عمران خان عدم اعتماد میں ارکان کو ووٹ ڈالنے سے روک رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

  • اتوار 13 / مارچ / 2022
  • 2850

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کے لیے روک رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان صرف دھاندلی کرنا جانتے ہیں بلکہ وہ قانون کا احترام بھی نہیں کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے نہ ہوتے تو وزیر اعظم اتنے پریشان کیوں ہوتے؟ اور وہ گالیوں پر کیوں اتر آتے؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ڈرے ہوئے نہیں ہے تو وہ عدم اعتماد کے لیے اجلاس بلائیں۔ عدم اعتماد کی تحریک لانا ان کا جمہوری حق ہے، جس طرح ہر پاکستانی کو ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے مگر وزیر اعظم اب دھاندلی پر اتر آئے ہیں لیکن وہ انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

پی پی چیئرمین کے مطابق جس طرح ہر پاکستانی کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق ہے، اسی طرح ہر رکن پارلیمنٹ کو عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کا حق ہو اور یہ ان کا آئینی حق ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے چیف جسٹس آف پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر سے اپیل کی کہ ہر رکن اسمبلی کو عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کا وزیر اعظم سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور انہیں عوام کے عدم اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک نئی حکومت آئے جسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہو اور وہ ملک کو مشکل حالات سے نکالے، کیوں کہ جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہوگا، وہی ملک کو مشکل حالات سے نکالے گا۔

پی پی چیئرمین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ڈرے ہوئےہیں، جس وجہ سے وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں۔ وہ غیر جمہوری شخص ہے،وہ میچ فکسڈ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کو پوری قوم کے عدم اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے اور ان کے نمبرز پورے نہیں ہو رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ عدم اعتماد کے بعد صاف و شفاف انتخابات کی جانب جانا چاہتے ہیں۔ یہ پہلی عدم اعتماد تحریک ہے، جس کے پیچھے عوامی طاقت ہے اور وہ ہر ادارے سے اپنا آئینی و قانونی کام لینا چاہتےہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے کیوں کہ وہ کافی عرصے سے زیر سماعت ہے۔ وہ وزیر اعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ وہ کس کو جانور کہہ رہے تھے؟