یوکرین جنگ میں چین نے روس کی مدد کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: امریکا

  • سوموار 14 / مارچ / 2022
  • 3270

امریکا نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے یوکرین پر حملے میں روس کی مدد کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

ایک مریکی عہدیدار نے متعدد امریکی میڈیا چینلز کو بتایا کہ یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد روس نے چین سے فوجی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم واشنگٹن میں چین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ ایسی درخواست سے باخبر نہیں ہے۔

 اٹلی کے دارالحکومت روم میں چین اور امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان ملاقات ہونے کے بعد یہ انتباہ سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان شروع ہونے والے بحران کے بعد چین اپنے بیانات میں اپنے اتحادی ماسکو کی حمایت کرتا آرہا ہے لیکن تاحال اس نے روس کو فوجی اور معاشی معاونت فراہم نہیں کی۔

امریکی عہدیداروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں روس نے چین سے خاص طور پر فوجی ہتھیاروں اور ڈرونز کی فراہمی کی درخواست کی ہے مگر چین کا اس درخواست پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ وہ چین سے براہ راست اور ذاتی طور پر بات کر رہے ہیں کہ اگر اس نے روس کی مدد کی تو بڑے پیمانے پر پابندیوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسے آگے برھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور دنیا کے کسی بھی ملک کو ایسی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ روس پر معاشی پابندیوں سے اس کی ’لائف لائن‘ بنیں۔ امریکا کو یقین ہے کہ چین اس بات سے باخبر تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین پر حملہ کرنے سے پہلے کوئی منصوبہ بندی کر رہے تھے مگر چین نے شاید اس کا مکمل مقصد نہیں سمجھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ جیسے پیوٹن نے یورپی اور دیگر ممالک سے جھوٹ بولا اسی طرح اس نے چین سے بھی جھوٹ بولا ہو۔ امریکی عہدیدار جیک سلیوان نے پیر کے دن اٹلی میں اس سلسلہ میں چین کے سینٹرل فارن افیئرز کے سربراہ ینگ جیاچی سے ملاقات کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے امریکی عہدیدار جیک سلیوان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی عہدیدار نے ملاقات کے دوران چین کے عہدیدار کو کہا کہ اگر انہوں نے یوکرین پر حملے کے سلسلے میں روس کی مدد کی تو ان کو نتائج اور تنہائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

واشنگٹن میں چین کے سفارت خانہ کے ترجمان لی پینگو نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ روس کی جانب سے کی گئی ایسی درخواست سے بے خبر ہیں اور اس وقت اعلیٰ ترجیح یہ کہ کشیدہ صورتحال کو بڑھنے یا قابو سے باہر ہونے سے روکا جائے۔ خیال رہے کہ چین نے اب تک روسی حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو کے ’جائز سیکیورٹٰی خدشات‘ کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔