تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

کرکٹ کے ایک سابق کھلاڑی نے کہا ہے کہ میر جعفر نے بھٹو کو پھانسی دی ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ میر جعفر وہ کس کو کہنا چاہ رہا ہے ؟ ایک قتل کیس میں بھٹو کو پھانسی کی سزا تو سپریم جوڈیشری نے سنائی تھی اور اس پر عملد رآ مد جنرل ضیا الحق نے کیا تھا ۔

بھٹو کی پارٹی گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے لیڈر کی پھانسی کا ذمہ دار جنرل ضیاء کوقراردیتی چلی آرہی ہے تو پھر سابق کھلاڑی کیا سابق آرمی چیف کومیر جعفر قرار دے رہا ہے ؟  کیونکہ اسی سانس میں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ’جن سے غلطی ہو گئی ہے، اب ایک ہی حل ہے کہ فوری الیکشن کروائیں، میر جعفروں نے چوروں کو مسلط کر دیا ہے‘ ۔ چوروں سے اس کی مراد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت ہے کیونکہ وہ اپنی اپوزیشن کو ہمیشہ سے چور ڈاکو ہی کہتا چلا آرہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جس کو وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اگر وہ اس کے آشرم میں آجائے تو پارسائی کا سب سے بڑا سرٹیفیکٹ حاصل کر سکتا ہے کیونکہ توشہ چوری اور صدقات و خیرات چوری کے بڑے خصائل کے باوجود ریوڑیاں بانٹنے والوں نے صادق و امین کے القابات بھی انہی چکروں میں بانٹے تھے جن کی قلعی اب کھلتی جا رہی ہے:

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جومیرے نامۂ سیاہ میں تھی

ساتھ ہی اس نے جنرل پرویز مشرف کا نام لے کر کہا کہ خارجہ پالیسی میں وہ ایک کال پر ڈھیر ہو گیا اور پھر اس نے ڈرون حملوں سے لے کر کئی کمپرومائزز کیے، رمزی یوسف اور ایمل کانسی کو بیچ دیا جس پر ایک امریکی نے کہا کہ یہ لوگ بوقت ضرورت اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔ اس نے طالبانوں کو پکڑوا کر گوانتانامو بے میں بھیجا، طالبان کے ایمبییڈر ملا ضعیف کو پیسہ بنانے کیلئے بیچ ڈالا، اس کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں تھی غلامی کی تھی جبکہ انڈیا کی خارجہ پالیسی آزاد ہے۔ مودی امریکی اتحادی ہونے کے باوجود انہیں آنکھیں دکھا تا ہے اور امریکا کی ہمت نہیں ہے کہ وہ اس کے خلاف کچھ کر سکے وغیرہ ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمت ، خودی ، غیرت ، بہادری اور آزادی کے حالیہ نعرے لگانے والا ہمارا یہ سابق کھلاڑی ان دنوں انڈیا، انڈ ین عوام اور حکومت کی شان میں اس قدر کیوں رطب اللسان ہے ؟ درویش کو انڈیا کی تعریف پر کوئی اعتراض یا تکلیف نہیں ہے لیکن یہ حقیقت بیانی اسے حکومتی فراغتی پر ہی کیوں یاد آئی ہے؟ جب وہ حکمرانی کے مزے لوٹ رہا تھا تب تو یہ شخص نواز شریف کو محض اس لئے مطعون کرتا رہتا تھا کہ مودی ان کے گھر ہونے والی تقریب میں کیوں آیا ؟ یوں ن لیگ کے قائد کومودی کا یار کہہ کر پاکستان کا غدار قرار دیتے نہ تھکتا تھا۔ اب یکایک اسی مودی اور انڈین خارجہ پالیسی کی شان میں اتنے قصیدے کیوں پڑھ رہا ہے ؟ جہاں تک اس درویش نے غور کیا ہے سابق کھلاڑی نے ان دنوں یہ بیانیہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کو نیچا دکھانے کیلئے اختیار کر رکھا ہے کیونکہ نوازشریف کی طرح ان پر براہ راست تنقید کرنے کی جرات و ہمت اس شخص میں ہے نہیں۔ پنجابی محاورہ ہے ، ’روۓ یاراں نوں لے لے نام بھراواں دے‘۔

سمجھنے کیلئے اس کی اسی تقریر میں یہ اظہار خیال بھی قابل توجہ ہے کہ " میں ان چوروں اور ڈاکوؤں ( یعنی اپنی پوزیشن) کو پچھلے تین سالوں سے پکڑتا رہا لیکن جولوگ ان کے پیچھے تھے وہ کرپشن کو برا سمجھتے ہی نہیں" ۔ ویسے غلط بیانی اور جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مگر یہاں کیسے کیسےلوگ ہیں جو تمام حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔ مقام حیرت ہے جس کی کل جمع پونجی بوٹوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے دوسروں کو طعنے دے رہا ہے کہ وہ چیری بلاسم یا بوٹ پالشیے ہیں۔ اور اپنے نعرے بازوں کو کہہ رہا ہے کہ تم لوگ ماشا اللہ دماغ سے نہیں، دل سے سوچتے ہو۔ جولوگ سوچتے ہی شعور کی بجائے جذبات سے ہیں انہیں اگر اپنے لیڈر کے دھندے بھی پارسائی و بہادری دکھائی دیں تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ البتہ اپنے ’کرم فرماؤں‘  پر یہ الزام بھاری ہے کہ وہ کرپشن کو برانہیں سمجھتے ۔

اگر یہ لوگ شعور سے سوچتے تو ضرور سمجھتے کہ انہیں دوغلے پن پر مبنی نعرے بازی پر لگا کر کس طرح فول بنایا جارہا ہے۔ حکمرانی میں ہوتے ہوئے جو شخص انڈیا سے تجارت کے نام پر بدکتا تھا حالا نکہ مخصوص حلقوں نے اس حو الے سے رہنمائی بھی کی تھی۔ جواب ملا کہ اس طرح میں غیر مقبول ہو جاؤں گا ۔ ایک ہی شخص وزیر کی حیثیت سے تجارتی بحالی کی منظوری دیتا ہے اور پھر وزیر اعظم کی حیثیت میں اسے مسترد کر دیتا ہے۔ یعنی فیصلے لیتے ہوئے پاکستانی یا قومی مفاد کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ ذاتی یا پارٹی مقبولیت فوقیت رکھتی ہے ۔

آج جو کچھ وفاق اور پنجاب میں آئینی عہدوں پر متمکن ہر دو حضرات کر رہے ہیں اس میں سوائے پارٹی یا شخصی مفاد کے کیا کوئی اور چیز دکھائی دیتی ہے؟ ان کی درستی تو جوڈیشری ہی کر سکتی ہے۔ البتہ اس شخص نے سی پیک کی چینی شہد میں سرکہ ڈالنے سے لے کر مہاتیر اور اردوان کی چاپلوسی اور سعودی کنگڈم سے بگاڑ تک اگر کوئی کسر رہتی تھی تو وہ یورپی یونین اور سپر پاور امریکہ سے معاملات میں نا اہلی تک پوری کر دی ہے۔ دورۂ روس کے جھوٹوں پر ایک الگ کالم بنتا ہے۔ بندہ پوچھے کہ تم نے اپنی ذات سے آگے پاکستان کے حوالے سے کبھی سوچا ہے ؟ تمہارے کیا کہنے امریکی صدر نے چونکہ مجھے کال نہیں کی اس لئے امریکا بہت برا ہے ۔ کیا سعودی کراؤن پرنس نے تمہیں کہا تھا کہ اس کی تحفہ میں دی ہوئی قیمتی گھڑی بھوکے اور ہولے لوگوں کی طرح یوں چھپ چھپا کر چوروں کی طرح بیچ دو حتیٰ کہ وہی گھڑی واپس کراؤن پرنس کے پاس چلی جائے۔ کیا اس سے تم نے پاکستان کی نیک نامی کی ہے ؟ اس پر سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ میرے تحفے میری مرضی اور یہ کہ فو جی بھی تو مہنگے پلاٹ تحفے میں لیتے ہیں اور اپنی مرضی سے مزید مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔

کٹ حجتی کی اخیر ہے کہ تقریر کرتے ہوئے قو م کو بتایا جارہا ہے کہ اگر میں نے یہ اٹھارہ یا چودہ کروڑ کے تحائف بیچے ہیں تو کیا ہوا میں نے بنی گالا میں اپنے گھر کے ساتھ ایک دیوار اور سڑک بھی تو بنوائی ہے کیا یہ وتیرہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں نہیں آتا ؟

اگر تحقیق کی گئی تو تمہارا یہ دعوی بھی جھوٹ ثابت ہوگا۔ واقفان حال بتا رہے ہیں کہ آپ نے صرف توشہ خانے سے جو کمائی کی ہے وہ آپ کی پوری زندگی میں کی گئی کمائی سے بھاری ہے اور اب آپ کے ہیلی کاپٹر کی تفصیل بھی قوم کے سامنے ہے۔ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس کا یہ سفرقوم کو اٹھانوے کروڑ میں پڑا ہے۔ اٹھاون کروڑ مینٹینس کے نام پر اور سنتالیس کروڑ فلائٹ اخراجات میں۔ کیا ہر رات بنی گالا کے قیام میں کوئی مجبوری تھی ؟ وزیراعظم ہاؤس کی یونیورسٹی میں کوئی ایک کمرہ اس قابل نہیں تھا جس میں مابدولت رات کو سو سکتے ؟ جب کرسی سے اترنے کے بعد یہ عالم ہو کہ کراچی کی ٹکٹ جو بیس ہزار میں خریدی جاسکتی تھی مگر سائیکل کے دعوؤں اور حقیقی نخروں میں فرق قابل ملاحظہ ہے کہ سوسو روپے چندہ مانگنے والا سینتیس لاکھ کی چارٹرڈ فلائیٹ میں جارہا ہے ماشااللہ ۔

اب فارن فنڈنگ کیس کا نتیجہ جوں جوں قریب آ رہا ہے اسے التوا میں ڈالنے کیلئے ہول اٹھ رہے ہیں اور حفظ ماتقدم کے طور پر چیف الیکشن کمشنر کومطعون کرنے کابیڑا اٹھالیا ہے۔ اپوائنٹمنٹ پر جس کے قصیدے پڑھے جارہے تھے آج اسے بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالا جار ہا ہے۔ انسان کیسا بھی گیا گزرا ہو اپنے ایک ایک محسن کو یوں ڈنگ نہیں مارتا۔ کم از کم اپنے محسنوں کالحاظ ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے ۔