کیا ضمانت پر ہونے والے پاکستانیوں کو نااہل قرار دے دینا چاہیے؟

پی ٹی آئی کے مداح آج کل ایسے پلے کارڈز لیے پھرتے ہیں جن میں ایسے پاکستانیوں کو نااہل قرار دیا جا رہا ہے جن کے خلاف پولیس تفتیش کر رہی ہو اور جو ضمانت پر ہوں۔

پی ٹی آئی والے بھائیو! یہ سوال تو اصولی اور درست ہے اور ہم اس کے پسِ منظر کو بھی سمجھتے ہیں۔

لیکن آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی جانتے ہیں کہ اصول اور قانون میں فرق ہوتا ہے۔ لازم نہیں کہ ہر اصول کو قانون کی بنیاد اور تحفظ حاصل ہو۔ پاکستان کا قانون یا آئین اس امر کی ممانعت نہیں کرتا کہ کوئی فرد جس کے خلاف تفتیش ہو رہی ہو، وہ منتخب نمائندہ بن سکے یا ملکی حکومت کا رکن بن سکے۔ تو ایسے میں آپ کا یہ سوال کیا اہمیت رکھتا ہے؟

ہم درخواست کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے عام اراکین اس نکتہ پر غور کریں۔ جبکہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے سوال ہے کہ وہ قوم کو اس قسم کے نعرہ دے کر کیا حاصل کر رہے ہیں؟ کیا وہ ملک میں اس رحجان کو مزید تقویت دینا چاہتے ہیں جس میں آئین اور قانون نہیں، جذبات اور نعروں کی بالادستی ہو گی؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ آئین اور قانون کے منافی اور ماورا نعروں اور رویوں ہی نے اس ملک اور معاشرہ کو کمزور کیا ہے۔ انہی رویوں کی وجہ سے ملک کی ہزاروں بیٹیاں قرآن سے بیاہی گئی ہیں، وہ باورچی خانوں میں زندہ جلائی جاتی ہیں اور ان کے بھائی ان کے حصہ کے ورثہ پر قابض ہیں جبکہ وہ خود در در کے دھکے کھا رہی ہیں۔

نعروں کی اس سیاست نے ملک کی اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، حالانکہ آئین اور قانون ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نعروں کی اس گھٹیا سیاست کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، اور بعد ازاں معافیاں مانگی جاتی ہیں۔

یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ کیا ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس کے خلاف کوئی الزام لگا ہو اور پولیس تفتیش کر رہی ہو، اسے انتخاب کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے؟  کیا پاکستان جیسے ملک میں جہاں گواہ، پولیس اور بدقسمتی سے جج بکتے ہوں اور جہاں تفتیش اور عدالتی کارروائی سالہا سال تک چلتی ہو، یہ درست ہو گا کہ قانون بنا دیا جائے کہ جونہی کسی شخص پر مقدمہ دائر کر دیا جائے تو وہ نااہل ہو جائے؟

یہ بھی یاد رکھیں کہ دنیا کی کسی ریاست میں یہ قانون نہیں کہ کسی ملزم کو اس کے آئینی اور قانونی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔ مہذب معاشروں میں ملزم اس وقت تک بے گناہ ہوتا ہے جب تک معاشرہ ایک طے شدہ نظام اور عدالت کے واسطے سے اسے مجرم ثابت نہ کر دے۔ کیا پی ٹی آئی اس بنیادی اصول سے انحراف کرنا چاہتی ہے؟ کیا وہ جماعت جو انصاف کے نام پر اور انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، پاکستانیوں سے ان کے بنیادی آئینی، قانونی اور شہری حقوق چھیننا چاہتی ہے؟

ایک آخری سوال پی ٹی آئی کی قیادت سے یہ کہ اگر آپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ان پاکستانیوں کو انتخاب لڑنے یا حکومت کا رکن بننے کا حق نہیں ہونا چاہیے جن پر کوئی مقدمہ بن جائے،  تو آپ نے ساڑھے تین سال میں اس کو قانونی شکل کیوں نہ دی؟ بالآخر آپ کے نعروں اور پلے کارڈز سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ایسا ہونا چاہیے تھا۔ اور آپ کو قانون سازی کے لیے اکثریت حاصل تھی۔ آخر یہ بات آپ کو اب کیوں یاد آئی جب آپ حکومت میں نہیں ہیں؟ 

آخر میں ایک دوستانہ مشورہ ہے کہ اس نعرہ کو واپس لے لیں کیونکہ جس طرح کا یہ ملک اور جس طرح کے یہاں رویے ہیں، کسی وقت بھی آپ پر بھی مقدمے بن سکتے ہیں۔ اور آپ کو بھی ضمانتیں کروا نا پڑیں گی۔ اگر آپ یہی نعرے لگاتے رہے تو پھر آپ بھی نااہل ہو جائیں گے۔ اورایک نارویجن قول کے مطابق آپ کو دروازے میں اپنا ہی سامنا کرنا ہوگا۔