سیاسی قیادت کا امتحان
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 18 / اپریل / 2022
پاکستان کا سیاسی بحران سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں سے ایک سیاسی او ر جمہوری یا آئینی و قانونی کردار کا تقاضہ کرتا ہے۔ ا س جنگ میں افراد کے مقابلے میں ادارے اور سیاسی جماعت کے مقابلے میں ریاست کے مفادات کو زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
لیکن یہاں عملی طور پر سیاست او ر جمہوریت کے نام پر ذاتی اور جماعتی مفادات کی جنگ غالب ہے او ر اس کے نتیجہ میں قومی سیاست میں بہتر ی پیدا ہونے کی بجائے تسلسل کے ساتھ بگاڑ کا کھیل جاری ہے۔جمہوریت اور سیاست کی بنیادی کامیابی کی کنجی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہوتی ہے او ریہ ہی لوگ اس عمل کو مضبوط کرکے ملک کی سمت کو درست کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہاں سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت سمیت دیگر سیاسی فریقین یا اداروں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے پہلے سے موجود سیاسی غلطیوں میں اور زیادہ شدت پیدا کردی ہے۔ یہ عمل ملکی سیاست کو اور زیادہ کمزور کرنے یا اس میں بگاڑ کو مزید گہرائی کے ساتھ پیدا کرنے کا سبب بن گیا ہے او رہماری حیثیت محض ایک تماشائی کے بن کر رہ گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی بحران کا جائزہ لیں تو جو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت نے اس بحران کو کم کرنے میں خود سے کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگرچہ بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی مرضی کے سیاسی نتائج حاصل کرلیے ہیں اور حکومت کو گھر بھیج کر نئی سیاسی حکومت بھی بن گئی ہے۔لیکن سیاسی بحران حل ہونے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ بگاڑ ا س لیے بھی پیدا ہورہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں نے مسائل کے حل کے لیے سیاسی پلیٹ فارم یا سیاسی فورم استعمال نہیں کیے۔ ہم بات تو سیاست، جمہوریت اور پارلیمانی سیاست کی مضبوطی کی کرتے ہیں لیکن ہمارے عملی اقدامات ان سیاسی فورم یا پارلیمنٹ کو مستحکم کرنے کی بجائے ان کو غیر مستحکم کرکے شخصیت پرستی کو مضبوط کرتے ہیں۔اس کا عملی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ یہاں سیاسی نظام جو پہلے ہی ارتقائی عمل سے گزررہا ہے مزید بند گلی میں داخل ہورہا ہے۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی فریق پر نہیں بلکہ تمام سیاسی سطح پر موجود سیاسی فریقین ہی اس صورتحال کے حقیقی ذمہ دار ہیں۔
موجودہ سیاسی بحران میں سیاسی جماعتوں نے جو کام خود کرنے تھے وہ پارلیمنٹ یا خود ذمہ داری لینے کی بجائے عدلیہ اور فوج یا دیگر داخلی یا خارجی قوتوں پر ڈال دی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ ہر سیاسی مسئلہ کو پارلیمنٹ یا سیاسی فورم کی بجائے عدلیہ کی طرف لانا کوئی جمہوریت کی خدمت نہیں۔ ان کے بقول عدلیہ پر سیاسی بوجھ ڈالنے سے اس کے نتائج میں اور زیادہ بگاڑ سامنے آتا ہے اور یہ الزام بھی عدلیہ کو سننا پڑتا ہے کہ عدالتی محاذ پر سیاسی ایجنڈا یا پسند و ناپسند کے فیصلوں کا غلبہ ہے۔یہ ہی سوچ اور فکر حالیہ دنوں میں فوج کی قیادت کی طرف سے بھی سامنے آئی ہے کہ سیاسی جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں بلاوجہ سیاسی معاملات میں وہ فوج کو ان معاملات میں مت گھسٹیں۔مثال کے طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر کو وضاحت کرنا پڑی کہ حالیہ سیاسی بحران میں عمران خان کی حکومت کو جببڑی مشکل کا سامناتھا تو انہوں نے ہی فوج سے مدد طلب کی اور مختلف آپشن کی مدد سے بحران کے حل کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے آپشن رکھے۔ اسی طرح خود آج کی حکومت جو کل تک حزب اختلاف تھی وہ بھی بلاوجہ سیاسی بحران کے حل کے لیے فوج ہی کی طرف دیکھ رہے تھے جس میں قومی حکومت کے قیام سے لے کر دیگر آپشن پر ان کی سہولت کاری کی بات کی جارہی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جب سیاسی قیادت یا سیاسی جماعتیں خود ہی اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی بجائے سیاسی طاقت یا فیصلہ سازی کے اصل مرکز کو بنیاد بنا کر ایک یا دو اداروں کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کی سوچ اور فکر کے مطابق خود اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں تو پھر سیاسی ریموٹ کنٹرول ان کی بجائے کسی او رکے پاس ہوتا ہے۔ حالیہ تبدیلی میں بھی ہم نے ایسے کئی فیصلے دیکھے ہیں جہاں حزب اختلاف کی جماعتوں کو اپنے فیصلے کرنے میں کسی او رکی طرف دیکھنا پڑا ہے۔پاکستان کی جمہوری سیاست میں اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت پر ہمیشہ ایک مضبوط سیاسی بیانیہ رہا ہے۔لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں اسٹیبلیشمنٹ کا کردار سیاست میں کسی جادوئی فیصلہ سے حل ہوجائے گا وہ غلطی پر ہیں۔ یہ عمل ملک میں ایک بڑی سیاسی جدوجہد کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس کی پہلی اور اولین شرط مضبوط سیاسی نظام، سیاسی جماعتیں اور قیادت سمیت ایک مضبوط سول سوسائٹی ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں یا سیاسی قیادت ان کو مضبوط کرنے کی بجائے عملی طورپر اس پورے سیاسی عمل کو کمزور کرکے خود کو انفرادی سطح پر مضبوط بنا کر پیش کرتی ہیں۔
سیاسی جماعتیں ہو یا سیاسی قیادت ان کا بڑا امتحان محض اقتدار کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ اقتدار ایک ببنیادی چیز ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر عملی سیاست میں سیاسی رنگ بھرے جاتے ہیں۔لیکن اقتدار کا مقصد محض اپنی ذاتی سیاست یا طاقت کو بنانا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ عملی طور پر معاشرے اور ریاستی نظام میں حکمرانی کے اعلی معیارات کو بھی قائم کرنا ہوتا ہے۔ سیاست، سیاسی جماعتیں او ر ان کی قیادت کا عوامی تعلق ہی سیاسی نظام کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کی حیثیت مسائل کو پیدا کرنا یا اس میں مزید بگاڑ کو پیدا کرنے کی بجائے ان کے پائیدار او رمضبوط حل کی طرف ہوتا ہے۔سیاسی جماعتیں اور قیادت عوام کے اور عوامی مفادات کے ساتھ خود کو کھڑا کرتی ہیں۔لیکن یہاں جو سیاسی نظام او ر اس کے فریق ہیں وہ عوام کے مقابلے میں معاشرے میں موجود طاقت ور طبقات کی نمائندگی کرکے سیاسی نظام سمیت عوامی مفادات کو مفلوج کرتی ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں عام آدمی سمیت معاشرے کے پڑھے لکھے طبقات میں بھی سیاست او رجمہوریت سمیت سیاسی قیادتوں کا سیاسی مقدمہ مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ی کا سبب بن رہا ہے اور لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نظام ہماری سیاسی طاقت بننے کی بجائے ہمارے سیاسی، سماجی او رمعاشی استحصال کا سبب بنتا ہے۔
سیاسی جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کو بنیادی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ سیاسی نظام کی بنیادی کامیابی کی کنجی اس نظام میں ایک مضبوط، مربوط اور شفاف ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ سیاسی نظام وہیں اپنی افادیت او راہمیت کو قائم کرتا ہے جہاں اصلاحات کو بنیاد بنا کر نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔لیکن یہاں اول تو اصلاحات کا نظام ہی کافی کمزور ہے اور دوسرا اگر اصلاحات کرنا مقصود ہو یا ان پر دباو ہو تو پالیسی یا قانون سازی کو کرنے کے بعد یہ عمل عملی اقدامات کی سطح پر ریاستی وحکومتی نظام میں عدم ترجیحات کا شکار ہوجاتا ہے۔سیاسی جماعتوں کی اپنا داخلی جمہوری نظام بھی سنجیدہ نوعیت کے بنیادی سوالات رکھتا ہے لیکن سیاسی سطح پر سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت نہ تو اس کو اہمیت دیتی ہیں اور نہ ہی ان موضوعات کو اپنی سیاسی بحث کا حصہ بناتی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر ادارہ جاتی نظام مضبوط ہوگا تو ان کو ہر ادارہ کی سطح پر جوابدہی کے نظام سے گزرنا ہوگا اور نظام یا اداروں کے مقابلے میں افراد کی بالادستی ہوگی تو ہم اپنی مرضی او ر منشا کے مطابق افراد کی مدد سے اپنی سیاسی طاقت کے کھیل میں برتری کو قائم رکھ سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کو جو حالیہ سیاسی بحران ہے جو حکومت کی تبدیلی کے باوجود کئی سنگین نتائج کی طرف اشارہ کررہا ہے اس میں آج کی حکومت اور حزب اختلاف کیا ایسا کردار اداکرتے ہیں کہ جو حالات کی بہتری کی طرف لے جاسکے۔ کیونکہ جو بداعتمادی اور سیاسی سطح پر محاز آرائی جس میں شدت پسندی بھی غالب ہے ایسے میں ان سیاسی فریقین میں سیاسی مکالمہ کیسے ممکن ہوسکے گا۔ دونوں سطحوں سے ایک دوسرے کی قبولیت کا نہ ہونا اور ایک میز پر نہ بیٹھنا ہی سیاسی بحران کو اور زیادہ بگاڑنے کا سبب بن رہا ہے۔ منطق دی جاری ہے کہ ملک میں نئے عام انتخابات سے قبل کچھ انتخابی اصلاحات کی مدد سے شفاف انتخاب کی طرف بڑھا جاسکتا ہے، مگر یہ سب کچھ کیسے ہوگا اور کیسے سب فریقین اس میں معاونت کا کردار ادا کریں گے، مشکل سوال ہے۔کیونکہ ”امپورٹیڈ حکومت نامنظور“ کی تحریک اور زیادہ سیاسی انتشار کو پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔