پاکستان سری لنکا سے دور نہیں
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 19 / مارچ / 2022
- 5770
ابھی کل ہی کی بات ہے، سری لنکا خطے میں سرمایہ کاری کے لئے فیورٹ ملک تھا۔ 2009 میں اٹھائیس سالہ طویل جنگ کے بعد سری لنکامیں انفراسٹرکچر ، ٹریڈ، انوسٹمنٹ اور سیاحت کے شعبوں میں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری ہونے لگی۔
ہمارے ایک کاروباری شناسا جو پاکستان کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ڈائریکٹر بھی تھے، 2011 میں وہ کولمبو کے چیمبر آف کامرس کے صدر بھی تھے، ان کے بقول، آپ یقین جانیں کوئی دن جاتا ہے جب ہمیں کسی نہ کسی وفد یا سرمایہ کاری کی معلومات کے لئے اپروچ نہ کیا جا رہا ہو۔ ہمیں اور ہمارے اسٹاف کو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں۔خوف اور ناامیدی کے سائے چھٹ گئے ہیں۔
فاسٹ فارورڈ 2022: ہزاروں مظاہرین کا صدارتی محل کے سامنے شدید مظاہرہ۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے مظاہرین کو منتشر کیا۔ دو ہفتے قبل ا یک خبر عالمی میڈیا میں نمایا ں ہوئی کہ سری لنکا کے پاس تیل کی درآمدات کے لئے فارن کرنسی نہیں رہی، بجلی پیدا کرنے بیشتر پلانٹس بند اور ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اشیائے خوردونوش کا غالب حصہ امپورٹ ہوتا ہے۔ مہنگائی اور کھانے پینے کی اشیاء کی کمیابی اور شدید ترین فارن کرنسی بحران نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مانگو، ادھار لو یا چراؤ کے محاورے کے مصداق سری لنکا کا وفد ایک بار پھر ایمرجنسی میں بھارت کے پاس پہنچا۔ بھارت نے ایک ارب ڈالر کا تجارتی قرضہ کل ہی منظور کیا جس سے سری لنکا خوراک، تیل، ادویات وغیرہ امپورٹ کرکے اپنی فوری ضرورریات پوری کر سکے گا۔ دوسری جانب سری لنکا نے لیت ولعل اور ابتدائی تردد کے باوجود آئی ایم ایف سے قرض کے لئے رابطہ کرلیا ہے۔ بیس ماہ سے زائد ہونے کو آئے، سری لنکا کا مرکزی بنک حکومت کو چپکے چپکے مشورہ دے رہا تھا کہ حضور بات ہاتھ سے نکل رہی ہے، چین اور بھارت سے مالی امداد اور قرضوں سے بات نہیں بن رہی۔ اس سے پہلے کہ بات بگڑ جائے، آئی ایم ایف کے چرن چھو لیں۔ ملک کی ساکھ بھی بچ جائے گی اور بحران بھی ٹل جائے گا مگر سیاسی حکومت کی اپنی ترجیحات تھیں۔ سو جوتے اور سو پیاز کا ٹوٹل مکمل ہونے کے بعد ہی حکومت نے اس مشورے پر عمل کرنے کی ٹھانی۔
سری لنکا کے معاشی بحران کے ڈانڈے ملک میں جاری ایڈہاک معاشی پالیسیوں، سیاسی نوازشات اور شاہ خرچیاں، انفرا اسٹرکچر کی چند مہنگی اور بہت حد تک غیر ضروری سرمایہ کاری اور طویل مدت معاشی اصلاحات سے گریز سے جا ملتے ہیں۔ سری لنکا کا حالیہ کرنسی بحران ایک روایتی ٹیکسٹ بک کیس ہے کہ کس طرح ملک کی سیاسی اور حکومتی اشرافیہ سخت انتظامی اور معاشی فیصلے کرنے سے گریزاں رہی۔ ڈنگ ٹپاؤ ماینڈ سیٹ نے ملک کو اس ڈگر پر ڈال دیا جہاں حکومت کا اپنا سائز بڑھتا چلا گیا۔ ملک کی کل لیبر فورس کا 16% حکومتی ملازمین پر مشتمل ہے۔ بجٹ میں جاری خراجات کا 70% تنخواہوں اور پنشن کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے۔ بجٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔
معاشی استحکام کا بھرم قائم رہ جاتا اگر پچھلے تین سالوں میں دو واقعات نہ ہوتے۔ 2019 میں سری لنکا میں چرچ دہشت گرد حملوں میں 250 سے زائد سیاح اور مقامی لوگ شکار لقمہ ء اجل بن گئے۔ سیّاحوں کی جنت میں آگ لگ گئی۔ اس واقعے کے بعد سیاحت ابھی سنبھلی نہ تھی کہ کوووڈ نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر میں سیاحت کا پہیہ رک گیا۔ ساڑھے چار ارب ڈالرز سالانہ کی آمدن رکی تو معیشت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ اس دوران سیاسی محاذ آرائی نے بھی میدان سجائے رکھا۔ ووٹرز کو خوش کرنے کے لئے
خزانے کے منہ کھلتے ہی چلے گئے۔ موجودہ حکومت الیکشن جیت کر آئی تو اس نے ٹیکسوں میں مزید کمی کرکے عوام سے واہ واہ تو سمیٹی مگر خزانے میں جھاڑو پھر گئی۔ سنگین کرنسی بحران سامنے پا کر حکومت نے مالیاتی مارکیٹ، چین اور انڈیا سے قرضے حاصل کئے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے جو قلیل مدت مہنگے قرض لے رکھے تھے ان کی ادائیگیاں ٹھکا ٹھک واجب الادا ہو رہی تھیں۔
پچھلے قرضوں کے لئے نئے مہنگے قرضے، ایک کی ٹوپی دوسرے کے سر، دوسرے کی ٹوپی تیسرے کے سر۔ اس کوشش میں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں کئی گنا اضافہ ہوتا گیا، چین اور بھارت کا بار بار کا احسان الگ مگر کرنسی بحران جوں کا توں موجود رہا۔ بلکہ درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہوتا گیا۔ سری لنکا کے موجودہ کرنسی بحران میں پاکستان کے لئے کئی سبق ہیں۔ اول: پی ٹی آئی حکومت نے حکومت سنبھالی تو حالات کی سنگینی کے ادراک میں کوتاہی کی، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے کی بجائے دوست ممالک سے قرضے حاصل کئے لیکن بالآخر آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا پڑا۔ اس دوران میں قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا، ادائیگیوں کا بوجھ پریشان کن ہو گیا اور روپیہ مزیدڈی ویلیو ہو گیا۔ دوم: بجٹ اور تجارتی خسارے کے دوہرے عذاب سے نکلنے کے لئے معیشت اور ٹیکسیشن سسٹم میں سخت اور جوہری اصلاحات سے گریز کیا۔
سوم: سیاسی پاپولرازم کے لئے مالی نوازشات کا آسان راستہ جبکہ ان نوازشات کی فنڈنگ مزید قرضوں یا ترقیاتی اخراجات سے کٹوتیوں سے ہو رہی ہے جبکہ ان کا جاری رہنا بھی محال ہے۔ چہارم: پبلک سیکٹر کمپنیوں کا سالانہ نقصان خزانے پر بوجھ ہے مگر سیاسی مفاد پرستی ان سے جان چھڑوانے سے باز رکھے ہوئے ہے۔ پنجم: سیاسی اشرافیہ اپنے وقتی سیاسی مفادات کے لئے پولیٹکل اکونومی کو پاؤں کے جوتوں کی طرح استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور دور رس نقصانات کا ادراک اور تعین کرنے سے دانستہ چشم پوشی کرتے ہیں۔
ملک میں جاری عدم اعتماد ہنگامہ اور جاری سیاسی محاذ آرائی سے سیاسی اشرافیہ کی ترجیحات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کوئی بھی اس مرحلے میں سرخرو ہو جائے لیکن زمینی حقائق اپنی جگہ چٹان بن کرکھڑے ہیں۔ کرنسی دباؤمیں ہے، بجٹ اور تجارتی خسارہ برداشت سے باہر ہے، معیشت مندی کا شکار ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔ غور سے دیکھیں تو پاکستان سری لنکا سے زیادہ دور نہیں