جنسی تشدد کیس میں عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کو عمر قید کی سزا
- جمعہ 25 / مارچ / 2022
- 4000
اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ای الیون ویڈیو اسکینڈل میں ملوث عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
سیشن جج عطا ربانی نے عثمان مرزا ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ جج نے ملزمان سے علیحدہ علیحدہ استفسار کیا کہ کیا آپ موقع پر موجود تھے، ملزمان کے جائے وقوع پر موجود ہونے سے انکار پر انہیں ان کی ویڈیوز دکھائی گئیں۔
واقعے میں ملوث ہونے کی وجوہات سے متعلق عدالتی استفسار پر ملزم عطاالرحمٰن نے کہا کہ میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں، عثمان کے ساتھ سلام دعا تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وقوعہ کے بعد آپ نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا، عدالت میں ملزم کی جائے وقوع پر موجودگی کی ویڈیو عدالت میں چلائی گئی۔
بعد ازاں عدالت کی جانب سے مقدمے میں ملوث دوسرے ملزم محب بنگش کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی، اس نے کہا کہ وقوعہ والے دن میں گیا ہی نہیں گھر پر تھا۔ تاہم جج کی ہدایت پر دوسرے ملزم کی موجودگی کی ویڈیو بھی چلائی گئی۔
دوران سماعت عدالت نے عثمان مرزا سے استفسار کیا کہ ویڈیو کیوں بنائی تھی جس پر مرکزی ملزم عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ مجھے ویڈیو کا علم نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ متاثرین کے چہرے پکڑ کر کیمرے کی طرف کر رہے ہیں، جس پر عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو ہمارے مخالف نے بنائی ہے۔
عدالت نے کیس میں نامزد دو ملزمان عمر بلال اور ریحان کو بری کرتے ہوئے کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت پانچ ملزمان کو عمر قید اور 2، 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا سنادی۔
عدالت نے عائد کردہ جرمانہ ایک ماہ میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ملزم عثمان مرزا، محب بنگش، ادارس قیوم بٹ، حافظ عطاالرحمٰن اور فرحان شاہین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جولائی 2021 کے اوائل میں اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون اور ایک مرد کو تشدد کا نشانہ بنانے اور برہنہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔