بلوچستان کے اصل مسائل کا ادراک کریں

کراچی میں چینی شہریوں پر منگل کے روز جو خودکش حملہ ہوا ہے اسے دہشت گردی کی روایتی واردات تصور کرتے ہوئے نظرانداز کر دینا احمقانہ عمل ہوگا۔ اہم ترین بات وقت کاتعین ہے۔

 شہباز شریف کے عمران خان صاحب کی جگہ وزیر اعظم کے منصب پرفائز ہونے کے بعد امید باندھی گئی کہ پاکستان کو سری لنکا کوحال ہی میں درپیش آئے دیوالیہ سے بچانے کے لئے آئی ایم ایف سے فوراً رجوع کرنا ہوگا۔اسی باعث وزارت خزانہ ملتے ہی مفتاح اسماعیل واشنگٹن چلے گئے اور عالمی معیشت کے حتمی نگہبانوں سے حوصلہ فراہم کرتے مذاکرات کئے۔ وزیر اعظم اب پاکستان کے دیرینہ خیرخواہ ملک سعودی عرب تشریف لے جارہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہاں سے بھی ہماری معیشت کو سنبھالنے کے لئے قلیل اور طویل المدت سہارے مہیا ہو جائیں گے۔ معاشی میدان میں رونق لگانے کے لئے تاہم عوامی جمہوریہ چین کی معاونت کے ساتھ سی پیک کی چھتری تلے سوچے کئی منصوبوں پر برق رفتار عمل درآمد کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ شہباز شریف صاحب کو لہٰذا سعودی عرب کے بعد بھرپور تیاری کے ساتھ چین جانا پڑے گا۔ جامعہ کراچی میں چینی شہریوں پر ہوئے حملے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

چین کے ساتھ 1960 کی دہائی سے دوستی کے بندھن استوار کرنے کے باوجود ہمارے صحافی اور دانشور اس ملک کے ٹھوس حقائق سے عموماً بے خبر ہیں۔”ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے بھی گہری دوستی “ کا راگ ہی الاپتے رہتے ہیں۔یہ حقیقت لوگوں کے روبرو نہیں لا پائے کہ وہاں کی نوجوان نسل ماﺅزے تنگ کے دور جیسی نہیں رہی۔چیئرمین ماؤکے بعد ابھری قیادت نے کمیونسٹ نظریات بھلاکر سرمایہ دارانہ معیشت کو سرکاری سرپرستی میں توانا تر بنانا شروع کردیا۔ غیر ملکی سرمایہ داری کو بھرپور انداز میں اپنی جانب راغب کیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال پر گرفت حاصل کی۔ چین اب جدید ٹیکنالوجی دیگر ممالک سے مستعار لینے کے بجائے بذات خود نت نئی ایجادات سے دنیا کو حیران کئے جارہا ہے۔

تیز رفتار ترقی اور خوشحالی نے وہاں کی نوجوان نسل میں اب قومی تفخر کے جذبات کو گہرا تر بنا دیا ہے۔ ان کے شہریوں پر پاکستان جیسے ”دوست“ ممالک میں حملے ہوں تو وہ تلملا جاتے ہیں۔ کراچی میں ہوئے واقعہ کے بعد مثال کے طورپر وہاں کے ایک شہری نے سوشل میڈیا کے ذریعے مطالبہ کیا کہ چینی حکومت کو اب اپنی فضائیہ بلوچستان میں ”دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے“ تباہ کرنے کے لئے استعمال کرنا ہو گی۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے اگرچہ حکومتِ پاکستان سے اجازت کا طلب گار بھی ہوا۔ کسی جنونی امریکی کے برعکس ہماری خودمختاری کا احترام برقرار رکھا۔

عام چینی کو مشتعل کرنے کے علاوہ کراچی کے واقعہ نے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ بھی حاصل کی ہے۔بنیادی وجہ اس کی یہ تھی کہ خودکش دھماکے کی ذمہ دار ایک خاتون تھی۔ متوسط طبقے کے پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون دو کم سن بچوں کی ماں بھی تھی۔ خود کش بمباری کے لئے عموماً غریب وبے روزگار نوجوانوں کو ہمارے دین کی من مانی تشریح سے تیار کیا جاتا ہے۔کراچی میں ہوئے خودکش حملے کی ذمہ دار مگر ہمارے ذہنوں میں پہلے سے موجود  سانچے میں فٹ نہیں ہوتی۔ تامل انتہا پسندی کے رحجانات سے مماثلت کی حامل ہے۔

اس حقیقت سے انکار قطعی جہالت ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہمارے ازلی دشمنوں کی سازشوں کا کئی دہائیوں سے نشانہ بنا ہوا ہے۔آپ کے دشمن مگر بے تحاشا ذہین ہی کیوں نہ ہوں ”بنجر“ زمین کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بار آور نہیں بناسکتے۔ اس حقیقت کو مگر ہم اپنی آسانی کے لئے نظرانداز کرتے رہے ہیں۔”وقت کرتا ہے پرورش برسوں- حادثہ ایک دم نہیں ہوتا“ والے شعر میں چھپی بصیرت کو بھلادیتے ہیں۔

کراچی کا واقعہ ہوا تو میرے بوکھلائے ذہن میں 2009 کے مناظر یاد آگئے۔ ا س برس تربت کے بھرے بازار سے ایک مشہور سیاسی کارکن – غلام محمد- کو ”نامعلوم افراد“ نے اٹھا لیا۔بعد ازاں اس کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ اس واقعہ نے بلوچستان کے ساحلی شہریوں میں غصے اور نفرت کی شدید تر آگ بھڑکائی۔ نوجوان انتہا پسندوں نے اعلان کر دیا کہ وہ اب کسی ”پنجابی“ کو اپنے ہاں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اتفاق سے جب یہ اعلان ہوا تو میں ”آج ٹی وی“ کے لئے ”بولتا پاکستان“ کے عنوان سے لائیو پروگرام کر رہا تھا۔پروگرام کا اختتام کرتے ہوئے میں نے بڑھک لگا دی کہ میں اسلام آباد لوٹنے کے بجائے کل صبح تربت جاﺅں گا۔

پروگرام ختم ہوا تو ”آج ٹی وی“ کی انتظامیہ نے پرخلوص تشویش کے ساتھ مجھے تربت جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ میں اپنی بات پر ڈٹا رہا اور اس ضمن میں میرے ساتھی مشتاق منہاس نے بھی گھبرانے سے انکار کردیا۔ ہم دونوں تربت پہنچے تو وہاں کے شاندار چوک میں سینکڑوں نوجوان احتجاج کررہے تھے۔ میرے لئے فوری حیرت کا باعث مگر وہاں سو سے زیادہ پڑھی لکھی بچیوں کی موجودگی تھی۔ وہ لڑکوں سے زیادہ مشتعل اور پرجوش نظر آئیں۔ میں نے ان سے رابطہ کیا اور ٹی وی کیمرو ں کے روبرو انٹرویو کی فرمائش کی تو انہوں نے انتہائی غصے سے انکار کردیا۔ میں نے پرخلوص ڈھٹائی سے انہیں یہ کہتے ہوئے بالآخر آمادہ کرلیا کہ ان کا کہا ایک ایک لفظ کسی کانٹ چھانٹ کے بغیر آن ایئرجائے گا۔ میں اپنا وعدہ نبھانے میں کامیاب رہا۔اس کی وجہ سے گوادر اور کوئٹہ میں کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے میرے ساتھ لائیو پروگرام میں گفتگو کی۔ ان میں سے چند افراد اگرچہ کیمرے کے روبرو مجھے آئی ایس پی آر کا ”ایجنٹ“ بھی قرار دیتے رہے۔ الزام لگایا کہ میں عسکری قیادت کے ”حکم“ پر ان کے جذبات ٹھنڈے کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

یہ الگ بات ہے کہ میری کاوش ہمار ے حکمران طبقات کو پسند نہیں آئی تھی۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ لاتعلقی ان دنوں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی نے دکھائی۔کیمرے کے روبرو میرے سوالات کا جواب دینے کو رضا مند نہیں ہوئے۔ وہاں کے چیف سیکرٹری کھوسہ صاحب تھے۔ آف دی ریکارڈ ملاقات میں البتہ وہ واقعتاً فکر مند نظر آئے۔ وفاق میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت بھی فکر مند تھی۔ بلوچستان کے ساتھ ماضی میں ہوئی زیادتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی کی طلب گار ہوئی۔بلوچستان کے لئے ایک خصوصی پیکیج بھی تیار ہوا۔2013میں قائم ہوئی نواز حکومت بھی اس ضمن میں آگے بڑھنا چاہ رہی تھی۔ اگست 2014 سے مگر ”جب آئے گا عمران“ والے دھرنے شروع ہوگئے اور بلوچستان بھلا دیا گیا۔

اگست 2018 میں بالآخر عمران خان صاحب ہمارے وزیر اعظم ہوئے تو اختر مینگل ان کے اتحادی ہوئے۔ مجھ سادہ لوح نے امید باندھی کہ عمران حکومت بلوچستان کے حوالے سے بھی کچھ ”نیا“ کرنا چاہے گی۔ عمران خان صاحب نے مگر دیگر کئی اہم معاملات کی طرح بلوچستان بھی غیر سیاسی قوتوں کو آﺅٹ سورس کر دیا۔ اکبر بگٹی کے قتل کے بعد سے نمودار ہوئی لہر پر قابو پانے کے بجائے اسے مزید بھڑکنے دیا۔”برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد“ میڈیا بھی بلوچستان پر کماحقہ ہی نہیں سرسری توجہ بھی نہیں دے پایا۔

عمر کے آخری حصے میں گھر کے کونے میں دب کے بیٹھا مجھ ایسا بے وقعت صحافی محض فریاد ہی کرسکتا ہے کہ بلوچستان کو روایتی زاویوں سے دیکھنا ترک کر دیا جائے۔

(بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت)