الیکشن وقت سے پہلے بھی ہوسکتے ہیں: شیخ رشید
- جمعرات 24 / مارچ / 2022
- 4320
وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ایمرجنسی قانون کا حصہ ہے۔ میں نے ہی سندھ میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی تھی۔ جو لوگ پارٹیاں بدل رہے ہیں ان کے ذہن میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں الیکشن جلدی بھی ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن والے 25 یا 26 مارچ کو نکلیں گے اور میں نے اسلام آباد انتظامیہ سے کہا ہے کہ ان سے رابطہ کریں۔ ہم نے 2 ہزار رینجرز، ایک ہزار ایف سی اور 9 ہزار پولیس سمیت 12 ہزار کی نفری سیکیورٹی کے لیے مقرر کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام حالات خیریت سے گزریں گے اور پاکستان کی تاریخ کا عظیم ترین جلسہ عمران خان 27 مارچ کو شام چار بجے پریڈ گراؤنڈ میں کریں گے۔ قوم میں اتنا جذبہ پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ خودداری کی لڑائی ہے۔ اب ان لوگوں کو فوج کا خیال آگیا ہے جو بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج عظیم فوج ہے اور پاکستان کی عدلیہ بہت دور اندیش ہے۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ ملک دشمن بھارتی ایجنٹ اور بھارتی اور غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے اس ملک میں عظیم افواج کے خلاف سوشل میڈیا کو استعمال کر سکیں، یہ میرے دور میں نہیں ہو سکتا اور اس کو سختی سے کچل دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس ہمارے کچھ ناراض بندے ہیں تو ہمارے پاس بھی ان کے بندے ہیں جو نہیں جائیں گے۔ یہ بہت دلچسپ اور اچھا مقابلہ ہے اور آپ آج کے بعد اچھی خبریں سنیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ روز بروز حالات بہتری کی طرف آئیں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ حالات ایسی بہتری کی طرف آئیں کہ یہ ملک اور جمہوریت آگے بڑھے اور جب جمہوریت آگے بڑھے گی تو ہم اپنے مسائل کو بھی مل جل کر حل کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پارٹیاں بدلنے سے کوئی عزت ملتی ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی عزت نہیں ملتی۔ ان لوگوں کے ذہن میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں الیکشن جلدی بھی ہو سکتے ہیں اور مجھے اتحادیوں سے پوری امید ہے کہ وہ دو، تین دن میں فیصلہ کر لیں گے کیونکہ اتحادی ہمیشہ دیر سے فیصلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو اپوزیشن کے لوگ ہیں وہ ذمے داران ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسی میں بہتری ہے کہ عمران خان اپنا وقت پورا کریں اور ممکن ہو تو وقت سے پہلے انتخابات ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی عدلیہ ذمے دار عدلیہ ہے اور اپوزیشن کو بھی سوچنا ہوگا کہ پاکستان کو انتشار اور خلفشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔