مسلمان ممالک میں غیرملکی مداخلت دہشت گردی کو ہوا دیتی ہے: شاہ محمود قریشی

  • منگل 22 / مارچ / 2022
  • 3170

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم ممالک میں مسلسل بیرونی مداخلت کی وجہ سے امت مسلمہ کی ناراضی بڑھ رہی ہے اور غیرملکی مداخلت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم  کے وزرائے خارجہ کی کونسل  کا 48واں اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہؤا جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز، تنازعات اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے یہ بات کہی۔

اجلاس کے آغاز میں 47ویں اجلاس کے چئیر نائیجر کے وزیرخارجہ ہاسومی مسعودی نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو 48ویں اجلاس کی چئیرمین شپ سونپی۔ اجلاس میں 46 ممالک کے وزرائے خارجہ موجود ہیں۔ ان کے علاوہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور اہم شخصیات بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

اجلاس مسلم ممالک کی 57 رکنی کونسل کا دو روزہ سالانہ اجلاس ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری کی تعمیر‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہو رہا ہے۔ نائیجرکے وزیرخارجہ ہاسومی مسعودی نے اجلاس میں اپنے افتتاحی خطاب میں امت مسلمہ کے اجتماعی اہداف کے حصول کے لیے کوششوں، کامیابیوں اور اقدامات پر روشنی ڈالی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے 48ویں سیشن میں شریک وزرائے خارجہ، سربراہان مملکت اور عرب ممالک کے اعلیٰ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا جس کا عنوان ’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں اس اجلاس کی میزبانی کرنا ہمارے ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی آزادی کے 75سال بھی مکمل ہوتے ہیں۔ اجلاس کے انعقاد کے لیے کردار ادا کرنے پر او آئی سی سیکریٹریٹ کے بھی شکرگزار ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی مشترکہ آواز ہے۔ یہ مسلمان اقوام اور عالمی برادری کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔ امت مسلمہ میں یکجہتی اور تعاون کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور او آئی سی چیئر کی حیثیت سے پاکستان کی کوشش ہو گی کہ وہ اس پُل کے کردار کو مستحکم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل دسمبر میں او آئی سی وزرائے خارجہ افغانستان پر بلائے گئے غیرمعمولی اجلاس میں ملاقات کی تھی جس میں ہم نے افغانستان کے حوالے سے کچھ تاریخی اور ٹھوس فیصلے کیے تھے۔ ہم نے انسانی بنیادوں پر او آئی سی ٹرسٹ فنڈ کے قیام پر اتفاق کیا تھا اور افغانستان فوڈ سیکیورٹی پروگرام کا آغاز بھی کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں ہم نے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا تھا اور آج میں امت مسلمہ کو یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے اتحاد کی بدولت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15مارچ کو باضابطہ طور پر اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان نے اس اہم معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اس دن کو منانے کی بدولت او آئی سی عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے حوالے سے آگاہی بیدار کر سکے گی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے اس کے حل بھی پیش کر سکے گی۔

انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی سطح پر بے مثال ہنگامہ خیز حالات دیکھ رہے ہیں۔ یوکرین تنازع نے مشرق و مغرب میں کشیدگی کو دوبارہ جنم دیا ہے جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے جبکہ اسلحے کی ایک نئی اور غیرمستحکم عالمی دوڑ جاری ہے۔

سیاسی اور فوجی دھڑے عالمی استحکام کو داؤ پر لگا کر مزید طاقت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ٹیکنالوجی کی جنگ کے اس بوجھ سے عالمی تجارت اور ترقی میں کمی آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو مشرق وسطیٰ میں تنازعات، طویل غیر ملکی قبضے بالخصوص فلسطین اور کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مسلم ممالک میں مسلسل بیرونی مداخلت کی وجہ سے امت مسلمہ کی ناراضی بڑھ رہی ہے۔

 یہ تنازعات ہمارے اتحاد و یکجہتی کو کمزور کرتے ہیں، ہمارے ممالک میں غیرملکی مداخلت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے جبکہ ہمارے ترقیاتی اہداف اور عوام کی فلاح و بہبود سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔ انہوں نے تین نکاتی حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے موجودہ چیلنجوں اور تنازعات سے نمٹنے کے لیے امت میں اتحاد کے لیے شراکت داری، مسلمانوں کے حقوق کے لیے اتحاد اور کووڈ 19 اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کیا جائے۔

انہوں نے مسلمان ممالک کو درپیش مشکلات اور تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یمن سے شام اور شام سے ساحل تک دنیا کے 60فیصد تنازعات اس مسلمان ممالک میں ہیں جبکہ دنیا کے دو تہائی مہاجرین پانچ ممالک افغانستان، شام، جنوبی سوڈان، میانمار اور صومالیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان ممالک کو بیرونی مداخلت سے پاک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی چیلنجز کا حل صرف ہم خود نکال سکتے ہیں اور ان تنازعات کا خاتمہ مسلمان ممالک میں جامع تعاون اور روابط کے ذریعے ممکن ہے۔

وزیر خارجہ نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان تنازعات کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں البتہ اس سلسلے میں مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب او آئی سی کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانا چاہتا ہے اور ہمیں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اشتراک عمل کو یقینی بنانا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کی خستہ حالی کو ختم کرنے کے لیے بہت اقدامات درکار ہیں۔ افغانستان میں استحکام کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کو یقینی بنانا ہو گا۔ سعودی وزیر خارجہ نے دوران خطاب افغانستان کے نئے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سلسلے میں سعودی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ فیصل بن فرحان نے یمن کے حوثی باغیوں سے اسلحہ اسمگلنگ ختم، حملے بند، بحری سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یمن کو انسانی ہمدردی کے تحت ہر ممکن امداد کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے اور مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین براہم طحہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہترین مہمان نوازی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں اور پاکستان کو او آئی سی کی صدارت سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ او آئی سی کے حالیہ اجلاسوں پر کوویڈ 19 کے اثرات نمایاں رہے، موجودہ اجلاس شراکت داری برائے اتحاد و ترقی کے عنوان سے منعقد ہو رہا ہے اور یہ عنوان بذات خود اہم ہے۔

اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں نوآبادیاتی نظام پر مبنی ہیں اور اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور ان پر مظالم کر رہا ہے لہٰذا ہمیں اس حوالے سے فلسطینیوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک طویل عرصہ سے حل سے محروم ہے، مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے زیر قبضہ علاقے متنازع ہیں اور کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک استصواب رائے میں ہے۔

قازقستان کے نائب وزیراعظم مختار تلبردی نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد و اتفاق اورچیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات چین کی روایات کی بنیاد ہے اور چین اقوام متحدہ میں اسلامی دنیا کی حمایت نہیں بھول سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کے لیے چین کی حمایت ہمیشہ غیرمتزلزل رہی اور چین دو ریاستی حل کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ نے ثابت کیا چین مسلم دنیا کا انتہائی مخلص دوست ہے۔ چین نے  کووڈ 19 سے بچاؤ کی سوا ارب ویکسین خوراکیں 50 ممالک کو فراہم کیں اور اسلامی دنیا کو مزید 30 کروڑ ویکسین خوراکیں فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ 54 مسلم ممالک نے ون روڈ ون بیلٹ منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔  چین مسلم دنیا میں 600 منصوبوں پر 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ تہذیبو‌ں کے مابین مذاکرات اور تصادم سے بچنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔ چین تہذیبو‌ں کے مابین مذاکرات کا حامی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان کثیرالجہتی تعاون، بات چیت اور یکجہتی کی اقدار کے حامل مشترکہ یقین کی بنیاد پر دہائیوں پرانے تعلقات ہیں۔ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے آن لائن ورچوئل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری دونوں تنظیموں نے امن اور افہام و تفہیم کے کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔

انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ہمیں اخلاقی دیوالیہ پن کے حامل عالمی مالیاتی نظام میں اصلاح کرنی چاہیے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ہم محفوظ دنیا کے لیے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔