حکومت کا آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ
- جمعہ 18 / مارچ / 2022
- 3260
حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سےرجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 63اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائے گی کہ جب ایک پارٹی کے اراکین واضح طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا ایسے اراکین جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کے وجہ سے تبدیل کریں تو ان کی نااہلیت زندگی بھر کے لیے ہوگی یا انہیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی کہ اس ریفرینس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنایا جائے۔
قبل ازیں ایوان میں فلور کراسنگ کرنے والے حکومتی اراکین کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کے تحت کارروائی کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ حکومت کی جانب سے مذکورہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پی ٹی آئی کے متعدد قانون سازوں کے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رہنے کا انکشاف ہوا۔ اس پیش رفت سے اشارہ مل رہا ہے کہ اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کا تحریک عدم اعتماد میں کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ درست ہے۔
حکومت کے متعدد اراکین مسلسل دعویٰ کررہے ہیں کہ ان مخالفین نے 'اپنا ضمیر پیسوں کے لیے فروخت کیا ہے'، متعدد ٹیلی ویژن چینلز نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کے درجنوں اراکین جن کا عمران خان کی حکومت سے اختلاف پیدا ہوا چکا ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے جارہے ہیں'۔