اسلام آباد ہائی کورٹ کا سے عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ

  • ہفتہ 23 / اپریل / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلی بار عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ ماہ سے شہری عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ دیکھ سکیں گے۔

عہدیداران کے مطابق عدالتی انتظامیہ نے لائیو اسٹریمنگ کے لیےضروری آلات نصب کردیے ہیں۔ عدالتی کارروائی کی اسٹریمنگ کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ مغربی ممالک سمیت امریکا اور بھارت کی کچھ عدالتوں میں بھی کارروائی لائیو دیکھائی جاتی ہے۔ کچھ عدالتوں نے اس مقصد کے لیے اپنے یوٹیوب چینلز بھی بنا رکھے ہیں۔

پاکستان میں شہریوں کے لیےعدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا تصور نیا ہے۔ حال ہی میں بڑی عدالتوں میں ای کورٹ کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے۔ جس کے ذریعےججز آن لائن سماعت کرتے ہوئے وکلا کو محفوظ پاس ورڈ کے ذریعے میڈیا لنک پر سماعت میں شرکت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی ٹرمینل ریفرنس کی سماعت کی لائیو اسٹریمنگ کے لئے بارہا درخواست دائر کی تھی۔ خیال رہے سابق وزیر اعظم اس کی کیس میں خود بھی نامزد ہیں۔

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تاہم انہوں استدعا کی کہ حکمران جماعت پر چلنے والے کیسز کی سماعت بھی لائیو کی جانی چاہیے۔

عدالت کا ماننا ہے کہ مذکورہ فیصلے سے ججوں کا احتساب یقینی بنایا جاسکے گا، قانونی برادری کو توقع ہے کہ اس فیصلے سے عدالتوں کا عوام پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔ سپریم کورٹ کے وکیل کاشف علی ملک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد عوام اہم اور ہائی پروفائل کیسز کی سماعت لائیو دیکھ سکیں گے اور وہ بہتر انداز میں عدالتوں کے طرز عمل کا فیصلہ کرسکیں گے۔

ان کے مطابق عدالتی کارروائی کو منظر عام پر لانا یہ ظاہر کرے گا کہ ادارے منصفانہ اور شفاف ہیں اور بلا خوف و خطر انصاف یقینی بنانے کا عمل سر انجام دے رہے ہیں۔