سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کا کھیل
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 20 / مارچ / 2022
- 5130
پاکستان کی سیاست، جمہوریت اور پارلیمانی سیاست میں ایک بڑ ی خرابی عوام کے منتخب نمائندوں کی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے بغاوت یا پارٹی وفاداری کی تبدیلی ہے۔
یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہورہا بلکہ اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس کی جڑیں کافی گہری نظر آتی ہیں۔ ماضی میں سیاسی لوگوں کی جانب سے وفاداریوں کی تبدیلی کا کھیل مختلف سیاسی اور فوجی ادوار میں ہمیں دیکھنے کو ملا ہے۔ اس عمل نے مجموعی طور پر ملکی سیاست، جمہوریت اور خود سیاسی جماعتوں کی داخلی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ سیاسی لوگوں کے سامنے جماعتی سطح کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی اہمیت ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر ہم مختلف ادوار میں سیاسی لوگوں کی جانب سے اپنی سیاسی وفاداری کے کھیل کی مختلف جھلکیوں کو دیکھتے ہیں۔ قومی سیاست میں ایک ایسا مخصوص مضبوط سیاسی ٹولہ ہے جو حلقہ جاتی سیاست میں اپنی انفرادی سطح کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور طاقت ور بھی ہوتا ہے۔ یہ ہی طبقہ مختلف مراحل میں سیاسی جماعتوں کو سیاسی بلیک میل بھی کرتا ہے اور اپنے فیصلے بھی جماعتوں سے زیادہ ذاتی مفادات کی بنیاد پر کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان حکومت بچانے یا گرانے کے کھیل کی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ نے سیاسی اور قانونی محاذ پر کافی شدت اختیار کرلی ہے۔ اس کھیل کا ایک دلچسپ اور اہم پہلو پی ٹی آئی کی اپنی جماعت میں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ بغاوت پی ٹی آئی میں ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے سیاسی دباؤ سمیت تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ اصولی طور پر تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب ان کی چار اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے حکومت کا ساتھ چھوڑ کر حزب اختلاف کی براہ راست حمایت کا اعلان کردیں۔ لیکن ایک بڑی جنگ تحریک انصاف کے باغی لوگوں کی سیاسی حمایت کی صورت میں حزب اختلاف میں نمایاں نظر آتی ہے۔ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں جس انداز سے حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو رکھا گیا یا ان کی سیاسی آو بھگت یا مالی لین دین طے ہورہا ہے، وہ واقعی سیاسی اور جمہوری طور پر شرمناک ہے۔
ماضی میں ہم ہماری سیاسی تاریخ میں ایک کھیل ”چھانگا مانگا“ کی سطح پر کھیلاگیا تھا جس کا سہرا مسلم لیگ ن کے سر ہے۔ ارکان اسمبلی کو وہاں جبری یرغمال بنانا، ان پر مختلف نوعیت کے دباؤ ڈالنا، مالی طور پر ان کی خرید وفروخت کے مناظر ہم دیکھ چکے ہیں۔ لیکن اب جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے اس سے یقینی طور پر90کی دہائی کے مناظر یا د آجاتے ہیں۔ عمومی طور پر سیاسی وفاداریوں کی تبدیل کا کھیل کے چار مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ اول پس پردہ قوتوں کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر ارکان اسمبلی اپنی سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کرتے ہیں اور ان کے بقول ان پر بڑا دباؤ ہوتا ہے اور وہ یہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دوئم جب ارکان اسمبلی کو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اپنی سیاسی اہمیت ختم کرچکی ہے اور یہ لوگوں کے لیے بوجھ بن گئی ہے تو ایسی صورت میں ارکان اسمبلی مستقبل کے مفاد کے پیش نظر اپنی وفاداری کو تبدیل کرنا ہی اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ سوئم کچھ ارکان اسمبلی نظریہ ضرورت یا ضمیر کی آواز پر اپنی نشستوں کی خرید وفروخت کے کھیل کا حصہ بن کر پیسہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں یا مختلف مراعات کی صورت میں کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر لینے او دینے والے اپنے معاملات کو طے کرنے کے عمل میں دونوں برابرکے مجرم بھی ہوتے ہیں۔
ماضی میں اسی بدنما کھیل کے مدنظر ملک کی سیاسی جماعتوں نے ارکان اسمبلی کی سیاسی بلیک میلنگ کو بنیاد بنا کر 1997میں اور پھر 17 ویں ترمیم یا اٹھارویں ترمیم کی بنیاد پر ایسی قانونی یا آئینی ترامیم کیں جس کی بنیاد پر اہم معاملات یا فیصلہ سازی میں ارکان اسمبلی پارٹی یا قیادت کے فیصلے پابند ہوں گے اور ان کو فیصلوں سے انحراف کی اجازت نہیں ہوگی۔ انحراف کی صورت میں ایسے ارکان اسمبلی کو پارٹی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس وقت بھی تحریک عدم اعتماد کی صورت میں پی ٹی آئی کے باغی ارکان کو پارٹی کی جانب سے نااہلی کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی حزب اختلاف جو ماضی میں اس کھیل کی سب سے زیادہ مخالفت کرتی تھیں وہ اب اس کی حمایت میں پیش پیش نظر آرہی ہیں۔ یہ ہی ہماری قومی سیاست کا المیہ ہے کہ جو بھی ناجائز عمل ہمارے حق میں ہو تو ہم اس کی عملی طور پر حمایت او رجو ہمارے خلاف ہو اس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ہی وہ تضاد ہے جو نہ تو سیاسی جماعتوں کو داخلی محاذ پر جمہوری بناتا ہے اور نہ ہی سیاست میں جوابدہی کا نظام قائم ہوتا ہے۔
ارکان اسمبلی کی جانب سے ایسی سیاسی بلیک میلنگ چاہے وہ حکومت کرے یا حزب اختلاف دونوں صورتوں میں اس کی کسی بھی سطح پر حمایت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن سیاسی موقع پرستی یا اقتدار کے کھیل میں اس کو اپنی حمایت یا مخالفت میں بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ خود سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انتخابی جیت کے لیے طاقت ور مضبوط الیکٹیبلزپر انحصار کرتے ہیں اور یہ ہی وہ ٹولہ ہے جو ہر دور میں مختلف جماعتوں کا رخ کرتے ہیں جو اقتدار کے قریب ہوتی ہیں یا ان کو یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ یہ جماعت آنے والی حکومت ہے۔ یہ کھیل کسی نظریاتی، اصولی یا ضمیر کی آواز پر نہیں کھیلا جاتا بلکہ اس کا براہ راست تعلق ذاتی مفادات پر مبنی سیاست ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ اپنی جماعت سے نالاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ معاملات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ اب گاڑی آگے نہیں چل سکتی تو اس کا بہتر حل اسمبلی سے استعفی دے کر دوبارہ کسی اور جماعت یا آزاد حیثیت سے انتخابی عمل میں شریک ہوکر مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔ یہ عمل ان لاکھوں ووٹروں کی توہین ہے جس کی مدد سے یہ لوگ ایک جماعت اور نشان پر منتخب ہوتے ہیں اور پھر اپنی وفاداری کو تبدیل کرتے ہیں۔
اصولی طور پر تو ہماری قومی سیاست میں یہ اتفاق ہونا چاہیے کہ سیاسی لوٹے جو جس بھی جماعت میں ہیں اور ان کا ماضی اسی کھیل کا حصہ ہے تو اس کا ہر سطح پر سیاسی اور سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی بغاوت کرتا ہے تو پہلے سے موجود ایک بڑی جماعت اس کی اپنی جماعت میں واپسی یا شمولیت پر نہ صرف سبز باغ دکھاتی ہے بلکہ اس یقین دہانی کے ساتھ اس کو پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے ان کو پارٹی سے بغاو ت کرنے یا چھوڑنے پر پارٹی ٹکٹ کی گارنٹی دی جاتی ہے۔ اس گارنٹی کے بغیر کوئی بھی کسی جماعت میں شامل نہیں ہوتا اور یہ کھیل بدستور ہماری سیاست میں قومی بدنامی کا حصہ بن گیا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کا عمل ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر ہماری سیاسی سبکی اور قومی سیاسی تشخص کو بدنما بناتا ہے۔
اگر واقعی ہم جمہوری نظام کو بچانا ہے یا اسے شفاف بنانا ہے تو ہمیں قومی سیاست میں ایسے سیاسی جرائم پر ”غیر معمولی اقدامات“ کرنے ہوں گے۔