نیٹو کی بڑھتی قوت اور روسی جارحیت

نیٹو اپنی طاقت کا توازن بڑھا رہا ہے بالخصوص مشرقی یورپ کے اطراف میں پھیلے مقامات پر۔ بالٹک سمندر جوکے جرمنی کے شمال میں سمندری سرحد کا بھی کام دیتا ہے کا اب متاثرہ علاقے میں شمار ہورہا ہے۔جہاں پر جرمن کی بحریہ اپنی موجودگی کو ظاہر کرکے حالات کی نزاکت کا عندیہ دےرہی ہے۔

خاص کر یوکرائن میں روسی جارحیت کے بعد نیٹو بہت متحرک نظر آنے لگی ہے۔ ایسی بڑی فوجی مشقیں جو یورپ میں کئی دہائیوں سے مفقود نظر آتی تھیں اب اچانک سے ان کو عمل میں لایا جارہا ہے۔ کیا یورپ ایک نئی سرد جنگ کی طرف گامزن ہے۔ اس سوال کے جواب میں جولیا بیرگ ہوف، یورپین لیڈر شپ نیٹ ورک لندن کی نمائندہ کہتی ہیں کہ ہاں میں تو یہ کہوں گی کہ ہم اپنی پیدائش سے قبل کی اولین سرد جنگ کے بعد اب سرد جنگ دوم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ نیٹو کی فضائیہ اور روسی فضائیہ کے مابین کئی سالوں سے ہی اتفاقی حادثات وقوع پذیر ہوتے آئے ہیں۔ ان حادثات میں غلط فہمیاں اچانک کسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ روسی فضائیہ کے طیارے جب بھی نیٹو کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو نیٹو کے طیارے پرواز کرتے ہوئے روسی طیاروں کو اپنی حدود سے باہر کا راستہ دکھادیتے ہیں۔ مگر کبھی ایسی کسی کوشش کو روسی ہواباز نے اپنے جہاز پر حملہ تصور کرتے ہوئے جواباً فائر کھول دیا تو ایسی صورتحال میں فضائی جھڑپ، جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتی ہے۔ نیٹو اپنی فضائی نقل و حرکت اور جنگی مشقوں کو مشرق کی جانب کافی بڑھا رہا ہے۔ فضا میں موجود ان جنگی جہازوں کی بڑھتی تعداد ایسے اتفاقات کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔
نیٹو اور خاص کر جرمنی خودکو ہتھیار سے لیس کر رہا ہے۔ جرمنی کو اپنی سرحدی حدود اور نیٹو کی سرحدی حدود میں سخت مقابلے کی صورتحال کا سامنا ہے۔ جرمنی نے ایک صد بلین یورو فوج کو جدید خطوط پر تیار کرنےکے لیے مختص کئے ہیں۔ اور اس خطیر رقم کو ہر ممکن طریقے سے دفاع کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ جرمنی ایک دفعہ پھر سے خود کو ہتھیار سے لیس کر رہا ہے۔ نیٹو کے ایک اہم رکن ناروے کی سرحدیں سمندر سے روسی پانیوں سے ملتی ہیں۔ یہاں بارینٹ سی میں روسی ایٹمی ہتھیار بردار آبدوزیں موجود ہیں۔ اس روسی ناروے  آبی سرحد کا فاصلہ جرمنی سے صرف تین ہزار کلومیٹر ہے۔ سمندر کے اس پار ناروے کی حدود میں اس سال مارچ کے مہینے میں نیٹو کے تیس ہزار فوجیوں نے ایک مشق میں حصہ لیا۔ جس میں جرمنی کے تین ہزار فوجی بھی شامل تھے۔ یہ فوجی مشق سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی مشق کی صورت میں کی گئی۔ جرمنی کی فضائی اور بحریہ اس میں ہراول دستے کی مانند شامل رہی۔ اس مشق میں شامل ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ نیٹو کی اس مشق سے قبل سرحد پار روسی کمانڈروں کو ایک ملاقات میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ مشق صرف اور صرف  اپنی دفاعی استداد کی پرکھ کے لیے کی گئی ہے اور اسے مقابلے کی دعوت سمجھنا ویسے ہی غلط ہوگا جیسے اس غلط فہمی میں رہنا کہ ہم ناروے کی سرحدی حدود کی خلاف وری برداشت کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب برلن سے تقریباً ہزار کلومیٹر دور بالٹک سمندر کی حدود ہے۔ بالٹک سمندر جسے نیٹو اور روس مشترکہ طور استعمال میں لاتے ہیں اور جہاں سے روس کے تیل بردار جہاز ترسیل معدنی تیل کا کام سر انجام دیتے ہیں، میں جرمنی کی بحریہ اپنے یتھیار بند جہازوں کے ساتھ اپنی موجودگی سے حالات کی نزاکت کا عندیہ دےرہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی سی غلط فہمی یورپ میں کسی تیسری عالمی جنگ کے چھڑ جانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ روس کے پاس تقریباً دوہزار ایٹمی ٹیکٹیکل میزائل موجود ہیں۔ جس کے مقابل نیٹو کے پاس ایسے صرف 250 امریکی ساخت کہ ایٹمی بم ہیں۔ روسی میزائل کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور پہنچ برلن تک ہے۔ جبکہ فرانس اور برطانیہ کی افواج بھی ایسے مہلک اور دورمار ایٹمی ہتھیار سے مسلح ہیں۔ یعنی ہر دو جانب ایٹمی یتھیار موجود ہیں۔ جرمنی کے پاس گو ایسے مہلک ایٹمی یتھیار موجود نہیں۔ یہاں فوجی مشق میں ایٹمی ہتھیار سے  جنگ اور دفاع کی مشق کی جاتی ہے۔

سن دوہزار چودہ میں روس کے کرائما پر تسلط کے بعد سے ناٹو نے اپنی فوجی مشقیں بڑھا دی ہیں۔ اور اپنے فوجی دستے مشرقی میں پہنچانے شروع کر دیے ہیں۔ جہاں باقاعدہ فوجی مشقیں کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور دوہزار اٹھارہ میں کی جانے والی لتھوینا کی فوجی مشقیں۔ مشرق اور شمال کی جانب یورپ اور ناٹو کو کافی خطرات ہیں۔ اور کسی بھی متوقع جنگ کے لیے نیٹو اور جرمن فوج خود کو تیار کر رہی ہے۔ جرمنی میں عرصہ دراز سے فوج کی جدید خطوط پر ترقی کی جانب غفلت برتی جاتی رہی ہے مگر اب جرمن فوج خود کو نئے چیلنچ کے لیے تیار کررہی ہے۔ جدید لڑاکا طیارے، ٹینک اور دیگر اسلحے سے خود کو مرصع کر رہی ہے۔ یوکرائن کی جنگ نے جرمنی کے امن پرور سوچ کو یکلخت بدل دیا ہے۔
ایک تیسری عالمی جنگ اور اس کے بعد کسی سرد جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔