تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہوگی: سینیٹر فیصل جاوید

  • سوموار 14 / مارچ / 2022
  • 3370

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہوگی۔

انہوں نے  ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’انشا اللہ پاکستان کی تاریخ کا ’سب سے بڑا جلسہ‘ آزادی چوک اسلام آباد میں27 مارچ بروز اتوار کو ہوگا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان تاریخی خطاب کریں گے‘۔ عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہو گی۔ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں بھرپور ناکامی ہوگی، وزیراعظم عمران خان پر اعتماد پلس ہوجائے گا۔

کئی ہفتوں تک مشاورت اور مسلسل اجلاس منعقد کرنے کے بعد اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت قرارداد جمع کرانے کے علاوہ اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔ آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی  ریکوزیشن نوٹس جمع کرانے کے بعد 14 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ انہیں 22 مارچ تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ہوگا اور تین سے سات دن کے اندر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانا ہوگی۔

 اسلام آباد میں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ21، 22 اور 23 مارچ کی تاریخوں کو او آئی سی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ کوشش ہے اس دوران قومی اسمبلی کا اجلاس ان تاریخوں میں منعقد نہ کیا جائے تاہم اس کا حتمی فیصلہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے فضل الرحمٰن سمیت تینوں سیاسی جماعتوں کے ’لوٹا کریسی‘ اور لوگوں کے خریدنے کے عمل کو مسترد کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جو اصلاحات آئی ہیں، ایسا کسی حکومت میں نہیں ہوا، صحت کارڈ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ عمران خان وہ لڑائی لڑ رہے ہیں جو قائد اعظم نے برصغیر میں متعصبانہ رویے کے خلاف لڑی تھی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف ایک سازش کی گئی ہے لیکن عمران خان یہ لڑائی بھی لڑی آج دنیا میں پاکستان کو کسی بلاک کا حصہ ہونے کے بجائے ایک آزاد خارجی پالیسی کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن کی مشکور ہے کہ وہ عدم اعتماد لائے، اس سے ہماری جماعت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتحادی جماعتوں سےرابطے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت وزیر اعظم کے بھائیوں کی طرح ہیں، مونس الٰہی سے ان کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) نے ہمیشہ حکومت کی حمایت کی ہے اور وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ اگر اس وقت پاکستان میں ملک کے لیے کوئی لیڈر کھڑا ہے تو عمران خان ہیں۔

تحریک انصاف کے منحرف اراکین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی منحرف رکن نہیں ہے۔ تمام لوگ ہمارے ساتھ ہیں، پہلے تویہ دیکھتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی نوبت آتی ہے یا نہیں آتی۔