سندھ میں گورنر راج کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہے، شاہ محمود قریشی

  • جمعہ 18 / مارچ / 2022
  • 3570

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سندھ میں گورنر راج کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج بنی گالا میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس کا تھا، جس کی صدارت چیئرمین عمران خان نے کی۔اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال گیا اور عدم اعتماد کی تحریک پر سینئر قیادت نے بات کی اور پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے کہ عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو جمہوری انداز میں، سیاسی طریقے سے اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے شکست دیں گے۔ جو بات کی جارہی ہے ہم بے جا لوگوں کے راستے میں رکاؤٹ بنیں گے اور کسی کو جانے نہیں دیں گے، یہ محض پراپیگنڈا ہے اور یہ ایک پختہ سیاسی سوچ کی نفی ہے اور ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ پر اخبارات میں بھی خبریں ہیں اور بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس بھی کی ہے لیکن ایسا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہے۔ اجلاس میں اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور سب کی رائے یہ ہے کہ اس کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں اور ہم نے ان کا جائزہ بھی لیا۔

انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ وہ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور چھوڑ جائیں گے۔ تسلسل سے میں کہہ رہا ہوں کہ اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔ چوہدری پرویز الہٰی کے ساتھ میں نے کام کیا ہے، ان کا ایک سیاسی گھرانا ہے۔ وہ جذباتی نہیں مگر سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مسلم لیگ (ن) ان کے لیے دل میں کتنی گنجائش رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری سیاسی رائے کے مطابق وہ مسلم لیگ (ن) پر بھروسہ کبھی نہیں کریں گے۔ کہا جارہا کہ پنجاب میں ان کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کی پیش کش کی جارہی ہے، اکثریت وہاں مسلم لیگ (ن) کی ہے، یہ اقلیت میں ہوں گے۔ جب چاہیں نیچے سے قالین کھینچ لیں، تو اس وزارت اعلیٰ اور مدت کا کیا بھروسہ ہوگا۔ کابینہ میں اکثریت مسلم لیگ(ن) کے وزرا کی ہوگی تو وزیراعلیٰ کس طرح مؤثر طریقے سے کام کرسکیں گے، یہ ایک غیرسیاسی فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پھر کہا جارہا ہے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان بھی ساتھ چھوڑ دے گی تو یہ بھی غیرمنطقی بات ہے کیونکہ کراچی میں تو پیپلزپارٹی کی وہ نفی ہیں، کیا ایم کیو ایم کا کارکن کراچی میں پی پی پی نے جو کچھ کیا ہے اس سے غافل ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے اراکین اسمبلی مختلف جگہوں پر ہیں اور چند سندھ ہاؤس میں بھی بیٹھے ہیں، تعداد کی قیاس آرائیاں ہیں اور مبالغہ آرائی بھی ہو رہی ہے، سیاست میں ہوتی ہے، اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔وہ سمجھ دار اور سیاسی لوگ ہیں، انہیں یقیناً پتہ ہوگا کہ قانون کیا کہتا ہے۔ آئین کے تقاضے کیا ہیں اور انہیں مینڈیٹ کیا ملا، بلے کے نشان پر منتخب ہو کر آئے ہیں تو کارکنان نے توقعات وابستہ کی ہوں گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ کی ہر جائز بات سننے کو بھی تیار ہیں لیکن اگر ہمارے دوست تحریک عدم اعتماد میں اپنی جماعت سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں تو بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اور قانونی انداز میں پارلیمانی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کا ہر مقابلہ کرنا چاہیں گے۔