پی ٹی آئی کارکنان دروازہ توڑ کر سندھ ہاؤس میں داخل، 2 ایم این ایز گرفتار
- جمعہ 18 / مارچ / 2022
- 3330
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن گیٹ توڑ کر سندھ ہاؤس میں داخل ہوگئے۔ پولیس نے پی ٹی آئی کے ایم این ایز فہیم خان اور عطااللہ نیازی سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے منحرف اراکین قومی اسمبلی سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ ہاؤس پہنچے اور ہاتھوں میں لوٹے اٹھائے ہوئے مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے فہیم خان اور عطااللہ نیازی کی قیادت میں کارکن سندھ ہاؤس کے قریب احتجاج کر رہےتھے۔
بعد ازاں، سندھ ہاؤس اسلام آباد میں دروازہ توڑ کر داخل ہونے والے کارکنان گرفتار کر لیے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے ایم این ایز فہیم خان اور عطااللہ نیازی کو بھی گرفتار کر لیا۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے اراکین قومی اسمبلی اور کارکنوں کو تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا ہے۔
مظاہرین وزیراعظم عمران خان کے حق میں اور منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور پارٹی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی سے فوری طور پر اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے اراکین اپنی سیٹوں سے استعفیٰ دیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے 4 منحرف ارکان جو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں میڈیا کے سامنے آگئے تھے جہاں راجا ریاض نے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ 24 ارکان ہیں جو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے۔ ٹی وی فوٹیج میں پی ٹی آئی کے رکن اسبملی نور عالم خان اور باسط بخاری سمیت دیگر کئی اراکین کو بھی دیکھایا گیا تھا جو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں اور واضح اشارہ دے رہے تھے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد پر کس کو ووٹ دیں گے۔
اسلام آباد میں سندھ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ہاتھوں میں لوٹے اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے منحرف اراکین کے خلاف اور اور وزیر اعظم عمران خان نے حق میں نعرے لگائے۔ اسلام آباد میں سندھ ہاؤس کے قریب احتجاج کے دوران پولیس افسران اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری سندھ ہاؤس کے باہر پہنچ گئی اور پی ٹی آئی کارکنوں کو واپس جانے کی ہدایت کی۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی سے تلخ کلامی کی اور سندھ ہاؤس کے باہر سے واپس جانے سے انکار کردیا
سندھ ہاؤس میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے داخلے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو اشتعال دلایا جس کے باعث کارکن اس طرح کی غنڈہ گردی کی حرکتیں کر رہے ہیں۔ شیری رحمٰن کا ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہوچکا۔ منحرف اراکین اس لیے اپنے فیصلے کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں جیت سکتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن و دیگر رہنماؤں کا سندھ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حملے جاری رہے تو پھر ہم بھی جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔ بنی گالا و وزیراعظم ہاؤس ہم نے دیکھے ہوئے ہیں۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس پرحملہ صوبے پرحملہ سمجھتے ہیں، اسلام آباد کے ریڈ زون میں دہشت گردی کامظاہرہ کیاگیا۔ اپیل کرتے ہیں کہ دوبارہ اس طرح کا واقعہ پیش نہ آئے، ورنہ ہم بھی جواب دینے پر مجبور ہوجائیں گے
پی ٹی آئی کارکنوں کے سندھ ہاؤس میں داخلے پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت تو نہیں بچا سکتے انشاءاللّہ، اگر کوئی بچی کچھی عزت ہے تو وہی بچا کر گھر چلے جائیں۔ ٹوئٹر پر ایک بیان میں مریم نواز کا موجودہ حکمرانوں کو مخاطب کرکے کہنا تھا کہ آپ ایک منتخب حکومت نہیں کہ ڈٹ جائیں، اس لیے حکمرانوں کے پاس اب غنڈہ گردی کا ہی آپشن رہ گیا ہے۔ لیکن غندہ گردی کا اقدام ہمیشہ الٹا ہی پڑتا ہے۔
دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ پارٹی کارکنوں نے لوٹے اٹھا کر خاتون رکن قومی اسمبلی وجیہہ قمر گجر کے گھر کا گھیراؤ کرتے ہوئے ان سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔