اسلامو فوبیا میں اضافہ کیوں؟

سویڈن میں انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کرنے کی حالیہ کوششوں کے نتیجے میں جنم لینے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد عالمی میڈیا میں اسلاموفوبیا کی بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔

اگرچہ سویڈن سمیت یورپ کے کئی ایک ممالک میں گذشتہ کئی سالوں سے قرآن مجید نذر آتش کرنے اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سمیت مذہب اسلام کی توہین اور بے حرمتی کے واقعات گاہے بگاہے ہورہے ہیں لیکن سویڈن میں پچھلے ایک دو سالو ں سے دائیں بازو کی مسلم مخالف تنظیم نے قرآن مجید کے نسخوں کو نذرآتش کرنے کی باقاعدہ منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔سویڈن میں جاری اس حالیہ مہم کے پیچھے انتہائی دائیں بازو کی مسلم مخالف تنظیم کے انتہا پسند رہنما راسمس پیلوڈن کا نام لیا جا رہا ہے جو ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں کھڑے ہونے کے لیے ضروری تائید کنندگان کی حمایت کی تلاش میں ہے۔

اگرچہ اسلاموفوبیا کی اصطلاح کے استعمال کا آغاز فرانسیسی زبان میں 1910جب کہ انگریزی زبان میں 1923میں ہو گیا تھا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کی ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا۔انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف اور دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔11ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔سانحہ نائن الیون کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی جانب سے ردعمل کے طور پر اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو فروغ دیا گیا۔ پاکستان میں اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو مقبول عام کرنے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کردار اہم رہا۔

نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دہشت گرد حملوں اور فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی عوامی تشہیر کے واقعات پر عمران خان نے نہ صرف ملکی سطح پر بل کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھی اسلامو فوبیا کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ کرائسٹ چرچ حملے کو پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کینیڈین وزیراعظم نے بھی اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔پچھلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامی تعاون کی تنظیم کے ایما پر اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کی جس کے تحت ہر سال 15اکتوبر کو اسلامو فوبیا کے تدارک کے لیے عالمی دن منایا جائے گا۔

 مغرب میں اسلاموفوبیا پچھلے پانچ دس سالوں میں سامنے نہیں آیا بلکہ یہ  نوے کی دہائی سے قبل کاموجود ہے،  البتہ نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک دائیں بازو کے سیاستدانوں اور شدت پسند مذہبی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے وقتاًفوقتاً دیے جانے والے بیانات نے مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کو سنجیدہ خطرہ بنا نے میں اہم کردار اداضرور کیا ہے۔یہ سیاستدانوں کی جانب سے متعصب قوم پرست اور انتہا پسندمذہبی رہنماؤں کے نفرت و تعصب پر مبنی بیانیے کی بلاواسطہ وبلواسطہ حمایت ہی ہے کہ آج امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ایک یورپی ممالک کی 50فیصدسے زائد آبادی اسلام اور مسلمانوں بارے نفرت اور عداوت پر مبنی جذبات رکھتی ہے۔یورپ میں مذہب اور ریاست کے الگ ہونے اور اظہار رائے پر کسی بھی قسم کی مذہبی قدغن نہ ہونے کی وجہ سے مذہب اور مذہبی شخصیات پر تنقید عام ہے لیکن مسلمان مذہب، خاص طور پر پیغمبر اسلام پر کسی بھی قسم کی تنقید و طنز سننے کو تیار نہیں۔یورپ والے ایسے واقعات پر مسلمانوں کی طرف سے آنے والے شدید جذباتی ردعمل کو عدم برداشت سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ مسلمان اسے  اسلاموفوبیا قرار دیتے ہیں۔ کمزور معاشی حیثیت اور کوئی موثر سیاسی پلیٹ فارم نہ ہونے کے باعث مسلم ممالک مغرب کا نہ تو معاشی بائیکاٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی بزور طاقت اسے اپنے معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کا حکم دے سکتے ہیں۔اسلامی ممالک کے پاس واحد آپشن یہی ہے کہ وہ افہام و تفہیم اور دلائل سے مغرب کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں کہ وہ ہولو کاسٹ کی طرح پیغمبر اسلام کے خلاف بھی کوئی منفی بات نہ کر

سیموئل پی ہنٹنگٹن نے نوے کی دہائی کے آخر میں کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں مغربی تہذیب کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی اور چینی تہذیب سے ہوگا۔اس کے خیال میں مغربی تہذیب کی معاشی و ثقافتی اجارہ داری کو کمزور کرنے کے لئے اسلامی و چینی تہذیب میں تعاون بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح ان دونوں تہذیبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی تہذیب ہندی تہذیب کا دامن تھام سکتی ہے۔یورپی ممالک میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ہنٹنگٹن نے لکھا تھا۔"مسلمان تارکین وطن کی مخالف یورپی پارٹیاں مسلمان ملکوں کی اسلام پسند پارٹیوں کا عکس ہیں۔اسلامی جماعتوں کی طرح یورپ کی دائیں بازو کی بیشتر  جماعتیں معاشی خدمات کا استعمال کرتی ہیں، نسلی اور مذہبی ترغیبات دیتی ہیں اور اپنے معاشروں پر خارجی اثرات پر نکتہ چینی کرتی ہیں۔دونوں ہی انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیتی ہیں۔

اسی کی دہائی میں امریکہ آنے والے تارکین وطن میں سے 35فیصد کا تعلق ایشیا، 45فیصد کا لاطینی امریکہ اور 15فیصد سے کم کا تعلق یورپ اور کینیڈا سے تھا۔امریکہ میں قدرتی افزائش آبادی کی شرح کم ہے جبکہ یورپ میں صفر۔اس کے مقابلے میں ترک وطن کرنے والوں میں پیدائش کی شرح بہت زیادہ ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ مغرب کے لوگوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اب ان پر حملہ تو کیا گیا ہے لیکن فوجوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ ترک وطن کرنے والون کی صورت میں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف خداؤں کو مانتے ہیں، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔انہیں خوف ہے کہ یہ لوگ ان کے کاروبار پر قبضہ کر لیں گے، ویلفیئر سسٹم کو برباد کر دیں گے اور ان کے طرز حیات کو تباہ کر دیں گے۔یورپ میں سب سے زیادہ پریشانی مسلمان تارکین وطن کے حوالے سے ہے۔مسلمان اپنے میزبان ملکوں کی ثقافتوں میں ضم نہیں ہوئے ہیں اور یورپ والوں کو یہی پریشانی ہے کہ وہ ضم ہوتے دکھائی بھی نہیں دے رہے۔ "ہنٹنگٹن کے مطابق دیگر ثقافتوں کوجذب نہ کرنا یا دیگر ثقافتوں میں ضم ہونے کے خلاف مزاحمت اور غیر مسلم گروہوں سے اجنبیت اسلام کے تاریخی اوصاف ہیں۔

دیکھا جائے تو آج بھی مغربی و یورپی معاشروں میں آباد مسلمان تارکین وطن کا رویہ ایسا ہی ہے۔مغرب کے اخلاقی، سماجی اور خاندانی زوال کو دیکھتے ہوئے وہاں مقیم مسلمان خاندانوں کی اکثریت اپنے مذہب، ثقافت اور خاندانی نظام پر کاربند رہنے کی سعی کر رہے ہیں۔مسلم تارکین وطن نہ صرف اپنی مذہبی اقدار، رسم ورواج اور ثقافت سے وابستہ ہیں بلکہ وہ اس کو پھیلانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔مغربی و یورپی معاشروں کے قوم پرست سیاست دان اور مذہبی تنگ نظر اپنے ممالک میں بڑھتی ہوئی مساجد اور اسلام کے اثر ورسوخ سے سخت خوف زدہ ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں کے پیچھے اسی طرح کی سوچ کارفرما تھی۔