آئی ایم ایف نے وزیر اعظم کی ایمنسٹی اسکیم پر سوالات اٹھادیے
- ہفتہ 12 / مارچ / 2022
- 3020
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم، پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی کے معاملے پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات مشکلات کا شکار ہیں۔
ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اہم پالیسی امور پر تعطل کے پیش نظر دونوں فریقین کے درمیان ورچوئل مذاکرات کے اختتام کے بجائے اس میں پیر تک توسیع کردی گئی ہے۔ 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے ساتویں جائزے پر گفتگو کا آغاز 4 مارچ ہوا تھا۔ مذاکرات کا حصہ رہنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے اہم اصلاحات پر حکومت کے ’ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے‘ کے نقطہ نظر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جو کہ بجٹ پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے دسمبر کے آخر تک کے اہداف پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن حالیہ بجٹ کے اقدامات تباہ کن سمت کی جانب جاتے نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد میں موجود آئی ایم ایف کے نمائندے نے درخواست کے باوجود معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بجٹ سے متعلق ٹیکس ایمنسٹی، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی اور بجلی کی قیمت پر عمومی سبسڈی بجٹ کے تین اہم شعبے ہیں۔ ریونیو اور اخراجات کے درمیان خلا ہے، رواں مالی سال کے اختتام پر جون تک خسارے کا خلا 25 ارب روپے کے ہدف سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔
آئی ایم ایف مشن نے چھٹے جائزے کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی تیسری ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر سوالات اٹھائے ہیں تاکہ نو ماہ سے تعطل کا شکار ایک ارب ڈالر کے قرض کی قسط کو بحال کیا جا سکے۔ حکومتی ٹیم نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ٹارگیٹڈ اور رینگ فینس‘ تھی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جاسکے۔
تاہم اس بیان نے پیشگی وعدوں کے سبب آئی ایم ایف کی ٹیم کو متاثر نہیں کیا اور یہ عمل ’اصولی انحراف‘ کا دفاع کرنے کے حوالے سے حکومتی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے عزم کے باوجود پیٹرولیم کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کمی پر غیر مقرر کردہ سبسڈیز کی بحالی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے کہا کہ اگر قیمتوں میں یہ کمی کم آمدن اور کمزور طبقے کے افراد کے لیے کی جاتی تو وہ اس کٹوتی کو جائز قرار دے سکتے تھے لیکن مجموعی کمی اہداف کے مطابق نہیں ہے۔
رواں مالی سال کے 4 ماہ کے لیے پیٹرولیم کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا ابتدائی تخمینہ 70 ارب روپے لگایا گیا ہے لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ اعدادوشمار مشکوک ہیں۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان اقدامات کا مالیاتی اثر بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں کے لحاظ سے تقریباً 250سے300 ارب روپے ہو گا۔ ایک اہلکار نے کہا کہ حکومت نے حالیہ توسیعی پالیسی اقدامات کو تبدیل کرنے کا کوئی اشارہ دیا اور نہ ہی فنڈ نے کوئی لچک دکھائی۔
پاکستان کو اب تک 6 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد رقم موصول ہوچکی ہے، جو 39 ماہ پر محیط ہے اور جو رواں سال ستمبر میں ختم ہوجائیں گے۔