ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے: وزیر داخلہ
- ہفتہ 12 / مارچ / 2022
- 3100
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے تحریک عدم اعتماد کے دوران قومی اسمبلی کی سیکورٹی کا انتظام کیا جائے گا۔
اجلاس سے 7 روز قبل پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے تاکہ امن و امان کی کوئی شکایت نہ رہے۔ انصار السلام، بیت السلام اور پرائیویٹ ملیشیاء سمیت کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت 245 کے تحت فوج بلانے کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اپوزیشن شکست تسلیم کرے گی اور اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔
عمران خان کے اپوزیشن پر سخت حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مولانا غفور حیدری نے بھی مجھ سے یہی گلہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے ہمیں صلح صفائی اور ٹھنڈے پروگرام کی طرف جانا چاہیے۔ کیونکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں ہارنا ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں تنگ کرنا ہے، تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ ہم ابھی سے ٹھنڈے ہوجائیں اور انہیں ذہنی طور پر تیار کردیں کہ آپ ہاررہے ہیں۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ میں تو آج بھی چاہتا ہوں کہ ہمیں صلح صفائی کی باتیں کرنی چاہئیں، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، بہتر ہے عمران خان کے ساتھ انتظار کریں۔ ایسا نہ ہو یہ 10سال لائن میں لگے رہیں اور سلیکشن سلیکشن کی باتیں کرتے رہیں۔
اس دوران وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہوجائے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں۔جمہوریت انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے۔ لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے۔