پانچ سال کے لیے قومی حکومت قائم کی جائے: شہباز شریف

  • جمعرات 17 / مارچ / 2022
  • 3170

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے تجویز دی ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف کو شامل کیے بغیر پانچ سال کے لیے قومی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔

شہباز شریف بدھ کی رات جیوز نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میری اپنی یہ رائے ہے کہ اگر ن لیگ کو موقع ملتا ہے تو ہمیں پی ٹی آئی کے علاوہ ایک نیشنل گورنمنٹ بنانی ہو گی جو پانچ سال مل کر، سر جوڑ کر، ملکی مسائل حل کرے۔ اس کے بعد ایک سٹیج سیٹ ہو جائے گا۔‘

شہباز شریف نے واضح کیا کہ قومی حکومت کی تشکیل ان کی ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ہماری پارٹی کا موقف یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ضروری قانون سازی اور فیصلے کرکے عام انتخابات ہونے چاہییں۔

’ابھی اس معاملے پر پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر سے مشاورت کرنی ہے جس کے بعد فیصلہ اجتماعی بصیرت سے ہو گا۔ شہباز شریف نے اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے اسلام آباد میں سپورٹرز کو اکٹھا کرنے سے تصادم کے خطرے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ (تحریک انصاف) آئین اور قانون کا راستہ چلنے دیتے اور دھمکی نہ دیتے کہ ہم لاکھوں لوگ لائیں گے اور ممبرز کو اسی ہجوم سے گزرنا ہو گا۔۔۔ یہ تو تشدد کی بات کر رہے ہیں۔ ہم بلکل ایسا نہیں چاہتے۔ یہ ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں خوش اسلوبی سے جائیں، جس کو چاہتے ہیں ووٹ دیں۔ اس میں یہ رکاوٹ ڈالیں گے تو یہ آئین، قانون اور پارلیمانی روایات سے تصادم ہو گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’ہم اپنے لوگ لائیں گے اپنے ووٹرز کا دفاع کرنے کے لیے اگر یہ باز نہیں آتے اور صلح کی آواز نہیں سنتے۔۔۔ ہم اہنے کارڈز ابھی سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ میں ان کو کہتا ہوں کہ خدارا اس طریقے سے باز رہیں، اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے تو اپنے ارکان کا تحفظ کرنا ہے ہر صورت۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان تو بہت پہلے ہوا تھا، یہ کوئی نئی بات نہیں۔

اپوزیشن لیڈر سے جب سوال کیا گیا کہ کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دعوے کے مطابق حزب اختلاف کو دو سو ممبران قومی اسمبلی کی حمایت کا یقین ہے تو شہباز شریف نے کوئی نمبر دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش جاری ہے۔ بلاول سمیت باقی لوگ محنت کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اچھی کامیابی ملے گی۔‘

جب شہباز شریف سے حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے حکومت کے الزام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ جہازوں پر ممبر لوڈ کر کے بنی گالا پہنچا رہے تھے، وہ ہارس ٹریڈنگ نہیں تھی؟ ہارس ٹریڈنگ میں پیسہ دیا گیا ہو، تو ثابت کر دیں۔ اگر ہم اتحادیوں کو قائل کرتے ہیں اور وہ اپنی سوچ سے فیصلہ کریں کہ اپوزیشن کے بنچز پر بیٹھنا ہے اور حکومت کا ساتھ نہیں دینا تو اس کو ہارس ٹریڈنگ نہیں کہا جا سکتا۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ایسے ہی پی ٹی آئی کے ممبر اگر اپنے ضمیر کی آواز پر عمران خان کا ساتھ نہیں دیتے، تو یہ بھی ہارس ٹریڈنگ نہیں۔

شہباز شریف نے ن لیگ کی جانب سے آئندہ الیکشن کے ٹکٹ کے وعدے کے سوال پر کہا کہ ’کئی تحریک انصاف ممبران یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹکٹ ملے یا نہ ملے، ہم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے کیوں کہ وہ ہار کا ٹکٹ ہے۔‘

شہباز شریف نے ق لیگ سے متعلق سوال پر کہا کہ ’پرویز الہی سے ملاقات کافی عرصے بعد ہوئی۔ ہماری کوشش ہے کہ ق لیگ، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی کو قائل کر سکیں کہ ہمارا ساتھ دیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اپوزیشن کی جانب سے ق لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے مخالف اور کل کے مخالف آج کے دوست۔۔۔ ہمارے لیے پہلی چیز پاکستان کا مفاد ہے۔ نواز شریف کی لیڈر شپ میں فیصلے کریں گے۔‘

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ ’متحدہ اپوزیشن کی جدوجہد کے نتیجے میں بہار آنے والی ہے، چاہے عمران خان جتنے مرضی پھول کاٹ لیں، بہار کو نہیں روک سکیں گے۔‘ تحریک عدم اعتماد پر ان کا کہنا تھا کہ یہ میری یا کسی اور سیاسی لیڈر کی خواہش نہیں۔ یہ عوام کی مشکلات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا جس سے پہلے ہماری جماعت میں مختلف آرا تھیں کہ اس طرف جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ راستہ آئینی بھی ہے، قانونی بھی ہے اور سیاسی بھی۔

عمران خان سے ڈیبیٹ کے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا کرنا وقت کا ضیاع ہو گا۔ جو ہاتھ ملانے کا روادار نہ ہو، جو دن رات چور ڈاکو کا منتر کرتا رہے، گالی گلوچ کرے، نا شائستہ زبان استعمال کرے، میں سمجھتا ہوں جو بیٹھنے کو تیار نہیں، ایسے شخص کے ساتھ کیوں بیٹھیں۔

ان کا  کہنا تھا کہ جب یہ آئے تو میں نے کہا کہ چارٹر آف اکانومی کرتے ہیں، انہوں نے حقارت سے مسترد کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ شہباز شریف نے حکومت کی معاشی اور سفارتی پالسیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان معاشی تباہی کے دہانے پر نہیں، تباہ ہو چکا ہے۔ سفارتی طور پر بھی ملک کو تنہا کر دیا گیا۔ کس نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر پر سعودی سفیر کی ضرورت نہیں، امریکہ سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ایبسولیوٹلی ناٹ۔۔‘

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ پارلیمان میں سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ہمیں بتایا گیا کہ امریکہ نے ہم سے کوئی اڈے نہیں مانگے۔ بتایا گیا کہ پرانا ایئر کوریڈور ہے، وہی نظام چلا آ رہا ہے جو مشرف کے دور میں شروع ہوا۔

شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی کرپشن پر غلاف چڑھا دیا گیا۔‘ احتساب کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔