امریکی رُکنِ کانگریس الہان عمر کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات

  • بدھ 20 / اپریل / 2022

امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے بنی گالا میں اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

امریکی ایوانِ نمانندگان کی مسلمان رُکن الہان عمر چار روزہ دورے پر منگل کو اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں دفترِ خارجہ کے حکام نے اُن کا استقبال کیا۔ تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے مطابق الہان عمر نے منگل کو بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کی اور اسلاموفوبیا سے متعلق اُن کی کاوشوں کو سراہا۔

الہان عمر نے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر عمران خان اور پی ٹی آئی کے مؤقف اور کام کی تعریف کی۔ اس موقع پر عمران خان نے بھی مختلف مسائل پر الہان عمر کے جرات مندانہ اور اصولی مؤقف کو سراہا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ الہان عمر دورے کے دوران اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زیادہ وقت گزاریں گی۔ توقع ہے کہ وہ ایک دن کے لیے لاہور بھی جائیں گی۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران ان کی ملاقات اہم سیاسی شخصیات سے ہو گی۔

ذرائع کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ وہ صدر عارف علوی، وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گی جب کہ اعلیٰ عسکری قیادت سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے۔ الہان عمر ماضی میں کشمیر کے معاملے پر کافی کھل کر بات کرتی رہی ہیں۔ اگست 2019 میں جب بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی جس کے بعد ان کا سوشل میڈیا پر ایک بیان کافی وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیریوں کے لیے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے اور انٹرنیٹ کی سہولت فوری بحال کی جائے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی جلال الدین مغل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مظفر آباد میں حکومت کی حالیہ تبدیلی کی وجہ سے اس دورے کا زیادہ چرچا نہیں ہے، البتہ یہ دورہ کئی ماہ پہلے طے پایا تھا اس لیے اس کی تاریخ میں تبدیلی ممکن نہیں تھی۔

الہان عمر 2018 میں ریاست منی سوٹا سے جیتنے والی نہ صرف پہلی مسلم خاتون ہیں بلکہ 78 فی صد ووٹ حاصل کرنے کے بعد وہ پہلی خاتون امیدوار تھیں جو منی سوٹا سے اتنے ووٹ لینے میں کامیاب ہو سکی تھیں۔ الہان عمر کا تعلق افریقی ملک صومالیہ سے ہے جہاں سے وہ بطور پناہ گزین امریکہ آئی تھیں۔

الہان عمر کانگریس کی پہلی دو مسلم خواتین ارکان میں سے ایک ہیں۔ انہیں انسانی حقوق خاص طور پر اقلیتوں کے حقوق پر آواز اٹھانے کے لیے کئی سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سراہا جاتاہے، جب کہ کچھ حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔