مسجد نبویﷺ میں وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف نعرے بازی، ملک بھر میں رد عمل
پاکستانی زائرین کے ایک گروپ نے مسجد نبویﷺ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں سے بدتمیزی کی اور ان کے خلاف نعرے بازی کی۔
وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر گزشتہ روز سعودی عرب پہنچے تھے۔ ان کے ہمراہ دورے پر بلاول بھٹو زرداری، مفتاح اسمٰعیل، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، چوہدری سالک حسین، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، محسن داوڑ اور مولانا طاہر اشرفی سمیت دیگر بھی موجود ہیں۔
حکام جمعرات کی سہ پہر سعودی عرب پہنچے تھے اور بعد میں مسجد نبویﷺ میں نماز ادا کی۔ تاہم مسجد نبویﷺ میں اس وقت افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے جب وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کا وفد وہاں پہنچا۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیوز کے مطابق مسجد میں موجود پاکستانی زائرین نے وزیر اعظم کو دیکھتے ہی ’چور‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔
ایک اور ویڈیو میں زائرین کو وفاقی وزرا مریم اورنگزیب اور شاہ زین بگٹی سے بدتمیزی اور انہیں گالیاں دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان دونوں وزرا کو سعودی حفاظتی گارڈز نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔
بعد ازا ایک ویڈیو پیغام میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ فعل ایک ’مخصوص گروپ‘ نے کیا جبکہ زیادہ تر پاکستانی مقدس مسجد کے تقدس کا احترام کرتے ہیں۔ میں اس واقعے کے ذمہ دار شخص کا نام نہیں لینا چاہتی کیونکہ میں اس مقدس سرزمین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے کی دعا کی ہے تاہم جس طرح ان لوگوں نے ہمارے معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے تو ہمیں ان معاملات کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور ہم اسے صرف مثبت رویے کے ذریعے ہی بہتر کرسکتے ہیں۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کا مقصد 27 رمضان المبارک کو گندے نعرے لگانے اور الزامات لگانے کے بجائے مسجد نبویﷺ میں سربسجود ہونا اور اپنی آوازیں پست کرنا ہے۔
ٹوئٹر پر سیاست دانوں اور مذہبی اسکالرز نے واقعے کی مذمت کی اور کچھ نے اس کا الزام پاکستان تحریک انصاف پر عائد کیا۔ مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مسجدِ نبویﷺ کے احاطے میں مریم اورنگزیب کو گالی دی گئی۔ اس سے بڑی بدبختی کیا ہو سکتی ہے کہ مغفرت کی راتوں میں، دنیا کی پاک ترین جگہ پر پاک ترین ہستی کے در پر رحمتیں اور مغفرت سمیٹنے کے بجائے انسان دونوں جہانوں کی ذلتیں سمیٹ آئے؟
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی بہن آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی عدم برداشت اور تفرقہ بازی کو ہوا دے رہی ہے۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج مسجد نبوی میں احتجاج کی صورت میں جو حرم شریف کی پامالی کی گئی یہ اسلام میں بالکل درست نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں جو غصہ پایا جاتا ہے ہمیں اس کا احساس ہے لیکن مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرنا ہم سب پر لازم ہے۔
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزار سیاسی اختلاف ہو لیکن اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور نہ ہی سیاسی اختلاف دشمنی میں بدلے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد نبویﷺ یا اس کے احاطہ میں کسی بھی صورت میں نعرہ بازی مناسب نہیں۔ یہ آداب کے خلاف اور سخت منع ہے، یہ عوامی ردعمل تھا لیکن مسجد نبویﷺ کا احترام ہر صورت، ہر حال میں مقدم ہے۔
مسجدِ نبوی میں اس طرح کی نعرے بازی کو سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے مقدس مقام کی توہین قرار دیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں ٹوئٹر پر 'توہین مسجدِ نبوی نامنظور' کا ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔
وفاقی کابینہ کے رکن محسن داوڑ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مسجدِ نبوی میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کا منصوبہ بندی سے حکومتی رہنماؤں کے ساتھ گالم گلوچ کا شرمناک واقعہ قابلِ مذمت ہے۔ ان کے بقول یہ رویہ سیاسی و سماجی کلچر کی تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔
محسن داوڑ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا واقعہ آپ کے بدترین اختتام کا آغاز ثابت ہو گا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے مریم اورنگزیب کے ویڈیو بیان پر کہا ہے کہ یہ عام پاکستانی ہیں جو اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ یہ سمجھ لینا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ تحریکِ انصاف کے کارکن ہیں، اس پر انہیں شرم آنی چاہیے۔