مفتاح اسماعیل کا تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 19 / اپریل / 2022
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور وفاقی کابینہ کے رُکن مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ ’حقیقت پسندانہ‘ ہو گا اور تیل کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی۔
یاد رہے کہ مفتاح اسماعیل نے منگل کے روز بطور رکن وفاقی کابینہ حلف اٹھایا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا جائے گا۔ حلف اٹھانے سے ایک روز قبل صحافیوں اور ماہرینِ معیشت سے غیر رسمی گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ حکومت فی الوقت تیل پر تقریباً 80 ارب روپے ماہانہ کی سبسڈی دے رہی ہے جو وفاقی حکومت کے سالانہ اخراجات اور سول ملٹری پینشنز کے برابر ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اپنی حکومت کے اواخر میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا تاہم اب نئی حکومت آنے کے بعد شاید یہ رعایت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان کو اپنا بجٹ خسارہ کم کرنا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری رکھنے کے باعث شرائط پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ کئی دوست ممالک سمیت چین کے ایشیائی انفراسٹرکچر انوسٹمینٹ بینک کی شرائط کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ رہنا ہو گا تبھی وہ پاکستان کے لیے مالی امداد یا سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔ اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مفتاح اسماعیل امریکہ کا دورہ کریں گے تاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے آنے والے بجٹ اور مالی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے لیے جا سکیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں زر مبادلہ کی کمی ہے چنانچہ یہ ضروری ہے کہ پہلے معاشی استحکام کی طرف توجہ دی جائے۔ واضح رہے کہ مرکزی بینک کے ڈیٹا کے مطابق آٹھ اپریل یعنی عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے ایک دن پہلے تک مرکزی بینک کے پاس 10 ارب 84 کروڑ 96 لاکھ ڈالر تھے جبکہ چھ ارب 17 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس تھے، یعنی پاکستان کے زرِمبادلہ کے کُل ذخائر آٹھ اپریل کو 17 ارب دو کروڑ 81 لاکھ ڈالر تھے۔
ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستانی عوام کے لیے کڑے معاشی حالات منتظر ہیں کیونکہ معاشی استحکام لانے کے لیے نئی حکومتیں بلند شرحِ سود، سبسڈیز کے خاتمے اور ٹیکسوں میں اضافے جیسے اقدامات کرتی ہیں۔ جب بی بی سی نے ان سے سوال کیا کہ کیا معاشی استحکام یقینی بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اگلے بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط کی زیادہ پاسداری کی جائے گی اور عوام کے لیے ریلیف کم ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ آنے والا بجٹ ’حقیقت پسندانہ‘ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے برعکس ٹارگٹڈ نہیں ہے چنانچہ یہ خسارے کی بڑی وجہ ہے۔ حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ یہ سبسڈی کب تک برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی چیزیں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد واضح ہوں گی۔
آمدنی پر ٹیکسز کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کے آخری دور حکومت میں انکم ٹیکس کے سلیب میں اضافے کے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں اور اگر آئی ایم ایف نے تسلیم کیا تو وہ اس بار بھی یہی کریں گے۔ بی بی سی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا شدید دباؤ ہے جو کہ کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی خسارے کے باعث ہے۔
مالی استحکام کے حوالے سے بی بی سی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان پر مالی عدم استحکام کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہے تاہم وہ کوشش کریں گے کہ انٹرسٹ گروپس مثلآ ریئل سٹیٹ یا کنسٹرکشن شعبے کو سبسڈی دینے کے بجائے عوام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنے وقت کی منصوبہ بندی کرنے والے ہیں تو مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وہ منصوبہ بندی اسی خیال کے تحت کریں گے کہ جیسے اُنہوں نے اگست 2023 تک کام کرنا ہے۔