سکھر میں ہندو لڑکی کا قتل، ایک ملزم گرفتار
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 22 / مارچ / 2022
- 5090
صوبہ سندھ کے ضلع سکھر کے نواحی علاقے میں ایک 18 سالہ ہندو لڑکی پوجا کے قتل کے بعد سکھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تاہم پولیس کی جانب سے ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد ان مظاہروں کو ختم کر دیا گیا۔
پوجا کماری کے قریبی عزیز اجے کمار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد پوجا اب مزاحمت کی علامت بن چکی ہے اور اب اس کی عزت ہمارے دلوں میں بہت بڑھ گئی ہے۔ سکھر پولیس کی جانب سے درج مقدمہ میں مدعی مقتولہ پوجا کماری کے والد ادی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ تین ملزمان ان کی بیٹی پوجا کماری کو اغوا کرنے کے لیے ان کے گھر میں داخل ہوئے تاہم مزاحمت پر انہوں نے پوجا کو قتل کردیا۔
حکام کے مطابق پولیس انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی اور اس سلسلے میں واقعہ کی اعلیٰ سطح پر نہ صرف تفیش ہورہی ہے بلکہ اس کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ توقع ہے کہ باقی ملزمان کو بھی جلد از جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
پوجا کے قریبی عزیز اجے کمار کہتے ہیں کہ پوجا کماری کے قتل پر نہ صرف مقامی ہندو غم وغصہ کا شکار ہیں بلکہ علاقے کے مسلمانوں نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے اور مقتولہ کے گھر پر تعزیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
اجے کمار کہتے ہیں کہ پوجا ایک ایسی لڑکی تھی جس کی سارے علاقے اور برادری میں مثالیں دی جاتی تھیں۔ پوجا اپنے علاقے میں سب کو پیاری تھی۔ سب کا خیال رکھتے تھی۔ سب اس کو چاہتے تھے۔ اس کی مثالیں دی جاتی تھیں کہ دیکھو وہ کیسے اپنے باپ کا بازو بنی ہوئی تھی۔ وہ بچپن ہی سے کچھ مختلف تھی۔ وہ عام بچوں کی طرح نہیں تھی بلکہ بہت بہادر اور جرات مند تھی۔
اجے کمار کہتے ہیں کہ مقدمے میں نامزد ملزم پوجا کماری کا پڑوسی ہے جو طاقتور اور امیر ہے جبکہ پوجا اور ان کے والد ادی کا خاندان کمزور اور غریب ہے۔ اجے کمار کا کہنا تھا کہ نامزد ملزم کافی عرصے سے پوجا کماری کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور آتے جاتے تنگ کرتا تھا۔ ماضی میں مبینہ قاتل نے پوجا کے ساتھ بھرے بازار میں بھی بدتمیزی کی تھی جس کے بعد پولیس میں رپورٹ کی گئی تھی تاہم پولیس کارروائی کے باوجود اس شخص کو ضمانت مل گئی تھی۔
اجے کمار کہتے ہیں کہ واقعہ والے روز جب پوجا کے والد گھر سے باہر گئے تو ملزم اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ گھر پر پہنچا جہاں انھوں نے پوجا کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ پوجا نے مزاحمت کی۔ اس موقع پر پوجا سلائی کررہی تھی، اس کے پاس قینچی موجود تھی۔ پوجا نے اسی قینچی کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور جب وہ کسی بھی طور پر قابو نہیں آئی تو ملزم نے پستول سے پوجا پر فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا۔
پوجا کماری کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی چھ بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں ہے۔ زندگی نے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے کہ میں پوجا کو پڑھا سکتا۔ گھر کا خرچہ پورا کرتا کہ پوجا کے سکول کے اخراجات پورا کرتا۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ گھر ہی میں رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پوجا ان کی سب سے بڑی بیٹی تھی جو خود کم عمر ہونے کے باوجود ان کی مدد کرنے کی خواہشمند تھیں۔ صاحب ادی اپنی بیٹی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پوجا نے کبھی کپڑوں وغیرہ کی ضد نہیں کی اور کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ جب یہ تھوڑی بڑی ہوئی تو مجھ سے کہنے لگی کہ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ آپ کے ساتھ مزدوری کرنے جاؤں گی۔ ظاہر ہے مزدوری کے لیے تو نہیں لے جا سکتا تھا۔ مگر اس کو سلائی کڑھائی کا شوق تھا۔ جس وجہ سے میں نے اس کو سلائی کڑھائی کا کورس گھر کے قریب ہی کروایا تھا۔
سلائی کڑھائی کا کورس مکمل کرنے کے بعد پوجا نے محلے کے لوگوں کے لیے یہ کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ہاتھوں میں اتنی صفائی تھی کہ جو بھی اس سے ایک دفعہ کام کرواتا، وہ دوبارہ پوجا ہی سے کرواتا تھا۔ اس طرح اس کو کام چل نکلا تھا۔ وہ خود تو پڑھ نہیں سکی تھی مگر اپنے چھوٹی بہنوں کو سکول میں داخل کروا دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کام شروع کرنے کے بعد پوجا ان کا سہار بن گئی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ کیا ہوا کوئی میری بہنوں کا کوئی بھائی نہیں ہے۔ میں ان کا بھائی ہوں۔ کیا ہوا آپ کو کوئی بیٹا نہیں ہے میں تو ہوں۔ پوجا کے والد کہتے ہیں کہ جب وہ خود گھر پر نہیں ہوتے تھے تو انہیں کبھی پریشانی نہیں ہوتی تھی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پوجا گھر پر سب سنبھال لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں مگر پوجا کی محنت نے مجھے جوان کردیا تھا۔ لیکن اب لگتا ہے کہ دوبارہ بوڑھا ہو گیا ہوں۔