اسپیکر نے تاخیر سے اجلاس بلا کر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی ہے: اپوزیشن
- جمعہ 25 / مارچ / 2022
- 3770
مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر 14دن کے اندر اجلاس بلانا قانونی اور آئینی ضرورت تھی مگر اسپیکر نے عمران نیازی کے ساتھ مل کر سازش کی اور اس طرح وہ آرٹیکل چھ کے مرتکب ہوئے ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بطور اسپیکر نہیں پی ٹی آئی کے ایک ورکر کی طرح پارلیمان کے قانون اور روایات کو اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ تحریک عدم اعتماد کی ریکویزیشن 8مارچ کو دی گئی تھی اور 14دن میں اسپیکر اجلاس بلانے کا پابند تھا، انہیں اجلاس ہر صورت بلانا چاہیے تھا، 22 تاریخ کو تاریخ گزر ہو چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا اجلاس 22 اور 23مارچ کو تھا اور ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ ان دنوں میں ہم نہ لانگ مارچ کریں گے نہ ہی کوئی احتجاج کریں گے کیونکہ یہ ہمارے مہمان ہیں لیکن اسپیکر کو 21 تاریخ سے پہلے اجلاس بلانے میں کیا مشکل تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ 14دن کے اندر اجلاس بلانا قانونی اور آئینی ضرورت تھی مگر اسپیکر نے عمران نیازی کے ساتھ مل کر سازش کی اور اس طرح وہ آرٹیکل چھ کے مرتکب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے اس کردار کو تاریخ میں سیاہ الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ تعزیت اور فاتحہ خوانی ایوان کی روایت ہے لیکن قانون اور آئین روایت سے بالاتر ہیں۔ آج تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی، اس کی اجازت دی جانی چاہیے تھی، ووٹنگ کرانی چاہیے تھی۔
اس اسپیکر نے پاکستان کی پارلیمان کی تاریخ میں گھناؤنا کردار ادا کیا ہے جس کو پوری قوم بُرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔ پاکستان آج تاریخ کے اہم موڑ پر ہے، پوری قوم کی نظر پارلیمان پر لگی ہوئی ہے۔ دھاندلی اور دھونس کے ذریعے آئین کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ شہباز شریف نے خبردار کیا کہ اگر پیر کو ہونے والے اجلاس میں اسپیکر نے پھر غیرآئینی، غیرقانونی یا غیرپارلیمانی عمل شروع کیا تو پھر ہم ہر آئینی، قانونی اور سیاسی حربہ استعمال کریں گے تاکہ تحریک عدم اعتماد قانون کے ذریعے آگے چلے۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم مقابلے سے بھاگ رہے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کے سہولت کار بن کر آج کی تاریخ سے بھاگے ہیں، اس سے پہلے انہیں 14دن کے اندر تحریک پر اجلاس بلانا چاہیے تھا، اس سیشن سے بھی وہ بھاگے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر وہ حرکت اور حربہ استعمال کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے یہ بھاگ سکیں۔ آپ کے سامنے پاکستان کی ساری اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور ہم عمران کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ بزدل وزیراعظم کب تک بھاگ سکتا ہے، مقابلہ ہو گا اور عدم اعتماد ہمارا جمہوری ہتھیار بننے والی ہے
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آج بھی اسپیکر بن کر جو بات کی وہ ایک اسپیکر کے بجائے عمران خان کے ذاتی نوکر کی حیثیت سے تھی۔ جب سے عدم اعتماد پیش ہوئی ہے پارلیمنٹ لاجز، اراکین پارلیمنٹ اور ان کے مہمانوں پر ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ایوان کے محافظ ہونے کے ناتے انہوں نے کسی رکن قومی اسمبلی یا ان کے سربراہان سے معذرت نہیں کی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ آج اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ اگر حکومت کے پاس اکثریت ہوتی تو وہ آج ان اوچھے ہتھکنڈوں پر عمل نہ کرتے، وہ اپنی اکثریت ثابت کرتے لیکن اکثریت کھونے کی وجہ سے انہوں نے ایک مرتبہ راہ فرار اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت، پارلیمنٹ اور اسمبلیاں آئین کے مطابق چلائی جاتی ہیں۔ ہماری روایات ہیں لیکن ان سے اونچی آئین کی پاسداری ہوتی ہے لیکن موجودہ حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لہٰذا یہ سوال اٹھتا ہے کہ آرٹیکل 6 کو سب پر لاگو ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں شہبازشریف نے کہا کہ اگر یہ پیر کو پھر دھاندلی کے مرتب ہوتے ہیں تو پھر دمادم مست قلندر ہو گا۔ تحریک عدم اعتماد میں غیرجمہوری قوتوں کے متحرک ہونے کے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم خود غیرجمہوری ہے، اسپیکر خود غیرجمہوری ہے لیکن ہم سب جماعتیں مل کر ان غیرجمہوری حرکتوں اور غیرجمہوری قوتوں کا مقابلہ جمہوریت سے کررہے ہیں اور جمہوریت کی جیت ہو گی۔