سیاسی محاز آرائی اور قومی مفاد کا تقاضہ

پاکستان  کو  قومی مفاہمت پر مبنی سیاست درکار ہے۔کیونکہ اہل سیاست  کی باہمی چپقلیش  نے ملک کو سیاسی محاذ پر آگے بڑھانے کی بجائے ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔

سیاسی بداعتمادی کے کھیل میں کوئی بھی فریق ایک دوسرے کو قبول کرنے کی بجائے  من مانی کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔  باہمی محاذ آرائی نے ریاستی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے او رمختلف سیاسی فریقین  اس بحث میں اداروں کو اپنی حمایت اور مخالف میں استعمال کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے ان حالات کی بہتری  کے لئے سوچ وبچارکی کوشش کررہے ہیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہی زیر بحث ہے کہ ہم کیسے موجودہ حالات سے باہر نکل سکتے ہیں او راس کی سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔

عمران خان حکومت کی تبدیلی سے  جو امید کی گئی تھی کہ  حالات بہتر ی کی طرف بڑھیں گے اور ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کا امکان بھی پیدا ہوگا، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد جو نئی حکومت سامنے آئی ہے اس کے سامنے بھی بڑے بڑے  چیلنجز موجود ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی ومعاشی محاذ پر گہری بارودی سرنگیں ہیں جن کا حل ایک بڑے باہمی سیاسی اتفاق رائے کے بغیرممکن نہیں۔جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ  معاشی سنگینی کی وجہ سے ”میثاق معیشت“ کو ہر صورت ممکن بنانا ہوگا۔ مگر  کیا ”میثاق معیشت“ کسی سیاسی تنہائی میں ممکن ہوسکے گا یا کیا ملکی سطح پر سیاسی استحکام کسی بڑی سیاسی محاذ آرائی کے خاتمہ کے بغیر ممکن ہوسکے گا۔  تو جواب یقینی طور پر نفی میں ہوگا۔ کیونکہ سیاسی استحکام کا راستہ ہی معاشی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔اس لیے سیاسی و معاشی مسائل کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں دیکھنے کی بجائے ان میں کامیابی کے لیے مشترکہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر سیاسی و معاشی حکمت عملی درکار ہے۔

طاقت کے مراکز سمیت سیاسی فریقین یا ریاستی و حکومتی سطح پر جو لوگ بھی یہ منطق رکھتے ہیں کہ قومی مسائل کو موجود درپیش چیلنجز کے لیے ہمیں طاقت کا استعمال کرنا ہوگا۔ جو لوگ بھی یا حزب اختلاف سیاسی محاز آرائی کو طول دیتے ہیں یا سیاسی ڈیڈ لاک کو پیدا کرتے ہیں تو ہمیں ریاستی رٹ کی مدد سے مقابلہ کرکے ان کو ختم یا کمز ور کرنا چاہیے۔ کچھ لوگوں نے فیصلہ ساز فریقین کو یہ ہی مشورہ دیا ہے کہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی سیاسی مزاحمت کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگاکر ان کی سیاست ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ  درست حکمت عملی نہیں ہوگی او راس کا ردعمل ہر محاذ پر منفی پڑے گا۔عمران خان فوری طو رپر نئے انتخابات کے حامی ہیں۔ وہ او ران کی جماعت قومی اسمبلی سے مستعفی ہوچکی ہے اور شنید یہ ہی ہے کہ آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلیوں سے بھی استعفے دیے جاسکتے ہیں۔جو لوگ بھی فیصلہ ساز افراد یا ادروں کی جانب سے عمران خان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ حالات کو بند گلی میں نہ دھکیلیں و رنہ ہی جلد بازی میں کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو ریاست کے لیے نئے مسائل پیدا کرے۔ مگر اس کے جواب میں عمران خان یہ ہی منطق دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں ریاستی و سیاسی ریڈ لائن سے باہر نہیں نکلیں گے مگر فیصلہ ساز ادارے بھی فوری انتخابات کا راستہ اختیار کریں۔

یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ موجودہ سیاسی بحران  سیاسی تقسیم کا سبب بن رہا ہے۔ ریاستی سطح پر موجود اداروں بشمول سیاسی، انتظامی و قانونی اداروں سمیت سول سوسائٹی، اہل دانش، میڈیا اور علمی و فکری محاذ پر سیاسی حالات مختلف فریقین کی حمایت او رمخالفت نے معاشرتی سطح پر ایک گہری تقسیم پیدا کردی ہے۔ سیاسی تبدیلی کے عمل کو بھی  سیاسی اسکرپٹ کی بنیاد پر دیکھا جارہا ہے او راس کا ردعمل قومی سطح پر مختلف سوالات کی صورت میں جنم لے رہا ہے۔اس تقسیم نے سوشل میڈیا سمیت تمام محاذوں پر عملی طور  سے تلخیوں، الزام تراشیوں، اداروں پر   مداخلت کے الزامات ، لعن طعن، وشنام ترازیوں  نے ملک کے داخلی ماحول کو اور زیادہ مشکل میں ڈال دیا ہے۔سیاست دان چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف  سے تعلق ہو، ان پر ہی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹکراؤ کی سیاست سے گریز کریں۔ سیاسی جلسوں کے ماحول کو کشیدہ بنانے کی بجائے اسے ایک دوسرے پر تنقید تک ہی محدود رکھیں تو سیاسی ماحول کو زیادہ تلخ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔خاص طور پر نوجوان پڑھے لکھے طبقہ کو جو سوشل میڈیا پر کافی حاوی ہے اسے محاذآرائی اور ادارہ جاتی تنقید کے ماحول سے نکالنا ہوگا۔ ایک خطرہ یہ موجود ہے کہ اگر عمران خان کی سیاست نے محاذ آرائی او رمزاحمت کو بڑی سیاسی طاقت دینی ہے او راس کی مختلف شکلیں بھی ہم کو دیکھنے کو مل رہی ہیں تو اس کا ایک فطری نتیجہ عمران خان کے مخالفین کی جانب سے بھی ردعمل کی صورت میں سامنے آئے گا۔ایک عمومی خیال یہ ہی ہے 2022عام انتخابات کا برس ہوسکتا ہے۔لیکن اگر ہمارے سیاسی ماحول میں موجود کشیدگی نے کم نہیں ہونی ہے تو پھر نئے انتخابات کا ماحول میں کیسے سیاسی کشیدگی کو کم کیا جاسکے گا۔کیونکہ جو آج کی حکومت ہے جب ان کو یہ احساس ہوگا کہ عمران خان عوامی سیاسی میدان میں ان کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کررہا ہے تو ان کو بھی سیاسی میدان میں کودنا پڑے گا اور جوابی ردعمل دینا ہوگاجو اور زیادہ محاذ آرائی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔جس انداز سے ہمارے ریاستی اداروں پر سوشل میڈیا میں تنقید ہورہی ہے وہ بھی ریاستی مفاد میں نہیں اور اس سے عملی طور پر ریاستی مفادات کو زیاد ہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بد قسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں او ران کی قیادت کے سامنے ریاستی یا قومی سطح کا مفاد اہم نہیں بلکہ سب ذاتیات پر مبنی سیاست کو آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔سیاست اور سیاسی اختلافات نے مسئلہ کے حل کی بجائے اس میں جہاں اور زیادہ بگاڑ پیدا کردیا ہے وہاں سیاسی دروازے بھی بند کردیے ہیں۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ داخلی سیاست کا یہ بحران ہمارے لیے علاقائی اور عالمی سیاست کے لیے بھی بحران کو اور زیادہ سنگین کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ہماری ریاست او رحکومت کو اپنی ترجیحات میں علاقائی سیاست سے جڑے مسائل پر توجہ دینی تھی وہ داخلی سیاست کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔یہ حکمت عملی ہمیں علاقائی سیاست میں بھی تنہا کررہی ہے او رہماری سیاسی دانش یہ سمجھنے سے ہی قاصر ہے کہ ہم نے اپنی  داخلی لڑائی سے ریاستی مفاد کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔اگر واقعی ہم نے نئے انتخابات کی طرف بڑھنا ہے تو ہمیں ایک مختصر وقت میں ایک ایسا سیاسی و انتخابی معاہدہ درکار ہے جو سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور آگے بڑھنے یا مفاہمت کی سیاست کو تقویت دے سکے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگا۔ کیسے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو یہ باور کروایا جائے کہ ان کا موجودہ طرز عمل نہ صرف سیاسی ماحول کو خراب بھی کرے گا بلکہ معاشرے میں موجود جو سیاسی،سماجی تقسیم بڑھ رہی ہے اس نے اور زیادہ خطرات کو بڑھادیا ہے۔

اس لیے یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہمیں مسئلہ کے حل کی طرف جانا ہے مگر ہم اپنی سیاسی انا کا شکار ہوکر فریقین میں سیاسی فاصلے بڑھارہے ہیں۔بدقسمتی سے جو رائے عامہ ہوتی ہے جو لوگوں کی ذہن سازی کرتی ہے یا جو سیاسی فریقین کے سامنے ایک متبادل راستہ دیتی ہے وہ خود بھی سیاسی تقسیم کا شکار ہوکر مسائل میں اور زیادہ شدت کو پیدا کررہی ہے۔اس لیے تمام سیاسی یا دیگر فریقین حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنے اپنے ذاتی مفاد سے باہر نکل کر ایک بڑے سیاسی فریم ورک میں کچھ مسئلہ کا حل نکالیں۔ مسئلہ کے حل میں سب فریقین کو ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا اور مل جل کر ایک ایسا حل تلاش کریں جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور جو ملکی مفاد کے تقاضے کو پورا کرتا ہو۔