قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پیش کئے بغیر ملتوی کردیا گیا

  • جمعہ 25 / مارچ / 2022
  • 3520

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد ہونے والا قومی اسمبلی کا اہم اجلاس معمول کی کارروائی کے بغیر پیر تک ملتوی کردیا گیا۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کر رہے تھے۔ اجلاس کے آغاز میں وفات پانے والے رکن قومی اسمبلی خیال زمان، سابق صدر رفیق تارڑ، مرحوم سینیٹر رحمٰن ملک، پشاور مسجد دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ 

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمانی راویت ہے کہ اگر قومی اسمبلی کا کوئی رکن انتقال کر جائے تو اجلاس کا ایجنڈا آئندہ روز تک کے لیے ملتوی کردیا جاتا ہے۔ یہ برسوں سے ہو رہا ہے اور ماضی میں ایسا 24 مرتبہ ہوچکا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے معمول کی کارروائی کا آغاز کیے بغیر اجلاس پیر 28 مارچ شام 4 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ اس لئے آج تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاسکی۔

اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کیا۔ انہوں نے بل اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر کو پیش کیا، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خارجہ نے اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ اس بل کو پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر خارجہ کی درخواست پر جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کو پیر کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔

اپوزیشن نے کراچی کی جیل میں قید رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے نوید قمر، ایم این اےمحسن داوڑ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی۔

واضح رہے کہ اس بات کا امکان تھا کہ تحریک عدم اعتماد اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہونے کے باوجود اسے بحث کے لیے آج پیش نہیں  کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے گزشتہ روز 15 نکات پر مشتمل ’آرڈر آف دی ڈے‘ جاری کیا تھا جس میں تحریک عدم اعتماد شامل تھی لیکن خیال یہ تھا کہ رکن قومی اسمبلی خیال زمان کی وفات کے باعث پہلے روز ایوان میں معمول کی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے 8 مارچ کو ریکوزیشن جمع کرائی تھی اور آئین کے تحت اسپیکر 14 روز کے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہے لیکن انہوں نے 14ویں روز یعنی 21 مارچ تک اجلاس نہیں بلایا۔ جو آج طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک ایوان میں پیش کیے جانے کے کم ازکم 3 سے 7 روز کے اندر اس پر ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔