عمران خان اپنی سیاست زندہ رکھنے کیلئے پاکستان کے مفادات کے ساتھ کھیل رہے ہیں: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان صرف اپنی ناکام سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل پاکستان کے مفادات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اسلام آباد آنے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں آئینی بحران کا سلسلہ چل رہا ہے۔ عمران خان کہتے تھے کہ میں دعا کرتا تھا کہ یہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں، 3 وکٹوں کی بات کرتے کرتے پینترا بدل کر سازش کی بات کرنے لگے۔ عمران نیازی اور ان کا ٹولہ بچگانہ حرکتیں کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے تماشا بنایا ہوا ہے، 4 سال وزارت عظمیٰ کے عہدے پر بیٹھے رہنے والا شخص اپنے ملک کے خلاف مصروف عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک نشہ آور ڈرائیور کی طرح عمران خان اپنی سیاست کی گاڑی آئین، قومی ادارے اور کلیدی مفادات سے ٹکراتے ہیں اور کبھی خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کو نشانے پر لیتے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے 2 بار واضح کردیا کہ پاکستانی سفیر کے مراسلے میں کسی بیرونی سازش کا ذکر نہیں ہے۔ ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قومی اداروں کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد اسے دفن ہوجانا چاہیے تھا لیکن عمران خان صرف اپنی ناکام سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل پاکستان کے مفادات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اگر خودمختار اور مضبوط ملک بننا ہے تو اس کی پہلی شرط مضبوط معیشت ہے۔ یہ تب ہی ہوگا جب پاکستان دنیا کی معیشت کے ساتھ جڑے گا، پاکستان دنیا سے کٹ کر مضبوط معیشت نہیں بن سکتا، ہمیں بیرونی سرمایہ کاری چاہیے، ہمیں اپنی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیاں چاہئیں۔
ہم نے پاکستان کو کیوبا اور شمالی کوریا نہیں بنانا۔ ہم نے پاکستان کو ملائیشیا، ترکی اور چین بنانا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے لیے 4 مضبوط خارجی ستون ہیں جن کے ذریعے پاکستان تیزی کے ساتھ ترقی کر سکتا ہے۔ پہلا ستون چین ہے جس کے تعاون کے بغیر ہم تیز رفتار ترقی نہیں کر سکتے۔ چین نے سی پیک کا منصوبہ دیا جسے عمران خان نے تار تار کرکے رکھ دیا اور تعلقات میں سرد مہری پیدا کردی۔
دوسرا ستون یورپی یونین ہے جس نے ہمیں جی ایس پی پلس دے رکھا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ کی گستاخی پر فرانسیسی سفیر کو نکالنے پر ملکی مفادات کی دہائیاں دینے والے عمران خان نے اپنی سیاست کی خاطر یورپی یونین سے تعلقات کو بھی چھکا لگا دیا۔ جلسوں میں ان کو للکارنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ خارجی معاشی میدان میں ہمارا تیسرا ستون امریکا ہے جو ہماری مصنوعات اور درآمدات کی بہت بڑی منڈی ہے۔ امریکا کو چین سرد جنگ کے موقع پر بھی ناراض نہیں کرتا۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک نے امریکا کی یونیورسٹیوں سے اپنی افرادی قوت تیار کی جس نے واپس آکر اس ملک کو کھڑا کیا۔