کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ، تین چینی باشندوں سمیت چار افراد جاں بحق

  • منگل 26 / اپریل / 2022

کراچی یونیورسٹی میں اُساتذہ کو لے جانے والی وین میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک وین اُساتذہ کو لے کر کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آ رہی تھی۔ ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد چینی اُساتذہ بھی شامل ہیں جب کہ وین کا پاکستانی ڈرائیور بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔

سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں ایک چینی باشندہ اور یونیورسٹی کا گارڈ بھی شامل ہے۔ کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کے مطابق دھماکہ خود کش ہونے کا امکان ہے۔

دھماکہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے باہر ہوا جو کراچی یونیورسٹی میں چینی یونیورسٹی کےا شتراک سے 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد وین میں آگ لگ گئی تھی۔

پولیس نے تاحال دھماکے کی نوعیت کی تصدیق نہیں کی، البتہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ اور سیکیورٹی اہل کار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ دھماکے بعد جامعہ کراچی میں عام لوگوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلات و نشریات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کراچی دھماکے کا نوٹس لے کر سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔