الیکشن کمیشن نے عمران خان کی کمیشن مخالف تقاریر پر نوٹس لے لیا

  • جمعرات 28 / اپریل / 2022

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر عہدیداران کی جانب سے کمیشن پر سنگین الزامات کے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے پشاور جلسے کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کرلی ہے۔

الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم کے کمیشن مخالف بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے پیمرا کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سمیت پشاور جلسے میں خطاب کرنے والے دیگر اراکین پارلیمنٹ کی مکمل ریکارڈنگ فراہم کی جائیں۔ پیمرا سے طلب کی گئی ریکارڈنگ میں عمران خان، حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان اور اعجاز چوہدری کی تقاریر شامل ہیں۔

26 اپریل کو پشاور جلسے کے دوران مختلف چینلز پر نشر ہونے والی سابق وزیر اعظم سمیت تمام پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر کی مکمل ریکارڈنگ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ خیال رہے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

26 اپریل کو پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ مسلم لیگ (ن) کے نمائندے ہیں، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ تینوں جماعتوں کی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کی جائے لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ اگر تینوں جماعتوں کی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کی جائے تو اس میں صرف پاکستان تحریک انصاف کی فنڈنگ جائز ہوگی۔

ہم نے کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سوشل میڈیا پر ’سگنبچر کمپین‘ کا آغاز کیا ہے، یہ ہمیں نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ خیال رہے قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر پر 'جانبدار اور بد دیانت' ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے منحرف اسمبلی ممبران کو ڈی سیٹ کرنے کا اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں کیا۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج اور عمران خان کی جانب سے ان کے استعفے کے مطالبے کی شدید مذمت کی گئی ہے، جبکہ الیکشن کمشنر نے بھی استعفیٰ نہ دینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا اگلا ہدف الیکشن کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان  کے فیصلے سے قبل انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔