آئی ایم ایف کی 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کی اگلی قسط تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ
- ہفتہ 19 / مارچ / 2022
- 2860
پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی اگلی قسط ایک ماہ سے زائد عرصے تک حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوسکے گا۔ آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن نے وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ ماہ اعلان کردہ امدادی پیکیج کی مالی اعانت پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔
فروری کے آخر میں قوم سے ٹیلی ویژن خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے پٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں 10 روپے اور بجلی کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا اور اگلے وفاقی بجٹ تک نرخ مستحکم رہنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان آئی ایم ایف پروگرام کے ساتویں جائزے پر مذاکرات جاری ہیں اور پیر کو دوبارہ ملاقات کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پالیسی سطح پر مذاکرات کا آخری دور منگل کو طے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے وزیراعظم کے ریلیف پیکج کی فنانسنگ کے بارے میں مزید سوالات پوچھے۔ انہوں نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں ایک بڑی کٹوتی کے پیش نظر ترقی کے امکانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور منصوبے کی درست تفصیلات مانگیں جو اس کٹوتی سے متاثر ہوں گی۔
آئی ایم ایف مشن یہ یقین دہانی بھی چاہتا ہے کہ ترقیاتی کٹوتیوں سے سوشل سیکٹر متاثر نہیں ہوگا، اس لیے انہوں نے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا۔ رواں ہفتے کے آغاز میں حکام نے آئی ایم ایف کو مالیاتی ذرائع سے آگاہ کیا تھا اور جمعے کو تکنیکی مصروفیات کے حتمی دور کی توقع کی تھی۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومتی فریق نے اصرار کیا کہ ساتویں جائزے کی بنیاد دسمبر کے اختتام کے اہداف پر ہونی چاہیے جو کہ حاصل کیے جاچکے ہیں، اس لیے 18 سے 24 اپریل تک ہونے والی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سپرنگ میٹنگز سے قبل تقریباً ساڑھے 95 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جانی چاہیے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے اتفاق کیا کہ دسمبر کے آخر کے اعداد و شمار کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس بات کی نشاندہی کی کہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت میں مستقبل کے نقطہ نظر کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے جس میں واضح ہونا چاہیے کہ مالیاتی خسارہ کیسا ہوگا اور موجودہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر اس کی مالی اعانت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔