حکومت گرانے کی کوشش کرنے والے خود شکار ہوجائیں گے: وزیر اعظم
- اتوار 13 / مارچ / 2022
- 2990
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں ہٹانے کی کوششوں کے لیے متحد ہونے والے مخالفین آخر کار خود ہی اپنی سازشوں کا شکار ہو جائیں گے۔ عوام حکومت گرانے کی کوشش کرنے والوں کو شکار ہوتا دیکھیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر یورپی یونین پر تنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ جب انہوں نے یورپی یونین پر تنقید کی تو یہاں سب کی ’کانپیں ٹانگ گئیں‘۔ پنجاب کے شہر حافظ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب انہوں نے یورپی یونین کے لیے بولا تو مولانا فضل الرحمٰن گھبرا گئے اور انہوں نےکہا کہ عمران خان نے بڑا ظلم کردیا۔
وزیر اعظم نے خطاب کے دوران یورپی یونین پر تنقید کرنے کا سبب بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے پاس یورپی یونین کے سفیروں نے کھلا خط لکھ کر یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے کا کہا جو کہ سفارتی آداب کےخلاف تھا۔ کسی سفیر کی جانب سے یوں خط لکھنا سفارتی آداب کے خلاف ہے، کیا یورپی یونین والے بھارت یا کسی اور ملک کو ایسے کھلا خط لکھ سکتے ہیں؟
عمران خان نے کہا کہ وہ روس گئے تو انہیں تین بار گارڈ آف آنر دیا گیا۔ ان کی عزت کی گئی جب کہ جب وہ امریکا گئے تھے تو اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انہیں عزت دی، کیونکہ اسے پتا تھا کہ عمران خان دو نمبر بندہ نہیں ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارا وزیر اعظم جب امریکی صدر کے سامنے بیٹھتا ہے تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہوتی ہیں، ہاتھ میں پرچی پکڑی ہوئی ہوتی ہے کہ کہیں میرے منہ سے کوئی ایسا غلط لفظ نہ نکل جائے کہ امریکا کا صدر ناراض ہوجائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب کسی قوم کا لیڈر دوسرے رہنماؤں کے سامنے کانپتا ہے تو وہ قوم کو گرا دیتا ہے۔ قوم کو لیڈر اٹھاتا ہے، غلام ہندوستان میں آزاد عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح تھے جنہوں نے ہماری قوم کو اٹھایا۔ ابھی یورپی یونین کے ممالک کے سفیروں نے مل کر ہمیں خط لکھا کہ ہم روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کریں، اس طرح کھلا خط لکھنا تمام سفارتی پروٹوکول کے خلاف ہے۔ میں نے ان کے اس اقدام پرصحیح تنقید کی۔ میں ان سے پوچھا کیا ان میں ہندوستان کو اس طرح کا خط لکھنے کی جرات ہے، ہم ایک آزاد و خودمختار ملک ہیں، ہم کسی کے غلام نہیں ہیں۔
میرے یورپی ممالک کے خلاف بیان پر مخالفین نے بیانات دیے، فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان نے بیان دے کر بڑا ظلم کردیا۔ اس کے بعد وہ شہباز شریف جو ہر غیر ملکی سفیر کے ساتھ ملاقات کے لیے ٹائی سوٹ پہن لیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ عمران خان نے انگریزوں پر تنقید کرکے بڑا ظلم کردیا۔ اس کے بعد بلاول بھٹو کہتا ہے کہ عمران خان نے پاکستان پر ظلم کردیا۔
انہوں نے کہا کہ میں مخالفین سے بہتر مغرب کو جانتا ہوں۔ مغربی لوگ ان لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں جو ان کے جوتے پالش کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی قوم کے مفادات کے لیے کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کی عزت کرتے ہیں۔ دنیا اس انسان کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت کرتا ہے، جو انسان یا ملک اپنی عزت نہیں کرتا، دنیا بھی اس کی عزت نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے ہیں۔ میں نے پاکستان میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی، ڈرون حملوں کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ ڈرون حملوں کی مخالفت کیوں کر رہے ہو، ڈرون حملوں میں دہشت گردوں کو مارا جا رہا ہے تو میں نے کہا کہ لندن میں ہمارا ایک دہشت گرد بیٹھا ہے جس نے کسی بھی دہشت گرد سے زیادہ پاکستانیوں کو قتل کروایا تو کہا آپ ہمیں لندن میں ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا میں نے مغرب سے کہا کہ جب ہمیں اس دہشت گرد پر ڈرون حملے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو ہم کیا آپ کے غلام ہیں کہ جو آپ ہمارے ملک میں ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ ہم امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لیکن میری بطور وزیر اعظم سب سے بڑی ذمے داری پاکستانیوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے، میں بطور وزیراعظم ایسی خارجہ پالیسی کی اجازت نہیں دوں گا کہ جو کسی دوسرے ملک کو خوش کرتے کرتے ملک کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت کے 5 سال مکمل ہوں گے تو عوام دیکھیں گے کہ ہم نے پورے پنجاب میں وہ ترقیاتی کام کیے ہوں گے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں کیے ہوں گے۔ مجھے سیاست میں آنے کی ضروت نہیں تھی، سیاست میں صرف نوجوانوں کے لیے آیا ہوں۔ سیاست میں آنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آلو اور ٹماٹر کی قیمتوں کا پتا کروں، مقصد نوجوانوں کو پاکستان بنانے کے نظریے سے اگاہ کرنا تھا۔
قوم بنانے کے لیے ہم نے ملک بھر میں یکساں نصاب متعارف کرایا، یکساں نصاب کا مقصد یہ خواہش ہے کہ دینی مدارس کے بچے بھی ڈاکٹرز، انجینئرز بن سکیں، تعلیم کے شعبے پر خصوصو توجہ دے رہے ہیں، ملک بھر میں میرٹ پر 26 اسکالرشپس دے رہے تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔