کیا عدم اعتماد کا فیصلہ پارلیمنٹ سے باہر سڑکوں پر ہوگا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 12 / مارچ / 2022
- 13820
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ملک کا سیاسی ماحول ہیجان خیز ہوچکا ہے اور کسی بھی معمولی غلطی سے یہ کسی بڑے سیاسی تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ ابھی تک فریقین نے خود کو زبانی حملوں تک محدود رکھا ہے لیکن زبان و بیان کی شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طرفین سڑکوں پر پنجہ آزمائی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
بدقسمتی سے اگر یہ صورت حال رونما ہوتی ہے تو ملک میں ایک غیر یقینی سیاسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اور جمہوریت کا راستہ مسدد ہوسکتا ہے۔ ماضی کی طرح ایسے کسی بھی اقدام کی ذمہ داری کا بوجھ بہرصورت سیاست دانوں ہی کو برداشت کرنا پڑے گا لیکن حکومت ہو یا اپوزیشن ، بظاہر دونوں اس اندیشےسے لاپرواہ سخت کلامی سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور طاقت کے مظاہرے کے ذریعے مخالف فریق کو زیر کرنے کا اعلان کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لےرہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ معتبر، معمر اور تجربہ کار سیاست دان ایسی گفتگو کے مضمرات سے نابلدہونے کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ اس حوالے سے ماضی کے تجربات سب کے لئے رہنمائی کا باعث ہونا چاہئیں۔
یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول کو اشتعال انگیز اور بدنما بنانے میں کون زیادہ کردار ادا کررہا ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی گفتگو اور طرز عمل حیران کن حد تک پریشانی کا باعث بنا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی درخواست باقاعدہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیش ہونے کے بعد وزیر اعظم یوں آستین چڑھا کر میدا ن میں اترے ہیں گویا یہ کوئی دنگل ہو جس میں کوئی پہلوان محض اپنی جسمانی طاقت کے زور پر کامیابی حاصل کرتا ہے۔ حالانکہ سیاست دان کی طاقت اس کی تلخ کلامی، دھمکیوں اور انتقام کے اعلان میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا تدبر، معاملہ فہمی ، افہام و تفہیم اور مدمقابل کے لئے احترام و شائستگی کے اظہار سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
ان سطور میں عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے لے کر یہ عرض کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ملک میں خوشحالی اور فلاحی اصلاحات کامقصد تصادم کی سیاست سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے قومی ہم آہنگی اور باہمی افہام و تفہیم کی شدید ضرورت ہوگی۔ حکومت سے بارہا گزارش کی جاچکی ہے کہ ملکی معیشت بدستور دباؤ کا سامنا کررہی ہے، اس سے نکلنے کے لئے علاقائی مصالحت کے علاوہ ملکی سطح پر وسیع تر اشتراک عمل کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ صرف اسی صورت میں وہ اپنے قومی فلاحی منصوبوں پر عمل کرسکتے تھے۔ تاہم بدقسمتی سے ایسے مشیر عمران خان کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہوں نے انہیں مفاہمت کی بجائے مخاصمت اور تصادم کے راستے پرگامزن کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت عمران خان کو ایک طرف مرکز میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے، پارٹی کے اندر ناراض اراکین کی تعداد میں اضافہ ہؤا ہے اور حلیف جماعتیں حکومت کو اس مشکل سے بچانے کے لئے جو سیاسی قیمت مانگ رہی ہیں، اسے ادا کرنے میں عمران خان کو اپنے رہے سہے سیاسی اصولوں کی بھی قربانی دینا پڑے گی۔
اس سے زیادہ ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ جس ایم کیو ایم کی قیادت کو وہ لندن جاکر عوام کا قاتل قرار دلوانے کا عزم کیا کرتے تھے اب اپنا اقتدار کو بچانے کے لئے وہ اس کی باقیات کے دفتر میں حاضری دینے پرمجبور ہوئے لیکن وزیر اعظم ہونے کے باوصف انہیں نہ مناسب تکریم دی گئی اور نہ ہی کافی وقت دیا گیا۔ اسی طرح گجرات کے چوہدری برادران سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پر حاضری ضرور دی گئی لیکن اس سے بھی بڑا سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا ۔ اب چوہدری اپنی حمایت کے بدلے میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے کم پر راضی ہونے پر تیار نہیں ہیں۔ یہ وہی چوہدری برادران ہیں جن کی بدعنوانی کے نام نہاد ’دستاویزی ثبوت‘ عمران خان میڈیا ملاقاتوں میں پیش کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے۔ حتی کہ پنجاب اور مرکز میں حکومت سازی کے لئے اسٹبلشمنٹ کے دباؤ میں مسلم لیگ (ق) سے سیاسی الحاق کرنے کے باوجود انہوں نے چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کو مناب تکریم دینا ضروری خیال نہیں کیا۔ انتہائی مجبوری کے عالم میں مونس الہیٰ کو وزیر بنانے سے پہلے وہ انتہائی نازیبا الفاظ میں ان کا ذکر کرتے تھے۔ پھر سیاسی دباؤ کے ایک ریلے میں ایسے شخص کو وزیر بنانا پڑا ، جس کے بارے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ انہیں ’اس کی شکل پسند نہیں‘۔
یہ تبصرہ نہ صرف انسانی حرمت کے منافی تھا بلکہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز کسی قومی لیڈر کو اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ الفاظ استعمال کرنا زیب نہیں دیتا۔ لیکن عمران خان نے مقبولیت کے گمان اور طاقت کے گھمنڈ میں کبھی اپنے ناجائزطرز عمل پر غور کرنے یا اس کی اصلاح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔تحریک عدم اعتماد کے شور و غوغا میں انہیں ایک جلسہ میں مونس الہیٰ کا یہ مشورہ بھی سننا پڑا کہ ’عمران خان اپنے لوگوں سے کہہ دیں کہ انہوں نے گھبرانا نہیں ہے‘۔ وزیر اعظم اس فقرہ کے بین السطور طنز کو نہیں سمجھ سکے یا اسے نظر انداز کرنا ان کی سیاسی مجبوری تھی۔ جوابی تقریر میں سیاسی حمایت پر انہوں نے چوہدری برادران کی سیاسی ذہانت و اصول پرستی کی تعریف کرتے ہوئے زمین آسمان کے قلابے ملائے ۔
ساڑھے تین سالہ اقتدار کے دوران عمران خان کو علیل چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کا خیال نہیں آیا اور نہ ہی کبھی فون پر ان کی خیریت دریافت کی لیکن اپوزیشن کے دباؤ میں وہ وزیروں کی فوج کے ہمراہ چوہدریوں کے ’ڈیرے‘ تک جا پہنچے۔ تاہم چوہدریوں کے ہاں حاضری اور ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر کے دورے سے مطلوبہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا کیوں کہ عمران خان بدستور اسی گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کا کسی کے گھر یا دفتر جانا بجائے خود اتنا بڑا ’اعزاز‘ ہے کہ میزبان کے پاس ان کی حمایت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ یہ غیر سیاسی رویہ اب عمران خان کے پاؤں کی زنجیر بنتا جارہا ہے۔ لاہور کے علیم خان جو کل تک عمران خان کے قصیدے پڑھتے تھے اور تحریک انصاف کی مالی معاونت کرنے والوں میں سر فہرست تھے، اب لندن میں اسی لیڈر سے سیاسی جوڑ توڑ کررہے ہیں جنہیں ’بھگوڑا‘ کہہ کر عمران خان اپنا سیاسی قد بلند کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
عمران خان کو اپنی عوامی مقبولیت کا گمان ہے۔ وہ ضرور مقبول لیڈر ہیں لیکن ان کی مقبولیت امیدوں کے امتحان پر پوری نہیں اتری ، اس لئے اس میں کمی ہونا فطری امر ہے۔ دوسری طرف عمران خان یہ تسلیم کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں کہ کہ نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان بھی اپنے حلقہ اثر میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس مقبولیت کا ایک اشارہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ان پارٹیوں کی نمائیندگی ہے اور اس کا دوسرا اشارہ ہے یہ ہے کہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مقبولیت بدستور موجود ہے۔ عمران خان کو اپنی مقبولیت کے گمان میں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ دوسرے لیڈروں کو بھی عوامی پزیرائی حاصل ہے اور نہ ہی وہ اس کی وجوہ پر غور کرنے پر آمادہ ہیں۔
موجودہ سنگین سیاسی تصادم کی صورت حال میں آئی ایس پی آر کے تازہ ترین بیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فوج سیاسی پنجہ آزمائی میں کسی ایک فریق کے پلڑے میں اپنا وزن نہیں ڈالے گی۔ حکومت کے لئے اس بیان کا وقت سبق آموز بلکہ ’خطرے کی گھنٹی‘ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ میجر جنرل بابر افتخار کا یہ بیان وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے اس دعوے کے ایک روز بعد سامنے آیا تھا کہ ’فوج آئینی طور سے حکومت وقت کی اطاعت کرنے کی پابند ہے‘۔ بدقسمتی سے وزیر اطلاعات نے یہ بتاتے ہوئے تحریک انصاف کے سوا اپوزیشن کی سب پارٹیوں کو ’بھارت کا ایجنٹ‘ اور فوج کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان کے اس دعوے کی تردید اب خود پاک فوج کے ترجمان نے کردی ہے۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے دیر میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خود یہ ’انکشاف‘ کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان سے کہا ہےکہ انہیں مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے‘۔ وزیر اعظم کے الفاظ تھے کہ ’ جنرل قمر جاوید باجوہ سے حال ہی میں بات چیت کے دوران انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں فضل کو ڈیزل نہ کہا کروں۔ لیکن یہ میں تو نہیں کہتا بلکہ یہ نام تو عوام نے انہیں دیا ہے‘۔ اس بیان سے وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ نہ تو وہ کسی اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ ہونے والی غیر رسمی گفتگو کا احترام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، نہ وہ باہمی احترام کو سیاسی وضع داری کا بنیاد نکتہ سمجھنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حال ہی میں خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کے حامیوں نے تحریک انصاف کو دھول چٹوائی ہے۔ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ایسی سیاسی رعونت کا مظاہرہ اور مخالفین کو نشان عبرت بنانے کی دھمکیاں دینا ، وزیر اعظم کی شدید مایوسی اور بدحواسی کی علامت ہے۔ اگر وہ اپنے دعوے کے مطابق قومی اسمبلی میں کثیر تعداد میں تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی پوزیشن میں ہیں اور اپوزیشن کے کئی ارکان بھی ان کے ساتھ ملنے کے لئے بے چین ہیں تو انہیں ایسی کون سے پریشانی ہے کہ وہ غصے میں آپے سے باہر ہوئے جاتے ہیں اور بدزبانی و بدکلامی کے تمام ریکارڈ توڑے جارہے ہیں؟
دیر ہی کے جلسے میں عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جس روز تحریک عدم اعتماد پیش ہوگی، اس روز تحریک انصاف کے کارکن ڈی گراؤنڈ پر جمع ہوں گے تاکہ قومی اسمبلی کے ارکان پر ’عوامی دباؤ‘ میں اضافہ کیا جاسکے۔ اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے پی ڈی ایم کے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ بھی ہوسکی تو بھی ہم عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے اور عمران خان کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ یہ دونوں بیان ظاہر کرتے ہیں کی حکومت اور اپوزیشن لیڈر ایک آئینی، جمہوری اور سیاسی عمل کو تصادم و تشدد کی طرف لے جانے کے اشارے دے رہے ہیں۔ سب لیڈروں کو اس طرز تکلم سے گریز کرنا چاہئے اور سڑکوں پر فیصلے کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے، آئین کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ میں فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔
قومی اسمبلی کی اکثریت تحریک عدم اعتماد پر جو بھی فیصلہ کرے ، سب کو خوشدلی سے اس کا احترام کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس کوئی بھی رویہ نہ تو جمہوری و قانونی ہوگا اور نہ ہی اس سے قوم و ملک کو درپیش بحران ختم کیا جاسکے گا۔