ملکی مسائل کا جنگی بنیادوں پر کام کرکے مقابلہ کرنا ہوگا: وزیراعظم

  • بدھ 20 / اپریل / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں ملکی مسائل حل کرنے لے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ زہریلے پروپیگنڈے کا حقائق سے جواب دینا ہوگا۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ہمیں اس ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانا ہے۔

وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کابینہ کے تمام ارکان اور آزادانہ طور پر جیت کر اس کابینہ کا حصہ بننے والوں کو دل کی گہرائیوں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار افراد کابینہ کا حصہ ہیں جنہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ایک آئینی اور قانونی طریقےسے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ کامیابی عطا فرمائی ہے۔ یہ اتحاد پاکستان کی تاریخ کا وسیع ترین اتحاد ہے جس کی تحسین اور نکتہ چینی بھی کی جارہی ہے۔ یہ اتحاد ان شا اللہ ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر کو ہو کر پاکستان کے عوام کی خدمت کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اسے ایک طرح کی ’جنگی کابینہ‘ سمجھتا ہوں کیونکہ ہم غربت، مہنگائی اور تمام مشکلات کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جس میں گزشتہ حکومت بری طرح ناکام رہی، مجھے امید ہے کہ مشاورت سے ہم اس سلسلسے کو جاری رکھیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کابینہ کی تشکیل میں ہمیں آٹھ دس دن لگے۔ ہم پر تنقید کے نشتر بھی چلائے گئے لیکن الحمد اللہ یہ کام ہوگیا۔ آج بہت قابل اور تجربہ کار کابینہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارے سامنے لوڈشیڈنگ اور ایندھن کی قلت جیسے چیلنجز ہیں جس پر آج آپ کو بریفنگ دی جائے گی تاکہ آپ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے حل کے لیے فیصلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چاروں صوبوں، خاص طور پر بلوچستان کے مسائل پر ہمیں خصوصی توجہ دینی ہوگی اور اپنا پورا زور استعمال کرنا ہے۔ چینی کہاوت ہے کہ جہاں مشکل ہو وہاں موقع بھی ہوتا ہے، میرا ایمان ہے کہ اگر درد دل اور یقین کے ساتھ کام کریں گے تو ہم تمام مشکلات کو عبور کر سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کی پہلی کابینہ ہے جو دھرنوں کی پیداوار حکومت کو آئین اور قانون کے ذریعے ہٹا کر معرض وجود میں آئی ہے۔ یہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ہمیں اس ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانا ہے، معاشی مسائل ضرور ہیں لیکن ہمیں اس ملک کو ان مسائل سے بچانا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب وقت آئے گا تب ہم سیاست بھی ضرور کریں گے، جب الیکشن کا وقت آئے تو اپنے اپنے منشور کے ساتھ عوام کے پاس جائیں گے۔ آج ہمیں یک جاں دو قالب ہوکر چیلنجز کو حل کرنا ہے، اس کے لیے جتنی بھی قربانیاں دیں وہ کم ہوں گی۔ ہمیں اتحاد قائم کرنا ہوگا، زہریلے پروپیگینڈا کا حقائق کی مدد سے جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 سال میں کرپشن عروج پر تھی اس کو ہمیں ختم کرنا ہے، قوم کو قرضوں کے جال سے نکالنا ہے۔ ملکوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی زمین بوس ہوگیا تھا، جاپان میں جب بم برسائے گئے تو انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے لیکن پھر انہوں نے 60 برس میں اپنی حالت کیسے تبدیل کرلی اور رونے دھونے میں وقت ضائع نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قرآن کی ہدایت اور حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ قائد اعظم کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے کہ کیسے انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، یہ روشن مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے کابینہ کے ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج اللہ نے آپ سب کو بہت عزت سے نوازا ہے۔ اس عزت کا تقاضہ ہے کہ عوام کی خدمت میں جُت جائیں، پھر آپ دیکھیں گے کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اتفاق، اتحاد اور مشاورت سے بڑے سے بڑے مسائل حل کریں گے۔ وزارت عظمیٰ کی یہ کرسی آپ کی امانت ہے جس کا میں امین ہوں، آپ نے میری رہنمائی کرنی ہے۔ آپ نے مجھے مشورے دینے ہیں اور ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، ان شا اللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

کابینہ اجلاس کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کو عمران خان کی زیر قیادت گزشتہ چار سال میں ہونے والی معاشی تباہی اور غیر ذمہ دارانہ مالیاتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ گزشتہ چار سال کے دوران مہنگائی، بے روزگاری ، قرض اور خسارے میں اضافہ ہوا، جی ڈی پی کی شرح میں کمی ہوئی۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے کوئی جادو کی چھڑی کام نہیں آئے گی، عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے دن رات محنت کرنی ہوگی۔  مجھے احساس رہتا ہے کہ سفید پوش طبقے کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں، بدقسمتی سے ہمیں قومی خزانہ جس حالت میں ملا ہے وہ میری خواہش کو پورا کرنے کے قابل نہیں، پھر بھی ماہِ رمضان کے دوران اپنے تنگدست اہلِ وطن کو مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ مشکلات کو کچھ کم کرنے کے لیے پنجاب میں 10 کلو آٹے کی قیمت کم کردی ہے، ہمیں قوم کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے ہیں۔ بلوچستان کےعوام کے مسائل پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، دیگرصوبوں کےمسائل پر بھی درددل کے ساتھ توجہ دینا ہوگی۔