باندھ رکھے تھے اب ان ہاتھوں سے آپ اپنے اپوزیشن قائدین کی گردنیں دبوچنا یا دبانا چاہتے ہیں اور زرداری کو بندوق کی سیدھی گولی مارنا چاہتے ہیں۔ پچھلے پونے چار سالہ اقتدار میں آپ نے کتنوں کوگولیوں سے اور کتنوں کو گردنیں دبا کر مارا ہے؟ خدا کی پکڑ سے ڈرو یہاں کتنے آپ سے کہیں بڑے آمر، جابر اور ظالم ہو گزرے ہیں، عالمی تاریخ کے پروفیسر صاحب کوذرا ان کی ہسٹری بھی ملاحظہ فرما لینی چاہیے جو نشان عبرت ہی نہیں بنے تاریخ کے کوڑے دان کا کچرا بن گئے۔ آخر میں محترمہ مریم نواز کی طرف سے نذر کیا گیا یہ شعر :
کبھی عرش پر کبھی فرش پر، کبھی ان کے در، کبھی در بدر
غم کرسی تیرا شکریہ، ہم کہاں کہاں سے گزر گئے