وزیرخارجہ بلاول بھٹو سے توقعات؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 27 / اپریل / 2022
ان دنوں میاں شہباز شریف کا وزیر اعظم بننا اور بلاول بھٹو کا وزیر خارجہ بننا پاکستان کیلئے نیک نامی کا باعث اس لئے ہے کہ عالمی افق پر شہباز شریف کا تعارف اپنے بڑے بھائی اور پاکستان کے مقبول ترین لیڈر میاں نواز شریف کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
جن کا ملکی سیاست میں یہ ریکارڈ ہے کہ وہ تین نیشنل اسمبلیوں سے قائد ایوان منتخب ہوئے جسے توڑنا آسان نہیں۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سطح پر نواز شریف کی پہچان ایک معتدل ، لبرل اور امن پسند رہنما کی رہی ہے بالخصوص جس نے عالمی طاقتوں کےساتھ ہی نہیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی مثالی تعلقات کی خاطر پیہم کاوشیں کیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو کا تعارف اپنی اس عظیم ماں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جوعالمی سطح پر اپنی جمہوریت نوازی، حقیقت پسندی، رواداری، حقوقِ انسانی و نسواں کے ساتھ ساتھ سیکولر اپروچ کی پہچان و مقبولیت رکھتی تھیں۔ اور پھر جس طرح وہ دہشت گردی کا نشانہ بنائی گئیں اس نے انہیں مہاتما گاندھی اور محترمہ اندرا گاندھی کی صف میں لا کھڑے کیا۔
بلاول بھٹو بلاشبہ اپنی پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے دیگر مصروفیات بھی جاری رکھیں گے اور بحیثیت وزیر خارجہ کام کرتے ہوئے حنا ربانی کھر ان کی معاونت کریں گی اس کے باوجود ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے خارجہ امور میں نہ صرف یہ کہ گہری دلچسپی لیں گے بلکہ ایک انرجیٹک نوجوان کی حیثیت سے عملی طور پر بھی خوب دوڑ دھوپ کریں گے۔ اور دنیا ان کے پس منظر کی وجہ سے بھی ان کی زیادہ قدر افزائی کرے گی۔ خارجہ امور میں ان کے نانا سے بڑھ کر ان کی والدہ محترمہ کا خصوصی میلان تھا اور اپنی اس دلچسپی کے حوالے سے وہ خود بتایا کرتی تھیں ۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد جب وہ پہلی مرتبہ امریکا گئیں اور انہیں امریکی کانگریس سے خطاب کا اعزاز حاصل ہوا تو پوری کانگریس نے کھڑے ہو کر جس جوش وجذبے کے ساتھ ان کا استقبال کیا وہ پاکستان کیلئے اعزاز و فخر کا لمحہ تھا ۔
بلاول بھٹو کے وزیر خارجہ بننے کے حوالے سے ان کی پارٹی میں اس نوع کی بحث ہوئی ہے کہ انہیں اس ذمہ داری پر آنا چاہئے یا آنے والے وقت میں ڈائریکٹ بڑی چھلانگ کا انتظار کرنا چاہئے؟ درویش کی رائے میں قدرت نے انہیں حکومتی تجربہ حاصل کرنے کا ایک نادر موقع عنایت فرمایا ہے جس میں انہیں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھنا، دکھانا اور منوانا چاہئے۔ اس وقت عالمی جمہوریتوں میں یہ چلن عام ہے کہ جو بھی شخصیت بڑی ذمہ داری پر فائز ہوتی ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومتی تجربے میں وہ نیچے سے اوپر آئے۔ ہمارے ہاں نہ جانے کیوں یہ اپروچ پائی جاتی ہے کہ ایک ہی چھلانگ میں وزارتِ عظمیٰ کی باگیں تھما دی جائیں۔ ابھی حال ہی میں ہم نے ایک کھلاڑی مگر سیاسی اناڑی کا جو تلخ تجربہ کیا ہےاس سے ہمارے اس نکتے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے کہ سیاسی قیادت کو تجربات کی بھٹی سے گزر کر آگے آنا چاہئے۔ اس حکومت کا دورانیہ جتنا بھی ہو، اصولی طور پر اسمبلیوں کو اپنی معیاد پوری کرنی چاہیے لیکن ملکی حالات آنے والے دنوں میں کیا کروٹ لیتے ہیں یہ تو انہی پر منحصر ہے۔ البتہ بلاول بھٹو کو بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان سب سے بڑھ کر جس چیز پرتوجہ مرکوز کرنا ہو گی، وہ موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارتی تنہائی کو نہ صرف یہ کہ دور کرنا ہے بلکہ پاکستان کا ایک باوقار اور امن پسند ملک ہونے کا تاثر ابھارنا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی جو موٹی موٹی ترجیحات وزیر اعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں بیان کر دی تھیں انہی کی مطابقت میں نہ صرف یہ کہ کاوشیں کرنا ہوں گی بلکہ ہماری عالمی پہچان پر سبکدوش کی گئی حکومت نے جو داغ دھبے لگا دیے ہیں انہیں دھونے کا فوری اہتمام کرنا ہو گا۔ آج کی دنیا میں آزادی یا غلامی کی یہ تمام تر بحث ہی بے معنی ہے جس کا ہمارا ایک پریشر گروپ ان دنوں واویلا کر رہا ہے۔ آج کی دنیا میں آزادی یا عزت و وقار معاشی ترقی و خوشحالی کے ساتھ منسلک ہے۔ جن ملکوں میں آپ کی برآمدات جانی ہیں اگر انہی کے ساتھ آپ خوشگوار تعلقات رکھنے کی بجائے تناؤ کی صورتحال پیدا کر لیں گے یا جہلا کی طرح عالمی مدبر کہلوانے کیلیے اکڑ پھوں دکھائیں گے تو عالمی برادری میں نہ صرف اپنا بلکہ اپنی قوم کا بھی قد کاٹھ یا وقار ڈبو دیں گے۔ آج کی مہذب دنیا میں شوخی، تعلی، چرب زبانی یا خود کو تیس مار خاں بنا کر پیش کرنے کی ڈرامے بازی کو پسند نہیں کیا جاتا۔ یہ شو کرنا کہ مجھے تو ہر چیز کا علم ہے باقی دنیا گنوار یا بے خبر ہے، ایسی اپروچ والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔
دنیا آپ کو معتدل، امن پسند، اور تمامتر مذہبی ، نسلی، یا جنسی تعصبات سے بلند و پاک دیکھنا چاہتی ہے، جس کی پہچان کسی سازشی تھیوری کی بجائے انسان نوازی پر ہو۔ ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو تو اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جہاں آپ کو امریکا اور یورپی یونین سے تعلقات کو معاشی مفادات اور سائنس و جدید ٹیکنالوجی میں معاونت تک مزید بڑھانا ہے۔ وہاں چائنہ جیسے ہمسائے سے قریبی تعلقات کا ایک قابلِ عمل و قابلِ قبول توازن بھی دکھانا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنی ہمسائیگی میں ابھرتی طاقت انڈیا کے ساتھ تعلقات بالخصوص تجارتی و معاشی تعلقات کو باہمی تنازع یا تناؤ کےساتھ جوڑنے سے احتراز کرنا ہے۔ اپنے اس حساس مشن میں آپ نے اپنے اندرونی طاقتور حلقے کی ترجیحات کو بھی حکمت کےساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے جو خوش قسمتی سے ان دنوں حقائق شناسی کی طرف گامزن ہے۔ رہ گئے عوام تو آپ یہ سچائی پلے باندھ لیں کہ انہیں اس حوالے سے کوئی ایشو نہیں ہے۔ بلکہ ہر دو اطراف کے عوام دوستانہ آوازوں کیلئے ترس رہے ہیں بشرطیکہ ہر دو اطراف سے طاقتوروں کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کی دھول کسی طرح بیٹھ جائے۔
اس طرح افغانستان کی موجودہ افسوسناک صورتحال سے دنیا کسی طرح بھی خوش نہیں۔ پاکستان اگر یکطرفہ طور پر اس نوع کے شادیانے بجا رہا ہے تو اس کی سیاسی قیادت پر لازم ہے کہ وہ طاقتوروں کےساتھ بیٹھ کر کسی نوع کی مہم جوئی پر اصرار کرنے کی بجائے پوری مہذب دنیا کیلئے قابل قبول لائحہ عمل تجویز کرے ۔ ہماری مسلم دنیا کی جو بھی اور جیسی بھی صورتحال ہے، اس کی قائد صرف اور صرف سعودی کنگڈم ہے ہماری ہر حکومت اور عسکری طاقت کو یہ حقیقت ازبر رہنی چاہیے۔ بلاول بھٹو نے حال ہی میں جو طویل گفتگو کی ہے یہ ایک الگ کالم کی متقاضی ہے البتہ اس میں ان کی سنجیدگی اور سیاسی میچورٹی میں پہلے کی نسبت جو بہتری دکھائی دے رہی تھی امید کی جانی چاہئے کہ وہ آنے والے ماہ و سال میں اپنی والدہ مرحومہ کی طرح مزید آگےبڑھیں گے۔ جس کا فائدہ قوم کو ہوگا۔
نیز یہ کہ حال ہی میں ہمارے دو خودپسند تعلی بازوں نے خارجہ تعلقات میں جو خودکش حملے کئے ہیں، پاکستان کی نئی قیادت ان کا مداوا کرےگی۔