اخوت فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر امجد ثاقب نوبل امن انعام کے لیے نامزد
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- سوموار 25 / اپریل / 2022
پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم 'اخوت فاؤنڈیشن' کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو سال رواں کے نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے سال رواں کے انعام کے لئے 343 نامزدگیاں کی گئی ہیں۔
ان میں 251 افراد اور 92 ادارے شامل ہیں۔ ان افراد کو نامزد کرنے والے اور نامزدگیوں کے ناموں کی تفصیل پچاس برس تک ظاہر نہیں کی جاتی۔ لیکن بعض اوقات نامزد کرنے والے لوگ نامزدگیوں کے نام ظاہر کر دیتے ہیں۔
نوبل ایوارڈ میں سائنس کے کئی شعبوں کے علاوہ دنیا بھر میں انسانیت کے لیے کام کرنے والے افراد کو یہ انعام دیا جاتا ہے۔ نوبل پرائز جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان ہر سال معروف سائنس دان الفریڈ نوبل کی برسی، یعنی دس دسمبر کے روز کیا جاتا ہے۔
اب تک دو پاکستانی شہری یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس کے شعبے میں 1979 میں یہ انعام ملا جبکہ 2016 میں ملالہ یوسف زئی کو امن انعام ملا تھا۔ ایوارڈ کا اعلان ناروے کی نوبل کمیٹی کرتی ہے۔ نامزد کوئی بھی شخص کر سکتا ہے اگر وہ بعض شرائط پر پورا اترتا ہے۔ ان میں ریاستوں کے قومی اسمبلیوں کے رکن اور کابینہ کے ارکان، بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس کے ارکان، ایسے لوگ جنہیں نوبیل انعام مل چکا ہو، جس ادارے کو نوبیل انعام ملا ہو ان کے بورڈ ممبران، ناروے کی نوبل انعام کمیٹی کے حالیہ اور سابقہ ممبران شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے نامزد ڈاکٹر امجد نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان سول سروس جوائن کی۔ 2003 میں 'اخوت فاؤنڈیشن' کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ 'اخوت' کی بنیاد انہوں نے 'مواخات مدینہ' کے فلسفلے پر رکھی ہے۔ یعنی پیغمبر اسلام کے مدنی دور میں انہوں نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارا پیدا کیا تھا جس کے نتیجے میں ان دونوں طبقوں کے درمیان گہرا رشتہ ا خوت استوار ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ جب معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھ جائے تو جن افراد کے پاس وسائل ہیں وہ دوسرے شہریوں کی مدد کریں، اگر امیر و غریب کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ قائم ہو جائے تو ریاست کی مدد کے بغیر بھی ایک اچھا معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول انہیں غربت کے خاتمے کے لیے بنگلہ دیش کے 'گرامین بینک' کا متعارف کردہ مائیکروفنانس کا نظام پسند آیا مگر دنیا بھر میں اس نظام میں سود کی شرح بہت زیادہ ہے۔ تاہم انہوں نے قرضِ حسنہ کے پروگرام کو منظم طور پر اپناتے ہوئے 'اخوت' کی بنیاد رکھی۔
یاد رہے کہ 'گرامین بینک' بنگلہ دیش میں غریب افراد کو چھوٹے قرضے دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ غربت سے نکل سکیں۔ اس بینک کی بنیاد 1976 میں محمد یونس نامی شخص نے رکھی تھی جنہیں 2006 میں امن کے نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
ڈاکٹر امجد کہتے ہیں ان کا فلسفہ ہے کہ لینے والا ہاتھ بھی دینے والا بن سکے اور آج وہ پچاس لاکھ سے زائد افراد کو قرضہ دے چکے ہیں۔ یہ مقدار اب 162 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کام انہوں نے دس ہزار روپے سے شروع کیا تھا۔ ان کے بقول چالیس لاکھ سے زائد خاندان ان کے قرضِ حسنہ پروگرام سے استفادہ کر چکے ہیں۔ ان کا ہدف دو کروڑ افراد تک پہنچنا ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب گزشتہ برس ایشیا کا نوبل انعام کہلائے جانے والے 'ریمون میگساسا' ایوارڈ سمیت دنیا بھر کے کئی اہم ایوارڈز جیت چکے ہیں۔ انہوں نےحکومت کو مشورہ دیا کہ لوگوں کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے حکومت کو تین مائیکرو اکنامکس پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں، لوگوں کی صلاحیتیں بڑھائی جائیں جن میں آئی ٹی کا شعبہ سرِفہرست ہے، دوسرا انہیں مالی وسائل مہیا کرے اور تیسرا تعلیم فراہم کرنے کا بندوبست کرے۔