بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے فارن فنڈنگ ہیں تو پاکستان بھی اسی پر چل رہا ہے: عمران خان

  • بدھ 27 / اپریل / 2022

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے فارن فنڈنگ تو نہ ہوئی، یوں تو پاکستان بھی فارن فنڈنگ پر چل رہا ہے۔ وہ نہ بھیجیں تو آج پاکستان بھی نہ چلے۔

ایوان اقبال میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں آج آپ کے پاس خاص طور پر آپ کی تیاری کروانے کے لیے آیا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ میں آپ کو آنے والے دنوں کا لائحہ عمل دوں۔ پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ آنے والے روز میں لاہور کے کارکنوں کا بہت اہم کردار ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 27ویں رمضان کو پاکستان بنا تھا، کل 27ویں رمضان ہے، کل ہم نے شب دعا کا اعلان کیا ہے۔ میں دعا کروں گا اور میرے ساتھ مولانا طارق جمیل ہوں گے، ہم ان کے ساتھ اپنے ملک کی حقیقی آزادی کے لیے دعا کریں گے۔ آپ سب نے رات 10 بجے اپنے گلی محلوں میں ٹیلی ویژن اسکرینز کے ذریعے اس دعا کو سننا ہے اور اپنے ملک کی حقیقی آزادی کے لیے دعا کریں۔

آپ نے لوگوں کے پاس میرا پیغام لے کر جانا ہے، آپ نے گلی محلوں میں تبلیغ کرنی ہے، آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ اس ملک پر ایک سازش کے تحت ایک امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکا ہمیں فتح کیے بغیر ان چوہوں کے ذریعے ہمیں کنٹرول کرے گا۔ یہ لوگ اپنی چوری کا پیسا بچانے کے لیے ساری قوم کو غلام بنا دیں گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی جنگ میں ہم نے 80 ہزار افراد کی قربانیاں دیں، ہماری قوم کو مشکلات کا سامنا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ہمارے ملک کے سربراہ نے کسی اور ملک کے مفادات کے لیے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو قربان کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں کال دوں گا تو کم از کم 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں، آپ لوگوں میں جاکر ہماری حقیقی آزادی کی تحریک کی تبلیغ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جب یہ ملک ملا تو دیوالیہ ہوچکا تھا۔ ہم نے اس کو سنبھالا تو پھر کورونا آگیا، دنیا نے ہماری تعریف کی جس طرح ہم نے اس وقت اس ملک کو سنبھالا۔ 11 سال میں سب سے کم خسارہ ہمارے تیسرے سال میں تھا، 5 فصلوں کی ریکارڈ پیداوار تھی، شوگر مافیا کے خلاف ایکشن لیا، لوگوں کو نوکریاں ملیں اس سب کے باوجود میڈیا پر ہمارے خلاف مہم چلائی گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ امریکن سفارتخانہ ہمارے ان لوگوں سے مل رہا تھا جو بعد میں لوٹا ہوگئے۔ انہیں خارجہ پالیسی کا کچھ معلوم نہیں تھا لیکن انہیں پتا تھا کہ یہ لوگ ذرا ہم سے ناراض ہیں اس لیے ان سے ملاقاتیں شروع کردیں۔ پھر 7 مارچ کو ڈونلڈ لو نے ہمارے سفیر سے ملاقات کی اور کہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائے گی۔ اس کو پہلے ہی معلوم تھا، اس نے کہا کہ اگر یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی توپاکستان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اور یورپی یونین پاکستان کو تنہا کردیں گے، اگر عمران خان کو ہٹا دیا گیا تو ہم پاکستان کو معاف کردیں گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میر جعفر اور چیری بلاسم کو ہمارے اوپر بٹھا دیا گیا ہے۔ یہ اب پاکستان کو غلام بنائیں گے، یہ اگر کامیاب ہوگئے تو آئندہ کبھی کوئی وزیراعظم پاکستان کے لیے بیرونی سازش کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اب آپ نے عید کے دن بھی آرام نہیں کرنا، جب آپ عید ملیں تو کان میں کہیں کہ آپ نے حقیقی آزادی کی جنگ لڑنی ہے۔ کوئی آپ کو آزادی لے کر نہیں دیتا، قوم خود اپنی آزادی کے لیے جہاد کرتی ہے، عید کے بعد میں سارے پاکستان جاؤں گا اور لوگوں کو تیار کروں گا۔