شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کو فرد جرم کیلئے 14 مئی کو طلب کرلیا گیا

  • بدھ 27 / اپریل / 2022

چینی کے کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کے مقدمے میں اسپیشل کورٹ سینٹرل نے مسلم لیگ(ن) کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پرفرد جرم عائد کرنے کے لیے 14 مئی کو طلب کر لیا ہے۔

اسپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے چینی کے کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کے مقدمے کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کی آج کی حاضری معافی کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ شہباز شریف کی عدم موجودگی کی وجہ سے آج فرد جرم عائد نہیں ہو سکی، کابینہ اجلاس کے باعث حاضری معافی کی درخواست منظور کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے شہباز شریف کی حاضری معافی منظور کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کے نقطے پر دلائل کے لیے مہلت مانگی۔

فیصلے کے مطابق وکیل آئندہ سماعت پر فرد جرم کی صحت پر دلائل دے سکتے ہیں۔ عدالت نے جاری فیصلے میں وزیراعظم شہباز شیریف، وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سمیت تمام ملزمان کو 14 مئی کو پیش ہونے کا حکم دے دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے لیے مزید سماعت ملتوی نہیں کی جائے۔

اس سے قبل اسپیشل کورٹ سینٹرل نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانتوں میں 14مئی تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔ ایف آئی اے نے چینی کے کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کے مقدمے میں شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کے لیے اسپیشل کورٹ سینٹرل میں درخواست دائر کی تھی۔

بدھ کو اسپیشل کورٹ سینٹرل کے اعجاز حسن اعوان نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کی منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانتوں اور کیس پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے لیکن وزیراعظم شہباز شریف عدالت میں حاضر نہ ہو سکے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کی طرف سے حاضری معافی کی درخواست دائر کی ہے۔ شہباز شریف کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کے رہے ہیں اس لیے آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے اور حاضری سے معافی کی درخواست جمع کرائی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ حاضری سے معافی کی درخواست، ایسے آخر کب تک چلے گا؟۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ وزیراعظم کی مصروفیات کو سامنے رکھتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا ہے اور عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ شہباز شریف خود عدالت پیش ہوں گے۔ عدالت نے وزیر اعظم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر ندیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی کا تبادلہ ہوگیا ہے۔ معاملے کی تفتیش کرنے والے علی مردان کا سندھ تبادلہ ہوگیا ہے، کل رات ہی مجھے کیس ملا ہے اور ابھی جائزہ لینا ہے۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ اس کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی، آئندہ سماعت پر اس حوالے سے دلائل دیں گے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر آپ دلائل دیں گے یا پھر فرد جرم عائد ہوگی، یہ نہ ہو کہ تاریخ پر تاریخ پڑتی جائے۔

عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 14مئی تک توسیع کردی۔