سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی پر احتجاج، مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

  • سوموار 18 / اپریل / 2022

سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی اور جلدیں نذر آتش کرنے کے خلاف مختلف شہروں میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کے نتیجے میں 26 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

سویڈن کی انتہا پسند دائیں بازو کے گروپ ’ہارڈ لائن‘ نے ڈینش نژاد سویڈن کے سیاستدان راسمس پلوڈن کی زیرقیادت قرآن کی جلدیں نذر آتش کیں۔ راسمس ایک وکیل اور یوٹیوبر ہیں جو سویڈش رکن اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں لیکن سویڈن کے دورے پر موجود سیاستدان کے پاس امیدوار بننے کے لیے فی الحال زیادہ تعداد میں دستخط موجود نہیں ہیں۔

چالیس سالہ سیاستدان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سویڈن کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے قرآن پاک کی جلدیں نذر آتش کررہے ہیں اور ان کے اس عمل پر یورپ بالخصوص سویڈش مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ انتہا پسند سیاستدان نے ہفتے کو مالمو میں قرآن کی ایک جلد نذر آتش کی تھی جس کے بعد وہاں کے اسکول میں رات میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور چار دن سے مسلسل احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس قبیح عمل کی وجہ سے حالیہ دنوں میں احتجاج کرنے والے مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ جمعرات اور جمعے کو ہونے والی جھڑپوں میں 12 پولیس افسران زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اتوار کو نورکوپنگ میں احتجاج کے دوران 8 افراد اور لنکوپنگ میں کیے گئے احتجاج میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سعودی عرب نے قرآن مجید کی جلدیں نذر آتش اور اس کی بے حرمتی کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی مذمت کرتے ہوئے مکالمے، بقائے باہمی اور برداشت جیسی اقدار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

بیان میں نفرت، شدت پسندی اور بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے تمام مذاہب اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔

ان واقعات کے بعد عراق کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بغداد میں سویڈن کے ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔