بچوں کی آن لائن حفاظت

دعا زہرا اور نمرہ کاظمی کے لاپتہ ہونے کے واقعات کے پیچھے سوشل میڈیاکاکردار سامنے آنے کے بعد بچوں کی آن لائن حفاظت کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا والدین اور حکومت دونوں کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے تفصیلی اظہار خیال سے پیشتر یہ واضح کر دیا جائے کہ بچہ کون ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 18سال سے کم عمر کے تمام لڑکے، لڑکیاں یا ان کی کوئی بھی جنس بچہ تصور کیے جائیں گے۔20 نومبر1989کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کی منظوری دی۔اس معاہدے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے سبھی ممالک دستخط کر چکے ہیں۔یہ معاہدہ بچوں کو40سے زائد سماجی، معاشی اور ثقافتی حقوق فراہم کرتا ہے جن میں ایک حق " مناسب معلومات" کی فراہمی کا بھی ہے۔بچوں کو مناسب معلومات کی فراہمی کے حق کے حوالے سے کنونشن یہ کہتا ہے کہ حکومت اس بات کا انتظام کرے گی کہ بچوں کو مختلف ذریعوں سے دنیا بھر سے ایسی مفید معلومات حاصل ہوتی رہیں جو ان کی ذہنی، جسمانی، اخلاقی اور روحانی تربیت میں ممدو معاون ثابت ہو۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو نقصان دہ مواد اور معلومات سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب رہنمااصولوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اسی طرح کنونشن میں لڑکے اور لڑکی کی18سال سے کم عمر کی شادی کو بھی ان کے تعلیمی اور سماجی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا گیا ہے۔

اگرچہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں 18سے کم بچوں کی شادی قانونی طور پر جرم قرار دی جا چکی ہے تاہم پاکستان سمیت دنیا کے چند ایک ممالک میں بچوں اور بچیوں کی شادی کے عمر کے حوالے سے الگ الگ پیمانے بھی ہیں۔پاکستان میں سندھ میں بچوں اور بچیو ں دونوں کے لیے18سال سے کم عمر شادی قانونی طور پر جرم ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے صوبے میں لڑکے کے لیے شادی کی عمر18 سال جب کہ لڑکی کے لیے16سال مقرر کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی کوششوں سے گذشتہ عشرے میں 18سال سے کم عمر بچوں کی ڈھائی کروڑ شادیاں انجام پانے سے روک دی گئیں اور اس ضمن میں سب سے زیادہ کمی جنوب ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔

مناسب معلومات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے دعا زہرا اور نمرہ کاظمی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کیسز میں والدین کی جانب سے بچوں کی تربیت اور آن لائن حفاظت کے معاملات میں کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں۔سب جانتے ہیں کہ دور حاضر کے بچوں کو اب وہ تما م سہولیات اور ایکسپوژر حاصل ہے جو گزشتہ نسل کو میسر نہیں تھا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بچوں کو مناسب معلومات کی فراہمی کا سب سے سستا اور موثر ذریعہ ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بنا کسی روک ٹوک، چیک اینڈ بیلنس اور رہنمائی کے بچوں کا اپنے طور پر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا استعمال خطرے سے خالی نہیں۔حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ بچوں کو آن لائن دنیا میں بھی محفوظ رکھنا بڑوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ ماہرین کے مطابق دعا زہرا کی عمر کے بچے مستقبل میں پیش آنے والے نتائج کی پرواہ کیے بغیر فیصلہ کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ٹین ایج میں بچوں میں ذہنی پختگی کی کمی اور جذبات کی فراوانی ہوتی ہے۔دعا زہرا اور نمرہ کاظمی کے کیسوں میں ماہرین کو جو مماثلت دکھائی دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں بچیاں تنہائی کا شکار تھیں۔دعا لمبے عرصے سے اسکول نہیں جا رہی تھی جب کہ نمرہ کے والدین جب روزگار کے سبب سے گھر سے چلے جاتے تھے تو نمرہ اکیلی ہوتی تھی۔

عام طور پر اس عمر کے بچے اپنے ہم عمر بچوں سے مل کر یا بات کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں لیکن جب صورت حال اس کے برعکس ہو تو یہ دیکھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے بچوں کا خوشی حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔زرائع کے مطابق دعا کے پاس اپنا فون نہیں تھا لیکن وہ اپنی والدہ کا فون اکثر وبیشتر استعمال کرتی رہتی تھی جس میں چیٹنگ کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمز کھیلنا اس کا معمول تھا۔نمرہ کے معاملے میں بھی سوشل میڈیا کا کردار اہم رہا۔ میسنجر اور وٹس ایپ کے زریعے استوار ہونے والے اس تعلق کا انجام بھی گھر سے بھاگ کر نکاح پر منتج ہوا۔دونوں کیسز میں یہ مماثلت بھی موجود ہے کہ لڑکوں یا ان کے گھر والوں کی جانب سے باقاعدہ رشتہ بھیجا گیا لیکن لڑکیوں کے گھر والوں کے انکار کے بعد دونوں لڑکیاں قریباً ایک جیسے طریقے سے گھر سے لاپتہ ہو ئیں۔

نمرہ کاظمی کے برعکس دعا زہرا کے معاملے میں قریباً یقین سے یہ بات کی جا سکتی ہے کہ اس کی عمرکسی بھی طرح 18سال نہیں۔دعا کے والدین کے بقول ان کی شادی 2005میں ہوئی ہے اور دعا کی عمر ابھی پوری چودہ سال بھی نہیں جب کہ دعا زہرہ کے مطابق اس کی عمر18سال ہے اور اس کے والدین دانستہ  طور پر ا س کی عمر کم بتا رہے ہیں۔دعا زہرا کا معاملہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں جانا چاہیے۔اگر لڑکی کی عمر واقعتا کم  عمرہے تو اس کے ساتھ نکاح کرنے والے شخص کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے اور بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے تاہم تحریر کے عنوان کو سامنے رکھتے ہوئے والدین کی خدمت میں چند تجاویز گوش گزار کرنا ناگزیر ہے۔

والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور مثبت استعمال پر زور دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کی انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا سرگرمیوں پر تسلسل کے ساتھ نظر رکھیں۔ بچوں کے استعمال میں آنے والے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل فون کی ہسٹری کو دن میں کم از کم دو بار ضرور چیک کیا جائے۔اگر بچہ کسی غیر اخلاقی ویب سائٹس کو وزٹ کر رہا ہے تو اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے اس کے نقصانات سے آگاہی دیں۔بچوں کو سکھائیں کہ وہ اپنی اور گھر والوں کی ذاتی معلومات یاتصاویر کسی سے بھی شئیر نہ کریں اور نہ ہی کسی اور سے ایسا مطالبہ کریں۔بچوں کو خبر دار کریں کہ ایسے لوگوں پر بھروسہ نہ کریں جو صرف آن لائن دوست ہیں اور ان میں سے اگر کوئی ملنے کا مطالبہ کرے تو اپنے گھر والوں کو ضرور بتائیں۔بچوں کو بتائیں کہ ان کی کسی غلطی پر کوئی بھی شخص انہیں بلیک میل نہیں کر سکتا اورگر ان سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ اپنے والدین یا اساتذہ کو بتا کر ان کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔بچوں کو صحت مندانہ کھیلوں کی طرف راغب کریں اور خود بچوں کو کھیل کے میدان یا پارکس وغیرہ میں لے کر جائیں۔اسی طرح بچوں کو فارغ وقت میں موبائل کی بجائے کتابو ں کے مطالعہ کی طرف لگائیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کو اعتماد دیں اور ان سے دوستانہ تعلقات بنائیں تاکہ بچے اپنی ہر بات اور مسئلہ بلا جھجک آپ سے شئیر کر سکیں۔