ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب کو کل تک حمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم دے دیا

  • بدھ 27 / اپریل / 2022

لاہور ہائی کورٹ نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو کل تک نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے یا اس کام کے لیے کسی اور کو اپنا نمائندہ نامزد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے حمزہ شہباز کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حلف برداری کی درخواست پر فیصلہ آج پڑھ کر سنایا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے تحریری فیصلے میں ریمارکس دیے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے استعفے کی منظوری کے بعد گزشتہ 25 دنوں سے صوبے کو فعال حکومت کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب محمد حمزہ شہباز شریف کی حلف برداری میں کسی نہ کسی بہانے تاخیر کی جارہی ہے جو نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ آئین کے بھی منافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب، آئین کے آرٹیکل 255 کے مطابق 28 اپریل کو یا اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کے عمل کی تکمیل کو خود یا اپنے نامزد کردہ نمائندے کے ذریعے یقینی بنائیں۔ صدر پاکستان، جو کسی بھی صوبے میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے حلف کی فوری انتظام میں سہولت فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری کے پابند ہیں، انہیں آئین/قانون کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا اپنا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ صوبہ پنجاب میں ایک فعال صوبائی حکومت کو یقینی بنایا جاسکے۔

فیصلے میں عدالت کے دفتر کو ہدایت کی گئی کہ اس حکم نامے کو فیکس کے ذریعے گورنر اور صدر کے دفاتر تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے سامنے یہ پیش کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز سے بطور وزیر اعلیٰ حلف نہ لینے کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ آج صبح 10 بجے سنایا گیا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی حلف نہ لینے کے معاملے پر نئی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔ قبل ازیں حمزہ شہباز نے حلف نہ لینے کے معاملے پر دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

خیال رہے کہ حمزہ شہباز 16 اپریل کو 197 ووٹ لے کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے، تاہم رواں ہفتے کے اوائل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عمر چیمہ نے حمزہ سے حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکریٹری پنجاب اسمبلی کی رپورٹ، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات اور ان کے سامنے پیش کیے گئے حقائق نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی صداقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔