اتنی نہ بڑہا پاکئی داماں کی حکایت....
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 24 / مارچ / 2022
- 5130
ہماری روائتی سوسائٹی میں جوجتنے زیادہ پارسائی و دیانتداری کے دعوے کرتا ہے، موقع ملنے پر وہی شخص سب سے زیادہ کرپٹ، بددیانت، دھوکے باز، جھوٹا، مکار، فراڈیا اور بات بے بات یوٹرن لینے والا ثابت ہوتا ہے۔
اسے اپنی عزت کا کوئی پاس ہوتا ہے اور نہ اپنے کہے کا کوئی لحاظ ’ منہ میں رام رام اور بغل میں چھری‘ تو اردو زبان کا قدیمی محاورہ ہے جس کی معنویت نئی نسل پر واضح کرنے کیلئے کہا جا سکتا ہے لب پہ ریاست مدینہ لیکن کرتوت میں ہٹلر ثانی۔ جبکہ اس نوع کا کوئی اناڑی اگر بدقسمتی سے میدان سیاست میں وارد ہو جائے تو باتیں اگرچہ وہ ارسطو کی کرے گا لیکن شاگردی میکیاولی کی چاہے گا۔
ان دنوں ہماری قومی سیاست میں کرپٹ کرپٹ کی الزام تراشیوں کا طوفان بدتمیزی آیا ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی پہچان جیسے زراعت ہے نہ صنعت، صرف کرپشن ہے جو لوگ اسے ختم کرنے کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں کودے تھے، وہ اسے ختم تو کیا کرتے موقع ملنے پر وہ خود اسی کرپشن میں اس قدر لتھڑ گئے کہ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی، والی کہاوت ان پر صادق آ گئی۔ باقی امین کی ڈگری تو انہیں اپنے پیارے ماما جی سے کب کی مل چکی تھی ۔ حضرت جوش ملیح آبادی ؒنے کیا خوب کہا تھا کہ سیاست تو پیغمبروں کا میدان تھا جس پر اقتدار کے بھوکے، لالچی، موقع پرست لوگ قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ بلاشبہ اس میں اصل قصور وار وہ طاقتور ہیں جنہیں اپنے پاؤں پر کھڑے سیاست دان ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ وہ ہمیشہ کٹھ پتلیوں کی تاک میں رہتے ہیں جو انہیں زبان سے ڈیڈی کہیں نہ کہیں بالفعل ابا جی کا رتبہ ضرور دیں گے۔
ایسے اناڑیوں میں اتنی صلاحتیں تو ہوتی نہیں کہ عوامی خدمت سے لوگوں کے دلوں میں گھر بنائیں عوام میں اپنی جڑیں گراس روٹ لیول تک مضبوط کریں۔ اس طرح کی صورت حال میں اگر محض نمائشی یا حکومتی آنی جانیوں کی چمک ملاحظہ کریں تو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر اگرچہ کسی ڈفر کو بھی بٹھا دیں تو ڈنگ پٹاؤ کام تو وہ چلا لے گا۔ پنجابی محاورے کے مطابق ’گلاں دا گالڑ‘ یا ’زبانی کلامی پلاؤ‘ پکانے والا ہے تو وہ مصالحہ جات کی کوئی کمی نہ رہنے دے گا لیکن اگر واقعی ٹھوس کارکردگی سے عامۃ الناس کے دلوں کو جیتنا ہے تو پھر سیاست جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں اول و آخر خدمت ہی خدمت ہے، اسی سے وہ عزت و عظمت نصیب ہوتی ہے کہ ایسے قومی لیڈر کو طاقتور جبر کے ذریعے ایوان اقتدار سے چاہے نکال باہر پھینکیں مگر اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ و سہ بارہ اس کی ایوان اقتدار میں مراجعت ہو جاتی ہے۔
جبکہ نام نہاد طاقتور وقت کے ساتھ ٹکا ٹوکری ہو جاتے ہیں۔ رہ گئے وہ جو زیرو کارکردگی کے ساتھ اس نوع کی دھمکیاں یا گیدڑ بھبکیاں دیتے ہیں کہ اگر مجھے نکالا تو میں زیادہ خطرے ناک ہو جاؤں گا، لاٹھی یا بندوق کا سہارا ہٹنے کی دیر ہوتی ہے ساری اکڑ فوں دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے۔ اور پھر وہ دوبارہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے ۔ سٹاک مارکیٹ کی طرح سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹوں کی ویلیو بھی عوامی پاپولیریٹی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ اب جن سیاسی لوگوں نے دوبارہ جیت کر اسمبلیوں میں آنا ہوتا ہے وہ اسی نام نہاد غیر مقبول سیاسی پارٹی میں رہنا کیونکر پسند کریں گے جس کے متعلق انہیں یقین ہو جائے کہ وہ عوام میں پٹ چکی ہے؟
کیا ہنوز پٹنے کے ثبوت درکار ہیں ؟ اگر محض کھوکھلی و لچھے دار تقاریر سے قومی قیادت و عظمت ملتی ہو تو جو سب سے بڑا خطیب ہوگا اسی کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھنا چاہئے۔ ابراہام لنکن نے کیا خوب کہا تھا کہ آپ عوام کو کچھ مدت کیلئے تو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر ہمیشہ کیلئے دھوکے میں نہیں رکھ سکتے ۔ آپ نے ملک کی پاپولر ترین سیاسی پارٹیوں اور ان کی قیادتوں پر اتنا گندا کیچڑ پھینکتے ہوئے اپنی ٹوڈی سیاست چمکائی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نہ صرف اپنے اتحادیوں بلکہ خود اپنی پارٹی کے ممبران قومی اسمبلی کو اٹھتے بیٹھتے کرپٹ کرپٹ کہہ رہے ہیں، سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں کھلی پڑی ہیں۔ معزز ممبران اسمبلی کو گدھے گھوڑے قرار دیتے ہوئے بیس کروڑ اور تیس کروڑ کے بکاؤ مال قرار دے رہے ہیں۔
ماقبل کے پی اور بلوچستان میں بھی اپنے ممبران اسمبلی کو آپ نے ا تنا ہی گندا اور گھٹیا کہا تھا جبکہ خود آپ کے بارے میں فارن فنڈنگ کیس سے لے کر اتنا مواد جمع ہو چکا ہے کہ اگر یہ درویش اس کی تفصیلات لکھنے بیٹھ جائےتو ایک پوری کتاب مرتب ہو جائے گی۔ جو لوگ خیرات و صدقات کی رقوم سے جؤا کھیلیں، ایسے بے ضمیروں کے کالے کرتوت جب عوام کے سامنے تفصیلات کے ساتھ آئیں گے تو اس طرہ پر پیچ وخم کے ساتھ قائم کی گئی درازی قامت کا سارا بھرم کھل جائے گا۔ سیاسی مخالفت کتنی بھی ہو اس میں ایک وقار، ایک لحاظ، برداشت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مانا کہ آپ سیاست دان نہیں ہیں یا آپ کی پارٹی ایک پریشر گروپ سے آگے نہیں بڑھ سکی مگر جس منصب پر طاقتوروں نے آپ کو بٹھا دیا تھا اس کے کچھ لازمی و بدیہی تقاضے تھے آپ نے تو سیاست میں برداشت، متانت اور شائستگی کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔
اپنے کل کے ساتھیوں کو گدھے، گھوڑے، بے شرم منحرفین سے بھی آگے بڑھ کر اب ننگی گالیاں اور گھٹیا دھمکیاں دینا شروع ہو گئے ہیں ۔ دس لاکھ کے مجمع سے گزر کر کوئی ایم این اے اسمبلی میں جاتا کیسے ہے اور آتا کیسے ہے، کیا مطلب ہے اس کا؟ یعنی آپ عوام کو بلوے اور تشدد پر اکسا رہے ہیں ؟ ممبران اسمبلی کو دہشت زدہ کر رہے ہیں؟ ’میں ان کو چھوڑوں گا نہیں‘ میرے بندھے ہاتھ کھل چکے ہیں، کیا دنیا میں کسی مہذب انسان کی یہ زبان ہو سکتی ہے ؟
فلور کراسنگ کی سزا ڈی سیٹ کرنا ہے لیکن اس کا پورا پروسیجر ہے جس کی وضاحت الیکشن کمیشن بالتفصیل کر چکا ہے۔ جب اس کی نوبت آئے گی آپ آئین و قانون کے مطابق جو بن سکا وہ سب ضرور کریں مگر یہ بدزبانی یہ دھمکیاں، یہ خوف و دہشت، معاف کیجئے گا کسی سیاسی پارٹی میں نہیں مافیاز میں چلتا ہے۔ اور آپ نے اپنے بیانات سے خود ثابت کر دیا ہے کہ آپ کی اصلیت کیا ہے ۔ آپ کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہونے کا دعویدار یہ ہانک رہا ہے کہ اپوزیشن والو! ہم جھاڑو پھیردیں گے پھر دس سال روتے رہو گے۔ یعنی آپ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ اگر اپوزیشن نے اپنا آئینی و جمہوری حق استعمال کیا تو تم لوگ ننگا مارشل لا لگوا کرجاؤ گے۔ کیا یہ وہی شخص نہیں ہے جو عوام کو آئین و قانون توڑنے پر اکساتے ہوئے جلاؤ گھیراؤ کے نعرے لگوایا کرتا تھا؟
تم لوگوں نے اس ملک اور یہاں بسنے والے بائیس کروڑ عوام کی بربادی میں ماقبل کوئی کسر چھوڑی ہے جس پر مزید جھاڑو پھیرنا چاہتے ہو؟ تم لوگوں نے اپنے ان محض تین چار سالوں میں اس ملک کی جو بربادی کی ہے، اگلے کالم میں درویش اس پر بحث کرے گا کہ کیسے اس کی قیمت محض یہ نسل نہیں، آنے والی نسل بھی چکاتی رہے گی۔