کیا روس جنگ سے جان چھڑا سکے گا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 16 / مارچ / 2022
- 14130
یہ سننے اور سوچنے میں عجیب لگتا ہے لیکن اس وقت روس یوکرائن میں شروع کی گئی جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے لیکن امریکہ اور یورپی ممالک معاشی اور عسکری دباؤ میں اضافہ کررہے ہیں ۔ ہر آنے والا دن روسی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔
24 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں روسی فوج اپنے کوئی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس جنگ جوئی کے خلاف امریکی و یورپی رد عمل کے بارے میں روسی اندازے بھی غلط ثابت ہوئے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے روس پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اور اپنی فضائی حدود روسی طیاروں کے لئے بند کردی گئی ہیں۔ جنگ طویل ہونے کی صورت میں روس پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا، روسی عوام کو اس کی بھاری اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔ جنگ کے خلاف پہلے سے موجود رائے عامہ مضبوط ہوگی۔ مغربی میڈیا اور خفیہ ایجنسیاں روس میں اس صورت حال کو پوتن اور ان کی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔
صدر پوتن نے روسی قومیت کے نعرے پر یوکرائن کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ، تین ہفتے پہلے بھرپور حملے کا آغازکیا تھا۔ ماسکو کے فوجی ماہرین کا خیال تھا کہ وہ کمزور اور قلیل مقدار میں یوکرائینی فوج کو ایک دو ہفتوں میں زیر کرکے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرلیں گے اور روس نواز حکومت قائم کرکے بظاہر جنگ بندی کا اعلان کردیا جائے گا اور یوکرائین کی ’خود مختاری‘ کو تسلیم کرلیاجائے گا لیکن عملی طور سے اس ملک کو روس کی عسکری چھتری تلے لاکر دو مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ ایک یہ کہ یوکرائن میں ماسکو مخالف کی بجائے روس نواز حکومت قائم ہو گی تاکہ اسے یورپ اور امریکہ سے دور کیا جاسکے، دوسرے یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کا معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم کرکے اس ملک کو اپنے زیر نگین علاقے میں تبدیل کرلیا جائے گا۔
روس کے عسکری اور سفارتی و سیاسی اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔ روسی فوج کی عسکری ‘ناکامی‘ کی وجہ سے سفارتی سطح پر روس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ روسی فوج تیزی سے یوکرائینی علاقوں پر قبضہ کرنے اور کیف حکومت کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خبروں کے مطابق جنگ کو 23 گزرنے کے باوجود روسی فوج یوکرائن کے دس بڑے شہروں میں سے کسی ایک پر بھی قبضہ نہیں کرسکی۔ البتہ بمباری اور جنگ جوئی کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور 30 لاکھ یوکرائینی باشندے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ روسی فوج کی سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ اس کی فضائیہ یوکرائینی ائیر سپیس پر کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لئے روسی فضائیہ پیش قدمی میں زمینی افواج کی مناسب مدد نہیں کرسکی۔ یوکرائینی فوج نے بہتر حکمت عملی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے ۔
یوکرائینی صدر وولودیمیر ذیلنسکی کی بار بار درخواست پر اگرچہ نیٹو یا امریکہ نے یوکرائینی ائیر سپیس بند کرنے کا اقدام کرنے سے گریز کیا ہے کیوں کہ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اس اقدام کو براہ راست روس کے ساتھ تصادم قرار دیا جاسکتا ہے۔ صدر وولودیمیر ذیلنسکی نے آج امریکی کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر امریکی قانون سازوں سے درخواست کی کہ امریکہ یوکرائینی فضائی حدود کو بیرونی حملوں ے محفوظ کرنے کا اقدام کرے۔ کانگرس کے ارکان نے اگرچہ پر جوش تالیوں سے یوکرائینی صدر کی تقریر کا خیر مقدم کیا لیکن ری پبلکن اور ڈیموکریٹک نمائیندوں نے یکساں طور سے اس درخواست کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ صدر جو بائیڈن پہلے ہی کسی قسم کی عسکری مداخلت کی یوکرائینی درخواست مسترد کرچکے ہیں۔ تاہم امریکی ھکومت اور کانگرس یوکرائن کی عسکری و اقتصادی امداد میں اضافہ پر یکسو ہے۔
صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز یوکرائن کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کے لئے ایک ارب ڈالر امداد کی منظوری دی تھی۔ امریکی سیاسی دانوں کا کہنا ہے کہ روسی فضائیہ کے پر کاٹنے کے لئے یوکرائن کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور دیگر آلات فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ امریکہ ، نیٹو اور ان کے حلیف ممالک کی فوجی امداد کی وجہ سے یوکرائینی فوج کی استعداد بہتر ہوئی ہے اور اب متعدد روسی طیارے اور ہیلی کاپٹر مار گرانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرائینی فوج نے پلوں کو تباہ کرکے اور مواصلاتی نظام میں رکاوٹیں ڈال کر روسی افواج کی پیش قدمی کو روکا ہے۔ یوکرائینی فوجی ذرائع یہ اطلاعات بھی دے رہے ہیں کہ اب روسی فوج پر جوابی حملے کرکے روسی فوج کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ جنگ کی صورت حال میں دونوں طرف سے مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے اور غلط معلومات اور پروپیگنڈا کے ذریعے اعصابی جنگ جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ فوجی بالادستی کے باوجود یوکرائن روس کے لئے ایک خطرناک دلدل ثابت ہورہی ہے۔ یہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں روس ہی کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ روسی سفارت کار کسی بھی طرح کسی ایسی جنگ بندی کی کوشش کررہے ہیں جس میں روس کی ’فیس سیونگ‘ کی کوئی صورت پیدا ہوسکے۔
روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لئے جلد کسی مفاہمت تک پہنچا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مذاکرات مشکل اور پیچیدہ ہیں لیکن درست سمت میں گامزن ہیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی اطلاع کے مطابق فریقین ایک پندرہ نکاتی جنگ بندی معاہدے پر کام کررہے ہیں اور اس پر کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ اس معاہدہ میں یوکرائن ’غیر جانبداری‘ کا اعلان کرے اور اسے قلیل تعداد میں فوج رکھنے کا حق حاصل ہو۔ البتہ اس کے بدلے میں اسے اپنی سلامتی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے۔ روس یہ بھی چاہتا ہے کہ اس معاہدہ میں یوکرائن باقاعدہ طور سے تسلیم کرے کہ وہ نیٹو کا رکن نہیں بنے گا اور یوکرائینی سرزمین پر غیر ملکی فوجی اڈے قائم نہیں ہوں گے۔ تاہم ان ’شرائط‘ کو ماننے کے عوض یوکرائن کی حفاظت کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور ترکی ضمانت فراہم کریں گے۔ یوکرائینی صدر وولودیمیر ذیلنسکی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرائن کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی ضمانت تحریری ہونی چاہئے اور ضامن ممالک مستقبل میں کسی حملہ کی صورت میں یوکرائن کا دفاع کرنے کے ذمہ دار ہوں۔ بظاہر روس یوکرائن کی طرف سے غیر جانبداری کے عہدنامہ کے بدلے اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ حالانکہ عملی طور سے اس طرح یوکرائن کو امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کی باقاعدہ حفاظت میں دینے کا اصول تسلیم کرلیا جائے گا۔ گویا روسی سلامتی کے جس نعرے کی بنیاد پر صدر پوتن نے یوکرائن پر حملہ کیا تھا، خود ہی اسے باطل تسلیم کرلیا جائے گا۔ البتہ معاہدے کے الفاظ سے کسی حد تک روسی ’وقار ‘ بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یوکرائینی ترجمان اب کسی کمزور پوزیشن سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس نے ان کے ملک پرحملہ کیا ہے ۔ ا س لئے ایک تو روس جنگ بند کرے، تمام یوکرائینی علاقوں سے فوج واپس بلائے اور مستقبل میں یوکرائین کی حفاظت کی قابل عمل اور قابل قبول ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ اس حوالے سے خاص طور سے خود مختاری کا اعلان کرنے والے دو علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک سے روسی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ بھی شامل ہے حالانکہ یوکرائن پر حملہ سے پہلے صدر پوتن نے ان دونوں علاقوں کو خود مختار مملکت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور جنگ جوئی کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ یوکرائینی حکام ان علاقوں میں روسی آبادی کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ جنگ بندی کے لئے اگر روس کو ڈونیسک اور لوہانسک سے بھی فوج نکالنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو اسے بہر صورت روس کی شرمناک ناکامی سمجھا جائے گا۔
اس جنگ کی وجہ سے روسی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی میں کم از کم ایک دہائی بیت جائے گی ۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کی فضا بحال ہونے میں بھی وقت لگے گا۔ گو کہ صدر ہوتن نے ہی یہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن لگتا ہے کہ کریملن نے اس بارے میں اندازوں کی فاش غلطیاں کی تھیں۔ ماسکو کا خیال تھا کہ یورپ روسی توانائی کا محتاج ہے جس کی وجہ سے وہ سخت اقتصادی پابندیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ صدر پوتن کا یہ اندازہ غلط ثابت ہؤا۔ کسی بھی جنگ کو جیتنے کے لئے معاشی وسائل اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ یوکرائن کی پشت پر امریکہ اور یورپ کھڑا ہے اور جنگ میں براہ راست فریق نہ ہونے کے باوجود یوکرائن کی بھرپور فوجی امداد کی جارہی ہے اور فنڈز فراہم ہورہے ہیں جبکہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روس کے وسائل محدود ہورہے ہیں اور تیل و گیس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ روس نے بلا اشتعال جنگ شروع کرکے یورپ کوچوکنا کردیا ہے اور آنے والے سالوں میں روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کے منصوبوں پر کام کا آغاز ہوگا۔ اس طرح روس کو معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا اور اس کی سفارتی پوزیشن بھی کمزور ہوگی۔
اگرچہ اس وقت یوکرائن جنگ کی زد میں ہے اور اس کے شہروں اور قصبوں پر بمباری کی جارہی ہے لیکن روس کو جنگ ختم کرنے کی جلدی ہے جس کا باقاعدہ اظہار تو سامنے نہیں آیا لیکن مفاہمت پر آمادگی اور بار بار یوکرائن کی خود مختاری تسلیم کرنے کے اعلانات سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی لگتا ہے کہ روس اس بحران سے نکلنے کے لئے محفوظ اور باوقار راستے کی تلاش میں ہے لیکن امریکہ صورت حال سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ صدر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ’جنگی جرائم کا مرتکب‘ قرار دینے کا اعلان ایک سخت سفارتی پوزیشن ہے ۔ ماسکو نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے لیکن اس الزام کی روشنی میں جنگ کے خاتمہ کے بعد صدر پوتن کی ذاتی مشکلات میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔