کرکٹر صاحب! تشدد کی دھمکیاں بند کریں

میدان سیاست میں کامیابی کیلیے مختلف النوع سیاسی چالیں چلنا قابل فہم ہے لیکن اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کیلیے دھونس دھاندلی، کمینگی، بدزبانی، بدتہذیبی، منافرت، جھوٹے پروپیگنڈے کی بھرمار، گھٹیا الزامات کی بوچھاڑ سے بھی پچاس قدم آگے بڑھ کر اپنے جنونیوں کو مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ اور تشدد پر ا کسنانا، ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے۔

اس کی ہر ذی شعور پاکستان کو ناصرف یہ کہ مذمت کرنی چاہئے بلکہ اس نازی ازم کے خلاف کھڑے ہونا چاہئے۔ سابق کھلاڑی کس سادگی سے پوچھ رہا ہے کہ میرے خلاف آدھی رات کو عدالتیں کیوں لگیں؟ میں نے کونسا قانون توڑا تھا ؟ یہ سنتے ہوئے درویش کو مرحوم دوست سردار محمد چودھری یاد آ گئے۔ ملک ٹوٹنے کے بعد جن کی ڈیوٹی اس وقت کے صدر کی سیکیورٹی پر لگی تھی۔ چودھری صاحب بتایا کرتے تھے کہ صدر یحییٰ خاں کی کار ایک پھاٹک پر رکی تو لوگ پہچان کر جمع ہو گئے اور ان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے جنہیں سنتے ہوئے یحییٰ خان بولے یہ لوگ میرے خلاف نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟ میں نے کونسی گدھی کو ہاتھ لگا لیا ہے؟ آج ٹھیک یہی رویہ سابق کھلاڑی کا بھی ہے اسے جب یہ بتایا جاتا ہے کہ آئین جس کے تحفظ کا تم نے حلف اٹھایا تھا اس میں یہ درج ہے کہ جب کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ جائے تو اس پر نہ صرف یہ کہ اسمبلی میں ووٹنگ سات دن میں لازم ہو جاتی ہے بلکہ وزیر اعظم اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ آپ نے آئین شکنی کے یہ دونوں سنگین جرائم کئے اور کروائے ہیں اس کے خلاف سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ متفقہ فیصلہ صادر کر چکا تھا جس پر صدق دل سے عملدرآمد کی بجائے تم صبح دس بجے سے لے کر رات ساڑھے گیارہ بجے تک نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ پوری قوم کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہوئے لایعنی و بےمعنی تقاریر کرواتے ہوئے ہر آئین و جمہوریت پسند کو اذیت میں ڈالے رکھنا چاہتے تھے۔

 پھر جب طاقت کا ڈنڈا چڑھا، ججز بیٹھے اور قیدیوں والی گاڑیاں گیٹوں پر پہنچیں تب عیاری کا خمار ٹوٹا۔ اناڑی آنکھیں کھلیں اور جبر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر بھاگا لیکن جبر کی ذہنیت جیسی تھی اتنا بڑا قانون کا طمانچہ کھانے کے باوجود ویسی ہی رہی۔ اس کا ننگا ثبوت پنجاب اسمبلی میں جبر کی وہ گری ہوئی دھونس تھی جو تشدد کا روپ دھار گئی۔ اس اداکاری میں فنکاری کے جتنے ڈرامے ہوئے وہ پوری قوم نے براہ راست ملاحظہ کئے۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو لاہور ہائیکورٹ کی واضح ہدایات تھیں کہ مقررہ تاریخ کو قائد ایوان کا الیکشن کروایا جائے مگر آئین، قانون اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے کیلیے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کروایا گیا۔ اس پر لوٹے پھینکنے والے، بال نوچنے والے اور تشدد کرنے والے کون لوگ تھے ؟ سب پر روز روشن کی طرح واضح ہو چکا تھا کہ تم تمہاری پارٹی اور تمہارا امیدوار ممبران اسمبلی کی اکثریت کے اعتماد سے محروم ہیں تو اپنی نظر آتی شکست کو ایک وقار اور شائستگی کے ساتھ تسلیم کرنے کی بجائے تم نے دھونس دکھانا اور ذلیل ہونا کیوں پسند کیا؟ ابھی تک تم حلف اٹھانے کے اشو پر دھونس دکھاتے ہوئے اپنے صدر اور نام نہاد گورنر کو ذلیل کروا رہے ہو، کیوں ؟

سیاست تو حوصلے، برداشت، بردباری اور سب کو خوش اسلوبی سے ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔ ایسی دھینگا مشتی تو کوئی بااصول کرکٹر بھی نہیں کرتا۔ ہماری زبان میں تو ایسے شخص کیلیے کوئی اور لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو غیر پارلیمانی ہونے کی وجہ سے چھوڑے دیتے ہیں۔ لیکن وزارت عظمیٰ کی کرسی پر طاقتوروں کے اشارے پر براجمان رہنے والا یہ شخص اپنے سیاسی مخالفین کیلیے جس نوع کی زبان بولتا ہے وہ تہذیب کے کون سے دائرے میں آتی ہے؟ نور عالم جیسے باضمیر مخلص، کھرے اور محب وطن ممبران اسمبلی کے خلاف لوگوں کو اکساتا ہے کہ ان پر حملے کرو، ان کے گھروں کا گھیراؤ کرو، دھمکیاں دیتا ہے کہ تمہاری بچیوں کی شادیاں نہیں ہوں گی، میرے جنونی تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ کس بات پر؟

تم کوئی نبی پیغمبر ہو جس کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ اگر وہ فلور کراسنگ کرتے ہیں تو ملکی ادارے موجود ہیں قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ قانون سے کوئی بھی بلند نہیں ہے لیکن اس دھونس، جبر اور تشدد کا کیا جواز ہے ؟ تم عوامی جلسوں میں کس نوع کی زبان بول رہے ہو؟ تمہاری کونسی آزادی ہے اور کون سی غلامی ہے ؟ تم کونسی ایسی توپ ہو جسے گرانے کیلیے جوبائیڈن یا امریکی قوم کو سازش تیار کرنے کی ضرورت تھی ؟ بندہ اپنی حیثیت دیکھ کر بات کرے۔ اب تو لانے والے بھی بول اٹھے ہیں کہ ہم نے ساڑھےتین سال ہاتھ پکڑ پکڑ کر اسے سنبھالا لیکن پھر بھی کھلے منہ کو بند نہ کراسکے۔ بہت سمجھایا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے مفادات جڑے ہوئے ہیں، ہم نے اس سے امداد لینی ہوتی ہے، ہماری برآمدات اس سے جڑی ہوئی ہیں بشمول آئی ایم ایف عالمی ادارے اس کے زیر اثر ہیں۔ اس طرح بے ہنگم منہ کھولنے سے نقصان تمہارا نہیں پاکستان کا ہو گا۔ ٹھیک ہے اپنی گور گردن پر عوام میں جاؤ۔ اگر واقعی میجارٹی کا اعتماد لے لیتے ہو تو مراجعت میں کس کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن بائیس کروڑ عوام کی میجارٹی کا اعتماد وہ بھی بغیر عسکری بیساکھیوں کے، کیا کوئی مذاق ہے؟۔

یہ جو تماش بینی پر مبنی دائیں بائیں مصنوعی ہجوم دکھایا جا رہا ہے رمضان میں سحری کی برکتیں گزرنے کے بعد بتدریج یہ تحلیل ہوتا چلا جائے گا۔ اس لیے کہ مار کھانے والے سیاسی کارکن تو آزمائشوں سے گزرنے والی مستند سیاسی پارٹیوں کے ہوتے ہیں۔ یہ ممی ڈیڈی فینز یا چوری کھانے والے مجنوں تو آزمائش کا ایک جھٹکا سہنے جوگے نہیں ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اس پریشر گروپ کو چھوڑ کر جو بھی گیا ہے اس نے پارٹی قیادت کے خلاف کانوں کو ہاتھ لگایا ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ سے شروع ہو جائیں اور علیم خاں تک چلے جائیں۔ ذرا سب کے بیانات جمع کرکے دیکھیں۔ نازی ازم کی گھن آئے گی۔ اب توشہ خانے کی لوٹ مار سے لے کر فارن فنڈنگ کی کرتوت تک سب کچھ تو کھلنے جا رہا ہے۔ پہلے تو محض بری کارکردگی نااہلیت اور معاشی بربادی کی المناک کہانی تھی، اب تو لوٹ مار کی ہوشربا داستانیں سامنے آنے جا رہی ہیں۔ ہمارے عوام کبھی بھی اس بھیانک منظر نامے، بیروزگاری اور بھوک ننگ کی اذیت کو دوبارہ دیکھنا نہیں چاہیں گے۔

پاکستان کی مظلوم قوم تو پہلے ہی جبر کے سانپوں کی ڈسی ہوئی ہے۔ شدت پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی تباہ کاریوں کو بھگت رہی ہے۔ اس روایتی مذہبی جنونیت سے جان چھوٹی نہیں ہے کہ آپ اس میں سیاسی جنونیت کا تڑکا لگانے آدھمکے ہیں۔ تلک الایام قدخلت اب قوم کسی مذہبی مداری یا سیاسی اناڑی کے جھانسے میں نہیں آئے گی۔ بہت دھکے کھا لیے بڑی ذلت اٹھالی اب نارمل انسانوں کی طرح ہمیں ایک نارمل قوم بننا ہے۔ جہاں مقتدرہ پارلیمینٹ کے علاوہ کوئی اور محکمہ نہیں ہوگا، جہاں پارلیمنٹ دھونس دھاندلی سے نہیں صاف شفاف حق نیابت سے منتخب ہو گی اور مضبوط جوڈیشری آئین و قانون کی کسٹوڈین بن کر کھڑی ہو گی بشرطیکہ قومی سیاست و صحافت میچورٹی دکھائے۔