آئی ایم ایف کہہ رہا ہے پاکستان مضبوط نمو پر گامزن ہے: وزیر اعظم
- سوموار 21 / مارچ / 2022
- 3200
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بتا رہے ہیں کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان مضبوط نمو کی طرف گامزن ہے۔
اسلام آباد میں پمز ہسپتال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت آنے کے بعد جب میں نے پہلی بار پمز کی ایمرجنسی کا دورہ کیا تو میں نے محسوس کیا کہ یہاں ایمرجنسی کے حالات بہت برے تھے، ہم چاہتے تھے کہ یہاں بننے والی ایمرجنسی خاص ہو۔ اس ایمرجنسی کے ڈیزائن کے لیے اوور سیز پاکستانیوں نے مالی مدد کی ہے جو پاکستان کی ترقی کے لیے پُر عزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اسے میں ہسپتال کی تعمیر ضروری ہے، اسلام آباد کے لیے جناح ہسپتال کا ڈیزائن بھی امریکا سے بن کر آرہا ہے۔ ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں صحت پر اتنا کام کسی نے نہیں کیا۔ ہم سندھ کے سوا تمام صوبوں میں ایسی ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں جو دنیا کے ترقی پزیر ممالک میں بھی نہیں ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹرز ہسپتال کے سربراہ نے مجھے بتایا کہ پہلی بار ڈاکٹرز ہسپتال میں ایک مزدور کے دل کی سرجری ہوئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ 70 سال میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کوئی ایسی حکومت آئی گی جو یکساں تعلیمی نظام پر توجہ دے گی۔ ہماری تعلیم طبقات میں بٹ گئی تھی، ایسے میں ہمارے نچلے طبقے کو اوپر آنے کا موقع ہی نہیں مل سکتا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہمارے اوپر غلامی کا بوجھ تھا، میں نے کئی افراد کو دیکھا ہے لوگ صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں وہ پہلے انگریزی کے دو چار جملے بولتے ہیں بھر اردو میں بات کرتے ہیں، یہ صرف مختلف نصاب کے سبب ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہم نے رحمت العالمین اتھارٹی کا آغاز کیا ہے جس سے ہمارے بچوں کو نبیﷺ کی زندگی اور قران پاک کی تعلیمات کا مقصد معلوم ہوگا۔ ہم نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، ہماری معیشت کے تمام انڈیکٹرز درست سمت میں ہیں آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پاکستان مضبوط نمو کی طرف نکل گیا ہے۔ ہماری پہلی حکومت ہے جو اپنے خرچے کم کرتے ہوئے آمدنی بڑھا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پمز بورڈ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال کو نجی ہسپتال کے طرز سے چلایا جائے، اور میرٹ کی بنیاد پر عہدے دیے جائیں۔