روس کی یوکرین کے مختلف شہروں پر بمباری، دارالحکومت کیف کی جانب پیش قدمی
- ہفتہ 12 / مارچ / 2022
- 3380
روس کی یوکرین کے شمالی شہروں میں شدید بمباری اور جنگی کارروائیاں جاری ہیں اور دارالحکومت کیف پر بھی حملے کے لیے روسی افواج اکٹھی ہونا شروع ہو گئی ہیں اور ان کی پیش قدمی جاری ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یوکرینی حکام نے جنوبی بندرگاہ کے شہر ماریوپول اور مشرقی شہر خار کیف میں سنگین انسانی حالات کی اطلاع دی ہے۔ ایک سیٹلائٹ امیجنگ کمپنی میکسار کے مطابق ایک روسی فوجی قافلہ کیف کے قریب پہنچ رہا ہے جس سے یوکرین کے دارالحکومت پر نئے حملوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب روس کی یوکرین کے شمال مشرق سےدارالحکومت تک جنگی پیش رفت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، مسلسل بمباری اور فائرنگ کے سبب کچھ علاقوں میں شہری اپنے پیاروں کی میتوں کی تدفین سے بھی قاصر ہیں۔ روس کی جانب سے شام اور چیچنیا میں کی گئی ماضی کی کارروائیوں میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی کہ مسلح مزاحمت کو مسلسل فضائی حملوں اور گولہ باری سے کچل دیا جائے۔
حملوں نے جنوبی ساحلی شہر ماریوپول کا رابطہ ملک سے منقطع کر دیا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو کیف اور یوکرین کے دیگر حصوں کا بھی یہی انجام ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یوکرینی حکام نے روسی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے جنوبی شہر میلیتوپول کے میئر کو اغوا کر لیا ہے، یہ شہر اب روسی فوج کے قبضے میں ہے۔
یوکرینی وزارت داخلہ کے مشیر کا کہنا ہے کہ میلتوپول کے کرائسز مرکز میں 10 سپاہی داخل ہوئے جنہوں نے میئر ایوان فیدروف کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں یوکرینی صدر ویلادمیر زیلنسکی نے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک بہادر میئر قرار دیا جو ثابت قدمی سے یوکرین کا دفاع کر رہے ہیں۔
دریں اثنا صدر جو بائیڈن نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس کو سب سے ’پسندیدہ قوم‘ کے درجہ سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد روسی حکومت کو یوکرین پر حملے کی سزا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے حملہ آوروں کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دہشت گردی کے ایک نئے مرحلے میں چلے گئے ہیں جس میں وہ یوکرین کے اصل مقامی نمائندوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔