سیاست میں شائستگی اور اخلاقی قدریں

سیاست اور جمہوریت کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ کی جاتی ہے کہ اس کی  برتری  اخلاقی اصولوں کی  ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاست میں جو کچھ سیاسی تماشہ ہم دیکھ رہے ہیں اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اخلاقی قدروں اور شائستگی پر مبنی سیاسی او رجمہوری رویوں سے انحراف کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

جو لب ولہجہ، گفتگو، طرز عمل اور اپنی سوچ اور فکر سے مختلف لوگوں کے بارے میں یہاں اختیار کیا جارہا ہے وہ واقعی ایک بڑا سیاسی المیہ ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کو نفرت، تعصب اور دشمنی کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مجموعی طور پر یہاں سیاسی کلچر کی بنیاد میں اختلافات کی جگہ الزام تراشی، لعن طعن، کردار کشی او رایسے الفاظ کا چناو جو تنقید کی بجائے تضحیک کے زمرے میں آتے ہیں ان کی بالادستی نمایاں نظر آتی ہے۔

وزیر اعظم سے لے کر حزب اختلاف تک اور ایک سیاسی جماعت سے لے کر دوسری سیاسی جماعت تک یا میڈیا میں جاری بحث مباحثہ یا عملی طو رپر سیاسی مکالمہ میں عدم برداشت کا کلچر غالب ہوگیا ہے۔ یہ سیاسی بگاڑ اوپر سے لے کر نچلی سطح کی قیادت او رسیاسی کارکنوں تک پہنچ گیا ہے۔یہ عمل سیاست میں ایک دوسرے کے درمیان اختلافات کو ذاتی دشمنی اور سیاسی تعصب میں بدل رہا ہے جو سیاست او رجمہوریت میں عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔یہ سمجھنا کہ محض ہمارا نقطہ نظر یا سوچ یا فکر ہی درست ہے اور دوسرے غلط ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں ان مسائل کو محض اوپر کی سطح پر دیکھنے کی بجائے ان تمام معاملات کے محرکات کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا تاکہ ہم بہتری کی صورت میں کسی بہتر نتیجے پرپہنچ سکیں۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم اپنے موجودہ سیاسی کلچر میں ایسی مثبت تبدیلیوں کو پیدا کرسکیں گے جو عملی طور پر ایک سیاسی او رجمہوری کلچر میں اخلاقی اصولوں کی برتری کی جنگ میں برتری حاصل کرسکے۔مسئلہ کسی ایک فریق کا نہیں کیونکہ اگر ہم مجموعی طور پر دیکھیں تو ہم سب ہی اس خرابی میں کم یا زیادہ حصہ دار بن گئے ہیں۔

 سیاست او رجمہوریت کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی سطح پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کو اس سیاسی شدت پسندی یا بگاڑ کی صورت میں کیا پیغام دے رہے ہیں۔ سیاست او رجمہوریت کو بنیادی طور پر معاشرے کی سیاسی، سماجی، مذہبی یا علمی و فکری بنیادوں پر  تشکیل کرنا تھی۔لیکن ہم نے ان مسائل کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر معاشرے میں جہاں لوگوں میں دوریاں پیدا کی ہیں وہیں ہمارا مجموعی سیاسی کلچر پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جو کچھ اس وقت سیاست او رمیڈیا کے محاذ پر ہورہا ہے او رجو زبان یا لب ولہجہ ایک دوسرے کی مخالفت میں سیاسی و ذاتی بنیادوں پر ہورہا ہے اس پر مزاحمت کا پہلو کمزور ہوگیا ہے۔ لوگ انفرادی سطح پر مذمت کرتے ہیں یا اس برائی کا سیاسی جواز پیش کرکے مسئلہ کا حل تلاش کرنے سے گریز کرتے ہیں یا اجتماعی طور پر ہم ان خرابیوں پر بڑی مزاحمت کرنے کی پالیسی سے دور ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا اداروں نے بھی بدقسمتی سے اپنی اپنی جگہ پر سیاسی پوزیشن لے لی ہے یا شخصیات کی محبت یا نفرت میں خود کو گرفتار کرلیا ہے۔

یہ جودلیل دی جاتی ہے کہ ہمارے سماج میں شدت پسندی یا مزاج میں انتہا پسندی بڑھ گئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ سیاست اور میڈیا میں اہل سیاست اور اہل میڈیا افرادکا اپنا طرز عمل بھی ہے۔ کیونکہ جب سیاست دان، علمائے کرام،سیاسی ومذہبی جماعتیں، دانش ور یا میڈیا کی سطح پر بہت افراد کے لب و لہجہ میں ایک دوسرے کے لیے نفرت ہوگی تو یہ ہی نفرت کا کھیل نچلی سطح پر بھی منتقل ہوگا۔بدقسمتی سے سماج میں ہمارا تعلیمی نظام، تربیت کا عمل، اخلاقی معاملات پر منفی کھیل غالب ہوگیا ہے۔ سیاسی قیادت او رجماعتیں نہ تو خود کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں او رنہ ہی اپنی اپنی جماعتوں میں موجود سیاسی کارکنوں کی تربیت میں کوئی دلچسپی رکھتی ہیں۔جب بعض علمی و فکری مجالس میں لوگ سیاست او رجمہوریت کو بنیاد بنا کر موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نظام میں موجود خرابیوں نے خود کو نہ صرف مضبوط کرلیا ہے بلکہ وہ خود سے بھی تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ان کو لگتا ہے کہ ان کی سیاست او رذاتی مفادات پر مبنی کھیل میں لوگوں کا محاذآرائی میں الجھنا اور ٹکراو کی پالیسی ہی ان کے سیاسی مفادات کو تقویت دیتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت جس میں مذہبی قیادت بھی شامل ہے کہ انہوں نے واقعی سماج کی بہتر تبدیلی کے عمل میں سب کو مایوس کیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ معاشرے یا افراد کی اصلاح ہماری سیاسی جماعتوں او رقیادت کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے۔بظاہر سیاسی جماعتوں کی عملی ترجیحات میں معاشرے کی مثبت تبدیلی کا عمل کم او رطاقت کی سیاست چاہے وہ جائز طریقے سے ہو یا ناجائز دونوں صورتوں میں وہ طاقت اور اختیارات یا وسائل کے حصول کی جنگ کا حصہ رہتے ہیں۔ ہماری بیشتر سیاسی جماعتوں کا سماجی کاموں میں کوئی بڑا کردار نہیں او رجو کام وہ کررہے ہیں وہ سماج کے ایجنڈے کے برعکس ہے۔ایسے میں جب یہ ماتم کیا جاتا ہے کہ لوگ سیاسی نظام یا سیاسی جماعتوں سے لاتعلق ہو کر رہ گئے ہیں تو اس کی وجہ بھی لوگ نہیں بلکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کا داخلی نظام یا طرز عمل ہے۔

کیا وجہ ہے کہ ہم سیاست، جمہوریت، معاشرت یا میڈیا سمیت اہل دانش کی سطح پر کیوں کوئی ایسا کوڈ آف کنڈکٹ نہیں کرسکتے جو اس وقت کی نفرت کی سیاست کے کھیل کو ختم یا کمزو رکرسکے۔یہ کام باہر سے آکر لوگوں نے نہیں کرنا بلکہ اس کا واحد حل یا کنجی خود لوگ انفرادی سطح پر ہیں یا رائے عامہ بنانے والے افراد کو اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شاعر، ادیب، لکھاریوں، صحافیوں، فن کاروں، سیاسی و مذہبی سطح پر موجود کارکنوں، سول سوسائٹی سب کو مل کر اس ایجنڈے کو اپنی ترجیحات کا حصہ بھی بنانا ہوگا اور ایک اجتماعی کوششوں کو بنیاد بنا کر خود بھی عملا آگے بڑھیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔وہ لوگ جو جھوٹے الزامات، منفی مہم، کردار کشی یا تضحیک آمیز رویوں کو بنیاد بنا کر اپنے ایجنڈا کو مسلط کرتے ہیں ان کا مقابلہ ایک متبادل بیانیہ جو شائستگی، بردباری، تحمل مزاجی، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا، قبولیت کو عملی طو رپر اپنے اوپر نافذ کرنا، متبادل سوچ او رفکر کو احترام دینا سے جڑا ہونا چاہیے۔

یہ کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ اسی طرح یہ سمجھنا کہ اس کام کی تکمیل محض تقریروں یا واعظوں سے ہوسکے گا۔ اس کے لیے ہمیں سماج کے عملی نصاب کو ہی تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ نصاب کی تبدیلی کا عمل تعلیمی نصاب سے لے کر مذہبی نصاب تک اور اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر سماجی بنیادوں پر معاشرتی ایجنڈے کے طور پر بالادست کرنا ہوگا۔سیاسی و مذہبی جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے موجودہ نفرت پر مبنی بیانیہ کو تبدیل کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ جو بگاڑ معاشرے میں پیدا ہورہا ہے اس کی ایک وجہ وہ خود بھی ہیں۔ہمیں مکالمہ کے کلچر کو ہی بنیاد بنا کر اگر آگے بڑھنا ہے تو مکالمہ کا انداز اور طور طریقوں کو خود پر بھی لاگو کرنا ہے اور اپنی اپنی جماعتوں میں بھی اسی سوچ او رفکر کو بالادستی دینی ہوگی۔سیاسی جماعتیں او ران کی قیادت ضرورطاقت او راقتدا رکی جنگ لڑیں یا ان کا حق ہے مگر اس جنگ میں کچھ تو ان کو سیاسی سطح پر اخلاقی قدروں کے معیارات کو بھی تقویت دینی چاہیے۔ کیونکہ جو کلچر اس وقت بالادست ہے اس کو تبدیل کرنا ہی ہماری سیاسی، ریاستی او ر معاشرتی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ جنگ انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ اجتماعی جدوجہد کا بھی تقاضہ کرتی ہے۔ مختلف سیاسی ومذہبی سطح پر موجود جماعتیں، میڈیا، اہل دانش، علمائے کرام میں موجود اچھے افراد کو ایک ایسے ایجنڈے کی تشکیل او راس پر عملدرآمد کے نظام میں خود کو قیادت کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔یقینی طور پر جب قیادت کا عمل اوپر کی سطح سے او راہم افراد سے ہوگا تو معاشرے میں سیاسی، جمہوری اور اخلاقی قدروں کو برتری حاصل ہوگی۔