سپریم کورٹ نے پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کردیے

  • ہفتہ 19 / مارچ / 2022
  • 3020

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے  تصادم کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ بار کونسل کی درخواست پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سپریم کورٹ کی کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دوپہر ڈیڑھ بجے مقدمے کی سماعت شروع کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید اور آئی جی اسلام آباد کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب سپریم کورٹ بار نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے، آپ بھی عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر پیر تک صدرتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بار امن عامہ اور آرٹیکل 95 کی عملداری چاہتی ہے۔ یہ از خود کارروائی نہیں ہے، ہمارے پاس درخواست پہلے آ چکی ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آزادی رائے اور احتجاج کے حق پر کیا کہیں گے؟ کل والے واقعے پر کیا کہیں گے؟ یہ واقعہ آزادی رائے اور احتجاج کے خلاف تھا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں اور میں کل کے واقعے کا پس منظر بتانا چاہتا ہوں۔ آئی جی اسلام آباد اور ایڈ شنل سیکرٹری داخلہ بھی موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ تمام سیاسی فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ آرٹیکل 63۔اے پر رائے نہیں دینا چاہتے اور اس پر صدارتی ر یفرنس پر درخواست کی سماعت کریں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ بار کی درخواست کا تعلق نہیں ہے جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دونوں معاملات کا اپس میں لنک موجود ہے۔ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر کی ذمہ داریوں کی بات کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے 100افراد کو پولیس نے سندھ ہاؤس سے منتشر کیا، اس کے بعد 20 لوگ سندھ ہاؤس احتجاج کرنے آگئے، 13 لوگوں کو سندھ ہاؤس پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا۔ تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور آج مجسٹریٹ نے 13 مظاہرین کو رہا کر دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ  ہو رہا ہے ہمیں اس سے مطلب نہیں، ہم یہاں آئین کی عملداری کے لیے بیٹھے ہیں۔ کیا عوامی املاک پر دھاوا بولنا بھی قابل ضمانت جرم ہے، سیاسی عمل آئین و قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ پبلک پراپرٹی اور قومی اداروں کو دھمکیاں ملیں، ارکان اور اداروں کو تحفظ آئین کے مطابق ملنا چاہیے۔

اس دوران سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے بات کرنے کی کوشش لیکن جسٹس منیب اختر نے انہیں یہ کہہ کر بات کرنے سے روک دیا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں جو دلائل دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہاؤس کو نقصان پہنچایا گیا اور تمام جماعتوں کو ہدایت کی کہ تمام سیاسی جماعتیں قانون کے مطابق برتاؤ کریں اور تمام فریقین خلاف قانون کوئی اقدام نہ کریں۔

انہوں نے آئی جی اسلام آباد سے سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ بھی پیر طلب کر لی۔عدالت نے سپریم کورٹ بار کی درخواست پر حکمران جماعت تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کو نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کرے گی مگر قانونی امور کو دیکھا جائے گا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت پیر دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی۔